کراچی: پیٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسز کے خلاف جماعت اسلامی کا گورنر ہاؤس کے باہر دھرنا 23ویں روز بھی جاری رہا۔ امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے حکومت سے پیٹرولیم لیوی فوری ختم کرنے اور بجلی و پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ کیا۔
منعم ظفر خان نے کہا کہ موجودہ اتحادی حکومت نے ڈھائی برس کے دوران فی لیٹر پیٹرول کی قیمت میں 178 روپے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 233 روپے اضافہ کرکے عوام پر مہنگائی کا بوجھ بڑھایا ہے،پیٹرولیم لیوی کی مد میں 3137 ارب روپے وصول کیے جاچکے ہیں اور عوام ملک کی تاریخ کا مہنگا ترین پیٹرول اور ڈیزل خرید رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسے ملک میں جہاں کروڑوں افراد خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، عوام سے پیٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسز کی مد میں بھاری رقم وصول کرنا ظلم ہے۔ عوام پریشان ہیں کہ بچوں کی تعلیم اور گھر کے اخراجات پورے کریں یا حکومت کو بھاری لیوی ادا کریں۔
منعم ظفر خان نے مطالبہ کیا کہ حکمران اپنی شاہ خرچیاں ختم کریں، بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کی جائیں اور مہنگائی کا خاتمہ کیا جائے۔ انہوں نے آئی پی پیز اور کے الیکٹرک کے معاملات پر بھی حکومت سے مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا۔
دھرنے کے 23ویں روز 7 ستمبر، یومِ ختم نبوت کے حوالے سے دھرنا گاہ میں ختم نبوت کانفرنس بھی منعقد کی گئی، جس میں علمائے کرام، جماعت اسلامی کے رہنماؤں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
کانفرنس سے مولانا عبد الوحید، جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق، مفتی علی زمان کاشمیری، مولانا ضیاء الرحمن فاروقی، علامہ عقیل انجم قادری، عبد القدوس احمدانی، مولانا علامہ روشن دین، مفتی معراج احمد صدیقی اور دیگر علمائے کرام نے خطاب کیا۔
مقررین نے ختم نبوت کے عقیدے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ 7 ستمبر 1974 کو آئینی ترمیم کے ذریعے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا۔ مقررین نے ختم نبوت کے تحفظ کے لیے جدوجہد کرنے والے علما اور کارکنوں کو خراج عقیدت بھی پیش کیا۔
دھرنے کے شرکا سے اظہار یکجہتی کے لیے گزشتہ شب شاہ لطیف ٹاؤن سے ایک قافلہ 40 کلومیٹر پیدل سفر کرکے گورنر ہاؤس پہنچا۔ قافلے کی قیادت کامران نواز، قدر گل اور دیگر نے کی۔ منعم ظفر خان نے دھرنا گاہ پہنچنے پر قافلے کا استقبال کیا۔
دوسری جانب بلدیہ ٹاؤن سے سائیکل ریلی بھی نکالی گئی، جس میں 127 سائیکل سوار شریک ہوئے۔ ریگل چوک پر منعم ظفر خان نے ریلی کا استقبال کیا اور بعد ازاں خود سائیکل چلا کر ریلی کی قیادت کرتے ہوئے گورنر ہاؤس پہنچے۔
رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق، امیر ضلع کیماڑی مولانا فضل احد اور دیگر ذمہ داران نے بھی سائیکل ریلی میں شرکت کی۔ منعم ظفر خان نے پیدل قافلے اور سائیکل ریلی کے شرکا کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں نے پیٹرولیم لیوی اور حکومت کی پالیسیوں کے خلاف منفرد انداز میں احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔
منعم ظفر خان نے سندھ حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کو وڈیروں، جاگیرداروں اور مراعات یافتہ طبقے کے مفادات کی فکر ہے، اگر سندھ حکومت کو عوام کی فکر ہوتی تو صوبے میں لاکھوں بچے تعلیم سے محروم نہ ہوتے اور تعلیمی اداروں کو بنیادی سہولیات کی کمی کا سامنا نہ ہوتا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ 16 برسوں میں تعلیم پر اربوں روپے خرچ کیے جانے کے باوجود سندھ میں شرح خواندگی میں بہتری کے بجائے کمی آئی ہے، کراچی سمیت سندھ کے دیگر شہروں اور دیہی علاقوں میں عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں بھی حکومت ناکام رہی ہے۔
منعم ظفر خان نے کہا کہ کراچی میں شہریوں کو نلکوں سے پانی دستیاب نہیں، جبکہ ٹینکر مافیا کے ذریعے پانی کی فروخت جاری ہے۔ انہوں نے سندھ حکومت سے شہریوں کے بنیادی مسائل فوری حل کرنے کا مطالبہ کیا۔
دھرنے کے شرکا سے خطاب میں جماعت اسلامی کراچی کے امیر نے ایک بار پھر واضح کیا کہ پیٹرولیم لیوی کے خاتمے، مہنگائی میں کمی اور عوام کو ریلیف کی فراہمی تک احتجاجی تحریک جاری رہے گی۔















