اماراتی صدر نے 7 اکتوبر حملے سے پہلے نیتن یاہو کو حماس کی ممکنہ کارروائی سے خبردار کیا تھا: اسرائیلی اخبار

uaepresidentandisraelprimeministerbenjaminnetanyahu

ایک اسرائیلی اخبار کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حماس کی جانب سے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر بڑے حملے سے تقریباً 10 روز قبل متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے براہِ راست رابطہ کرکے ممکنہ حملے سے خبردار کیا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق اماراتی صدر نے اسرائیلی وزیر اعظم کو آگاہ کیا تھا کہ حماس اسرائیل کے خلاف ایک بڑی کارروائی کی تیاری کررہی ہے، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر خونریزی کا خدشہ ہے۔ تاہم نیتن یاہو نے اس اہم اطلاع کو اسرائیلی سکیورٹی حکام تک منتقل نہیں کیا اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی مؤثر کارروائی کی گئی۔

اسرائیلی اخبار نے یہ تفصیلات صحافی شلومی ایلڈر اور روتھ یووال کی نئی کتاب کے حوالے سے شائع کی ہیں۔ کتاب کی تیاری کے دوران دنیا کے مختلف ممالک کے اعلیٰ حکام سمیت درجنوں افراد کے انٹرویوز کیے گئے، جن سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر 7 اکتوبر کے حملے سے پہلے کے حالات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ستمبر 2023 کے آخری دنوں میں محمد بن زاید اور نیتن یاہو کے درمیان تقریباً 45 منٹ تک ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی تھی۔ اس رابطے کی تفصیلات سے 3 اعلیٰ غیر ملکی حکام کو بھی آگاہ کیا گیا تھا۔

اسرائیلی اخبار نے ایک فلسطینی مشیر کا حوالہ بھی دیا ہے جو غزہ سے متحدہ عرب امارات منتقل ہوئے تھے اور اس گفتگو سے براہِ راست واقفیت رکھتے تھے۔ ان کے مطابق اماراتی صدر نے نیتن یاہو کو حماس کے اس وقت کے رہنما یحییٰ سنوار کی جانب سے اسرائیل کے خلاف بڑی کارروائی کی تیاری کے بارے میں متنبہ کیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق محمد بن زاید نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ حماس کی ممکنہ کارروائی کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوسکتا ہے، خطے کا امن شدید متاثر ہوسکتا ہے اور اسرائیل و عرب ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے کیے گئے ’معاہدات ابراہیمی‘ بھی خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 45 منٹ جاری رہنے والی گفتگو کے دوران نیتن یاہو کے نسبتاً مطمئن ردعمل نے اماراتی صدر کو حیران کردیا۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے مبینہ طور پر انہیں یقین دلایا کہ اسرائیل غزہ کی صورتحال پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہے اور حماس کی جانب سے کسی ممکنہ کارروائی کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے۔

رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ اگر حماس کی جانب سے کوئی کارروائی کی گئی تو اس کا ممکنہ مرکز غزہ کے بجائے مغربی کنارہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے اماراتی صدر کو بتایا کہ اسرائیل کسی بھی ممکنہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اسرائیلی اخبار کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محمد بن زاید کو حماس کی ممکنہ کارروائی سے متعلق معلومات براہِ راست یحییٰ سنوار کی جانب سے حاصل ہوئی تھیں۔ دعوے کے مطابق سنوار 2023 کے وسط میں اسرائیل کے ساتھ فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے لیے ہونے والے مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے پر سخت ناخوش تھے۔

رپورٹ کے مطابق اسی پس منظر میں حماس کی جانب سے اسرائیل کے خلاف کسی بڑی کارروائی کے امکانات سے متعلق اطلاعات سامنے آئی تھیں، جنہیں اماراتی صدر نے مبینہ طور پر اسرائیلی وزیر اعظم تک پہنچایا تھا۔

اگر رپورٹ میں کیے گئے دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ ان معلومات میں ایک اہم اضافہ ہوگا جو 7 اکتوبر 2023 کے حملے سے قبل اسرائیلی حکام کو ممکنہ خطرے سے متعلق ملنے والی اطلاعات کے بارے میں سامنے آتی رہی ہیں۔ تاہم رپورٹ میں بیان کردہ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

مزید خبریں

Scroll to Top