اسرائیلی بستیوں پر برطانیہ کی پابندیاں، اسرائیل کا جوابی وار؛ برطانوی قونصل خانہ بند کرنے کا اعلان

Israel spying

لندن:برطانیہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی بستیوں کے خلاف پابندیوں کا اعلان کردیا، جس پر اسرائیل نے سخت ردعمل دیتے ہوئے مشرقی یروشلم میں برطانوی قونصل خانہ بند کرنے سمیت متعدد جوابی اقدامات کا اعلان کردیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تازہ سفارتی کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع اور فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے مبینہ تشدد پر عالمی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے پارلیمنٹ میں پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی حکومت مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی قبضے اور غیر قانونی بستیوں کی توسیع کو بین الاقوامی قانون کے منافی سمجھتی ہے، برطانیہ بستیوں سے آنے والی اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرے گا جبکہ ان بستیوں کی توسیع کے لیے خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں اور افراد کو بھی مستقبل میں پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ایڈ ملی بینڈ نے اسرائیلی آبادکاروں پر فلسطینیوں کے خلاف کارروائیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بعض واقعات کو ’’نسلی تطہیر‘‘ قرار دیا جارہا ہے۔ انہوں نے اسرائیلی حکومت پر ایسے اقدامات کے حوالے سے آنکھیں بند رکھنے کا الزام بھی عائد کیا۔

برطانوی وزیر خارجہ کے مطابق آئندہ 6 سے 9 ماہ کے دوران ایک جامع پابندیوں کا نظام متعارف کرایا جائے گا، جس کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے کی غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے متعلق مختلف تجارتی اور کاروباری سرگرمیوں کو ہدف بنایا جائے گا۔ برطانیہ میں ان بستیوں کی تشہیر پر بھی پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

برطانوی حکومت کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات کا ہدف اسرائیل بحیثیت ریاست نہیں بلکہ مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم غیر قانونی بستیاں اور ان کی توسیع کا عمل ہے، بستیوں کی مسلسل توسیع فلسطینی علاقوں میں آبادیاتی تبدیلی کا سبب بن رہی ہے اور اس سے مستقبل میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر مبنی دو ریاستی حل کے امکانات کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

برطانیہ کی جانب سے پابندیوں کا اعلان اسرائیل کے مغربی کنارے کے حساس علاقے E1 میں تقریباً 1,200 نئے مکانات تعمیر کرنے کے منصوبے کے بعد سامنے آیا ہے،اس منصوبے پر عمل درآمد سے مغربی کنارے میں فلسطینی علاقوں کا باہمی رابطہ متاثر ہوسکتا ہے اور دو ریاستی حل کے لیے درکار جغرافیائی تسلسل مزید کمزور پڑ سکتا ہے۔

ایڈ ملی بینڈ نے غزہ میں جاری جنگ کے دوران سامنے آنے والے جنگی جرائم کے الزامات کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے سنگین الزامات کا فیصلہ سیاسی بیانات کے بجائے بین الاقوامی قانونی عمل کے ذریعے ہونا چاہیے۔ دوسری جانب اسرائیلی قیادت نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم سے متعلق الزامات کو مسلسل مسترد کرتی رہی ہے۔

اسرائیل کا سخت جوابی ردعمل

برطانوی اعلان کے فوری بعد اسرائیل نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ اسرائیلی وزیر خارجہ گیدیون ساعر نے برطانوی اقدام کو اسرائیل کے خلاف معاندانہ پالیسی کا حصہ قرار دیتے ہوئے مشرقی یروشلم میں قائم برطانوی قونصل خانہ بند کرنے کا اعلان کردیا۔

اسرائیل نے برطانیہ کے 11 ارکان پارلیمنٹ کے ملک میں داخلے پر بھی پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پابندی کی زد میں آنے والی شخصیات میں جیریمی کوربن، ڈائین ایبٹ اور گرین پارٹی کے 5 موجودہ ارکان بھی شامل ہیں۔ اسرائیلی وزیر خارجہ نے ان ارکان پر اسرائیل مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے ہیں۔

اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے بھی برطانیہ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پابندیاں مسئلے کا حل نہیں،اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تنازع کے حل کے لیے مختلف فریقوں کو کشیدگی بڑھانے کے بجائے سیاسی اور سفارتی راستے تلاش کرنے چاہئیں۔

متعدد ممالک کی اسرائیلی بستیوں کے خلاف پالیسی

مغربی کنارے کی اسرائیلی بستیوں کے معاملے پر برطانیہ اکیلا ملک نہیں جس نے سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ فرانس، کینیڈا، اسپین، ناروے، سویڈن، آئرلینڈ، پولینڈ اور دیگر ممالک بھی اسرائیلی بستیوں کے خلاف مختلف اقدامات کی حمایت کرچکے ہیں۔

ان ممالک کا کہنا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی مسلسل توسیع فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے اور دو ریاستی حل کے امکانات کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ فلسطینی صدر نے برطانیہ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کی جانب اہم قدم قرار دیا ہے۔

امریکا نے برطانیہ کا ساتھ دینے سے انکار کردیا

دوسری جانب امریکا نے برطانیہ کے اس اقدام کی پیروی نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن برطانیہ کی جانب سے اسرائیلی بستیوں کے خلاف عائد کی جانے والی پابندیوں کو اختیار نہیں کرے گا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سفیر مائیک ہکابی نے بھی برطانوی اقدام پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ امریکا ممکنہ طور پر برطانوی کاروباری اداروں کے خلاف جوابی اقدامات پر غور کرسکتا ہے۔

مغربی کنارے میں بستیوں کا تنازع

واضح رہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کا معاملہ کئی دہائیوں سے عالمی تنازع کا مرکز ہے۔ 1967 کی جنگ کے بعد اسرائیل نے مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں بڑی تعداد میں بستیاں قائم کیں، جہاں تقریباً 7 لاکھ اسرائیلی آبادکار رہائش پذیر ہیں۔

بین الاقوامی برادری کی اکثریت ان بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دیتی ہے جبکہ اسرائیل اس مؤقف کو مسترد کرتا ہے۔ بستیوں کی توسیع، فلسطینی علاقوں میں آبادکاروں کی سرگرمیوں اور فلسطینیوں کے خلاف تشدد کے باعث اسرائیل کو عالمی سطح پر مسلسل تنقید کا سامنا ہے۔

برطانیہ کی نئی پابندیوں اور اسرائیل کے جوابی اقدامات سے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود اختلافات مزید گہرے ہوگئے ہیں۔

مزید خبریں

Scroll to Top