بھارت میں سوشل میڈیا کے لیے اسٹنٹ کی ویڈیو بنانے کی کوشش ایک نوجوان کو مہنگی پڑ گئی، 30 فٹ کی بلندی سے ڈیم میں چھلانگ لگانے کے نتیجے میں اس کی دونوں ٹانگوں کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ ریاست اترپردیش کے شہر جھانسی میں پیش آیا، جہاں ایک نوجوان اپنے دوستوں کے ساتھ پاہوج ڈیم پر موجود تھا اور سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے لیے ایک خطرناک اسٹنٹ کی ویڈیو بنانے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔
رپورٹس کے مطابق نوجوان نے ویڈیو بنانے کے لیے ڈیم کی بلندی سے پانی میں چھلانگ لگانے کا فیصلہ کیا۔ نوجوان نے ڈیم میں پانی کی گہرائی کا اندازہ لگانے میں غلطی کی اور تقریباً 30 فٹ کی بلندی سے چھلانگ لگا دی۔
پانی توقع کے مطابق گہرا نہیں تھا اور نوجوان پانی میں گرنے کے بجائے ڈیم کے اندر موجود پتھروں سے جا ٹکرایا، جس کے نتیجے میں اسے شدید چوٹیں آئیں۔حادثے کے فوری بعد نوجوان درد کی شدت سے چیخنے چلانے لگا، جس پر قریب موجود افراد نے صورتحال دیکھ کر فوری طور پر مدد کی اور پولیس کو اطلاع دی۔
اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی اور زخمی نوجوان کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد بتایا کہ حادثے کے نتیجے میں اس کی دونوں ٹانگوں کی ہڈیاں ٹوٹ گئی ہیں۔ڈاکٹروں نے نوجوان کو طبی امداد فراہم کرنے کے بعد اس کی دونوں ٹانگوں کا آپریشن کیا، نوجوان کو حادثے کے بعد شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑا، تاہم بروقت طبی امداد ملنے کے باعث اس کا علاج شروع کردیا گیا۔
واقعے نے ایک بار پھر سوشل میڈیا کے لیے خطرناک اسٹنٹ کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان پر سوالات اٹھا دیے ہیں کیونکہ ویوز اور لائکس حاصل کرنے کی کوشش میں نوجوان اکثر ایسے اقدامات کر بیٹھتے ہیں جو ان کی زندگی کو شدید خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔
ماہرین اور ریسکیو حکام ماضی میں بھی شہریوں کو خبردار کرتے رہے ہیں کہ ڈیمز، دریا، آبشاروں اور دیگر بلند مقامات پر ویڈیو یا سیلفی بنانے کے لیے خطرناک اسٹنٹ سے گریز کیا جائے، کیونکہ پانی کی گہرائی اور نیچے موجود رکاوٹوں کا درست اندازہ لگانا اکثر ممکن نہیں ہوتا۔
جھانسی میں پیش آنے والے اس واقعے میں بھی نوجوان نے پانی کی سطح کو محفوظ سمجھتے ہوئے چھلانگ لگائی، مگر چند سیکنڈ کی ویڈیو بنانے کی کوشش اسے اسپتال پہنچانے کا سبب بن گئی۔















