گاڑی ٹکرانے کا تنازع، جامعہ کراچی کے پروفیسر پر تشدد، 3 ملزمان گرفتار

KARACHIUNIVERSITY

کراچی میں گاڑی ٹکرانے کے معمولی تنازع پر جامعہ کراچی کے شعبہ اسلامک لرننگ کے چیئرمین پروفیسر عارف خان ساقی اور ان کے بھتیجے کو تشدد کا نشانہ بنانے اور حبسِ بے جا میں رکھنے کے واقعے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے 3 ملزمان کو گرفتار کرلیا جبکہ مرکزی ملزم اور دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے تلاش جاری ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعہ صفورہ چورنگی کے قریب سندھ گرین ریسٹورنٹ کے سامنے پیش آیا، جہاں پروفیسر عارف خان ساقی اپنے بھتیجے اور ڈرائیور محمد وحید کے ہمراہ جامعہ کراچی جارہے تھے، ریسٹورنٹ سے ایک سیاہ رنگ کی ڈبل کیبن گاڑی باہر نکل رہی تھی کہ سیکیورٹی گارڈ کے اشارے پر انہوں نے اپنی گاڑی روک لی۔

پروفیسر عارف خان ساقی کے بیان کے مطابق اسی دوران ڈبل کیبن تیزی سے پیچھے کی جانب آئی اور ان کی گاڑی کے اگلے حصے سے ٹکرا گئی، جس سے گاڑی کا بونٹ متاثر ہوا،انہوں نے ڈبل کیبن میں سوار افراد سے کہا کہ گاڑی ایک غریب نوجوان چلا رہا ہے، اس کے نقصان کی تلافی کردی جائے۔

پروفیسر کے مطابق معاملہ اس وقت سنگین ہوگیا جب ریسٹورنٹ کے مالک کا بیٹا اسلحہ لے کر باہر آیا، ملزم نے ہوائی فائرنگ کی اور انہیں اور ان کے بھتیجے کو پستول کے بٹ مار کر زخمی کردیا۔

پروفیسر عارف خان ساقی نے پولیس کو دیے گئے بیان میں الزام عائد کیا کہ ملزم کے گن مین بھی بڑے ہتھیاروں کے ساتھ وہاں موجود تھے، جنہوں نے انہیں اور ان کے بھتیجے کو سر اور سینے پر اسلحے کے بٹ مارے۔ تشدد کے نتیجے میں دونوں زخمی ہوکر زمین پر گر گئے۔

مدعی کے مطابق اس دوران مزید 3 سے 4 نامعلوم افراد بھی وہاں پہنچ گئے اور مبینہ طور پر تشدد میں شامل ہوگئے۔ ان افراد نے پروفیسر اور ان کے بھتیجے کو اٹھا کر سندھ گرین ہوٹل کے اندر منتقل کیا، جہاں انہیں ،حبسِ بے جا میں رکھا گیا اور دوبارہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

پروفیسر کے مطابق ملزمان نے دونوں کے موبائل فون بھی چھین لیے تھے، تاہم بعد میں موبائل فون واپس کردیئے گئے، واقعے کے دوران ان کی گاڑی بھی اپنے ساتھ لے جائی گئی۔

زخمی پروفیسر عارف خان ساقی کو بعد ازاں سچل تھانے منتقل کیا گیا، جہاں ان کا ویڈیو بیان بھی سامنے آیا۔ انہوں نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے گھر سے بھتیجے ڈرائیور وحید کے ہمراہ جامعہ کراچی جارہے تھے کہ رم جھم کے قریب سندھ گرین ریسٹورنٹ کے سامنے یہ واقعہ پیش آیا۔

پولیس نے پروفیسر عارف خان ساقی کی مدعیت میں مقدمہ نمبر 1412 سال 2026 درج کرلیا۔ مقدمے میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 147، 148، 149، 324 اور 342 شامل کی گئی ہیں۔ایس ایچ او سچل اعجاز پٹھان کے مطابق جامعہ کراچی کے شعبہ اسلامک لرننگ کے چیئرمین کا گاڑی ٹکرانے پر جھگڑا ہوا تھا اور جھگڑے کے دوران سندھ گرین ہوٹل کے مالک کے بیٹے کے گن مینوں نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔

پولیس حکام کے مطابق واقعے میں ملوث 3 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ مرکزی ملزم سمیت دیگر نامزد اور نامعلوم ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔واقعے کا وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے بھی نوٹس لے لیا۔ انہوں نے ایس ایس پی ڈسٹرکٹ ایسٹ سے رابطہ کرکے واقعے کی تفصیلات اور قانونی کارروائی سے متعلق رپورٹ طلب کی۔

وزیر داخلہ سندھ کا کہنا تھا کہ اساتذہ معاشرے کا قابل احترام طبقہ ہیں اور ان کے وقار، عزت اور تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ کسی بھی شخص کو قانون ہاتھ میں لینے، استاد کی تضحیک یا ان کے ساتھ بدسلوکی کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

ضیا الحسن لنجار نے ہدایت کی کہ واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی کی جائے،اساتذہ کا احترام معاشرتی اور اخلاقی ذمہ داری ہے اور ان کے وقار پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا،ایس ایس پی ڈسٹرکٹ ایسٹ نے انہیں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ واقعے میں ملوث 3 ملزمان پولیس کی تحویل میں ہیں اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جارہی ہے۔

دوسری جانب انجمن اساتذہ جامعہ کراچی نے بھی واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔ جوائنٹ سیکریٹری انجمن اساتذہ ڈاکٹر شیخ محمد ذیشان اقبال نے کہا کہ شعبہ اسلامک لرننگ کے استاد عارف خان ساقی کو زدوکوب کرنے اور مبینہ طور پر غیر قانونی حبسِ بے جا میں رکھنے کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے ہر مہذب معاشرے میں اساتذہ کے وقار، احترام اور تحفظ کو یقینی بنایا جاتا ہے، اس لیے واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ معاشرے میں استاد کی عزت و تکریم کو مقدم رکھا جاسکے۔

سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن نے بھی جامعہ کراچی کے پروفیسر پر تشدد کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث تمام عناصر کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

واقعے نے کراچی میں بااثر افراد اور ان کے محافظوں کی جانب سے مبینہ طور پر قانون ہاتھ میں لینے اور شہریوں سے بدسلوکی کے حوالے سے ایک بار پھر سوالات اٹھا دیے ہیں جبکہ پولیس کی جانب سے مرکزی ملزم سمیت دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔

مزید خبریں

Scroll to Top