اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے اسٹیل مینوفیکچرنگ سیکٹر کے لیے سیلز ٹیکس کے قوانین میں سخت تبدیلی کرتے ہوئے بجلی کے استعمال پر 5 روپے فی یونٹ اضافی ٹیکس عائد کر دیا ہے۔ اس اقدام سے اسٹیل کی پیداواری لاگت میں براہ راست اضافہ متوقع ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ سیلز ٹیکس جنرل آرڈر نمبر 16 میں ترمیم کے بعد پانچ بڑی اسٹیل کمپنیوں کو نئی ٹیکس فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ ان کمپنیوں میں رشید اسٹیل، بٹالہ اسٹیل انڈسٹریز، رائل اسٹیل، پلاٹینم اسٹیل مل اور کے بی ایس اسٹیل فرنس شامل ہیں۔
اس نئے حکمنامے کا اطلاق مذکورہ کمپنیوں کے تمام بجلی کنکشنز پر فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ ایس آر او 1245 کے تحت طے کردہ مقررہ معیار کی بنیاد پر کیا گیا ہے تاکہ محصولات میں اضافہ کیا جا سکے۔
نئے ضوابط کے تحت اسٹیل مصنوعات کی تیاری میں استعمال ہونے والے اسکریپ اور بجلی کی کھپت کو ٹیکس کی اہلیت کا بنیادی معیار قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مخصوص ایچ ایس کوڈز کے تحت درآمد کیے جانے والے اسکریپ کو بھی اس نئے ٹیکس نیٹ ورک میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ایف بی آر کے مطابق ٹیکس دہندگان کی یہ فہرست حتمی نہیں ہے اور حکام کو ضرورت پڑنے پر اس میں نظرثانی کا مکمل اختیار حاصل ہوگا۔ متعلقہ کمشنر ان لینڈ ریونیو کی سفارشات کی روشنی میں ان کمپنیوں کی فہرست میں کسی بھی وقت تبدیلی یا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ رجسٹرڈ مینوفیکچررز کی اہلیت کا آزادانہ جائزہ لیا جائے گا تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ کسی بھی قسم کی عملی مشکلات یا شکایات کی صورت میں متاثرہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ معاملہ فوری طور پر متعلقہ کمشنر ان لینڈ ریونیو کے نوٹس میں لائیں۔















