افغان زیرِ تعلیم طلبہ کو واپس بھیجنے کا اقدام مضحکہ خیز ہے، اسد قیصر

asadqaiser

اسلام آباد: تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی جانب سے پاکستان میں زیرِ تعلیم افغان طلبہ کو واپس بھیجنے کے فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے مضحکہ خیز اور طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف قرار دیا ہے۔

اپنے ویڈیو بیان میں اسد قیصر نے کہا کہ پی ایم ڈی سی نے افغان زیرِ تعلیم طلبہ کو پاکستان سے واپس جانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے حالانکہ ان طلبہ نے حکومتی پالیسی کے تحت پاکستان کے میڈیکل کالجوں میں داخلہ لیا تھا اور ان کی تعلیم ابھی مکمل نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ حکومتوں کے درمیان تعلقات کبھی بہتر اور کبھی خراب ہوتے رہتے ہیں، ایسے اقدامات سے عوام کے دلوں میں پیدا ہونے والی نفرت طویل عرصے تک برقرار رہتی ہے۔ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنا کسی صورت مناسب نہیں۔

انہوں نے پی ایم ڈی سی کے نوٹیفکیشن کی پرزور مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اسے فوری طور پر واپس لیا جائے اور زیرِ تعلیم افغان طلبہ کو اپنی ڈگریاں مکمل کرنے کا موقع دیا جائے، پالیسی بنانے والوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ کیا ان کے اندر کوئی اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ وہ یہ معاملہ قومی اسمبلی میں اٹھائیں گے اور اس پر بات کریں گے جبکہ پی ایم ڈی سی کے اقدام کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں کیس بھی دائر کیا گیا ہے۔انہوں نے افغان طلبہ کو یقین دہانی کرائی کہ ’’ہم ہر فورم پر آپ کے لیے آواز اٹھائیں گے۔‘‘

واضح رہے کہ پی ایم ڈی سی کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں پاکستان کے میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں زیرِ تعلیم افغان طلبہ کے حوالے سے انتظامی کارروائی مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

پی ایم ڈی سی نے میڈیکل کالجوں کو آگاہ کیا ہے کہ موجودہ تعلیمی سیشن میں افغان شہریوں کو میڈیکل اور ڈینٹل پروگرامز میں داخلہ دینے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ اس کے علاوہ افغان شہریوں کو میڈیکل اور ڈینٹل اداروں میں پلیسمنٹ، ٹرانسفر اور مائیگریشن کی اجازت بھی نہیں ہوگی۔

پی ایم ڈی سی نے خبردار کیا ہے کہ احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف پی ایم ڈی سی ایکٹ 2022 کے تحت ریگولیٹری کارروائی کی جاسکتی ہے۔

مزید خبریں

Scroll to Top