روزانہ دہی کا استعمال انسانی صحت کے لیے انتہائی مفید ہے کیونکہ یہ پروٹین، کیلشیم اور پروبائیوٹکس جیسے ضروری اجزاء سے بھرپور ہوتا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اپنی روزمرہ خوراک میں دہی کو شامل کرنے سے نہ صرف جسمانی توانائیاں بحال رہتی ہیں بلکہ بیماریوں سے بچاؤ بھی ممکن ہوتا ہے۔
دہی میں پروٹین کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے جو طویل وقت تک پیٹ کو بھرے رکھنے کا احساس دلاتی ہے۔ اس خصوصیت کی بدولت بار بار بھوک نہیں لگتی اور وزن کو متوازن رکھنے میں مدد ملتی ہے، اسی لیے ناشتے میں دہی کا استعمال ایک بہترین انتخاب ہے۔
قلبی صحت کے حوالے سے دہی کے نتائج حوصلہ افزا دیکھے گئے ہیں۔ کئی سائنسی تحقیقی رپورٹس کے مطابق دہی کا استعمال بلڈ پریشر کو معمول پر رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ جرنل آف ہائپر ٹینشن میں شائع شدہ تحقیق بھی ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے اس کی افادیت کی تصدیق کرتی ہے۔
کولیسٹرول کو منظم رکھنے میں بھی دہی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین نے ذیابیطس کے مریضوں پر کی گئی تحقیق کے بعد بتایا کہ پروبائیوٹک دہی کے روزانہ استعمال سے خون میں موجود مضر صحت کولیسٹرول یعنی ایل ڈی ایل کی سطح میں واضح کمی واقع ہوتی ہے جو دل کے لیے فائدہ مند ہے۔
دہی کیلشیم کا ایک قدرتی اور بہترین ذریعہ ہے، جو ہڈیوں کی مضبوطی کے ساتھ ساتھ پٹھوں اور اعصاب کی کارکردگی کو بھی بہتر بناتا ہے۔ جسم میں کیلشیم کی کمی ہونے پر ہڈیاں کمزور ہونے لگتی ہیں، لہذا دہی کا استعمال ان اہم اعضاء کی حفاظت کے لیے نہایت ضروری ہے۔
ہاضمے کے نظام کے حوالے سے دہی میں موجود پروبائیوٹکس آنتوں کے مفید بیکٹیریا کے توازن کو برقرار رکھتے ہیں۔ صحت مند آنتیں براہ راست انسانی مدافعتی نظام کو مضبوط کرتی ہیں، جس سے جسم مختلف قسم کے انفیکشنز اور بیماریوں کے خلاف بہتر طریقے سے لڑنے کی صلاحیت حاصل کر لیتا ہے۔
مجموعی طور پر دہی صرف ایک عام ڈیری پروڈکٹ نہیں بلکہ صحت کا ایک خزانہ ہے۔ اپنی روزانہ کی غذا میں اس کا مناسب استعمال ہڈیوں، دل، آنتوں اور قوتِ مدافعت کو بہتر بنانے کا ایک محفوظ اور قدرتی طریقہ ہے جسے ہر عمر کے افراد اپنی خوراک کا حصہ بنا سکتے ہیں۔















