میر رضا کیس: ایڈووکیٹ جنرل کی مداخلت پر جوڈیشل کمیشن برہم، صوبائی وزیر داخلہ طلب

ali-raza

کراچی: میر رضا علی کیس کی جوڈیشل انکوائری کرنے والے کمیشن نے آج کی کارروائی کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا، جس میں ایڈووکیٹ جنرل سندھ کی جانب سے کارروائی میں مداخلت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے کارروائی میں خلل ڈالنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ کمیشن نے صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار کو 10 ستمبر کو پیش ہونے کا نوٹس بھی جاری کردیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق میر رضا علی کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کی جانب سے جاری تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر سمعیہ سید کے بیان کے دوران ایڈووکیٹ جنرل سندھ جواد ڈیرونے کارروائی میں مداخلت کی، جس پر کمیشن نے افسوس کا اظہار کیا۔

حکم نامے میں کہا گیا کہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے مقتول کے اہل خانہ کے وکیل کی جانب سے خاندان کی طرف سے سوالات کیے جانے پر اعتراض کیا،صوبائی حکومت کے اعلیٰ ترین قانونی افسر کی جانب سے اس نوعیت کا اعتراض حیران کن ہے، خصوصاً ایسے موقع پر جب پولیس سرجن پوسٹ مارٹم کے عمل کے دوران سینئر پولیس افسران کے کردار سے متعلق اپنا بیان ریکارڈ کرا رہی تھیں۔

جوڈیشل کمیشن نے واضح کیا کہ مقتول کے اہل خانہ کی جانب سے ان کے وکیل کے ذریعے کسی وضاحت کے حصول کے لیے سوال کیا جانا بذاتِ خود کارروائی میں مداخلت نہیں، بلکہ کسی سوال کا کمیشن کی کارروائی سے تعلق ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ کرنے کا اختیار کمیشن کے پاس ہے۔

تحریری حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ کمیشن کے ٹرمز آف ریفرنس کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ میر رضا علی کیس سے متعلق اصل حقائق اور حالات کو سامنے لایا جائے۔ کمیشن شفاف اور غیرجانبدار انداز میں اپنی ذمہ داری پوری کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جاسکے۔

حکم نامے میں میر رضا علی کیس میں جوڈیشل کمیشن کے قیام کے پس منظر کا بھی ذکر کیا گیا۔ کمیشن کے مطابق محکمہ داخلہ کی قائمہ کمیٹی کی رکن فریال تالپور نے وزیراعلیٰ سندھ کو کیس کی شفاف، غیرجانبدار اور جامع تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی سفارش کی تھی۔

تحریری حکم نامے میں میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ فریال تالپور نے مقتول کے خاندان کو ہر صورت انصاف کی فراہمی اور کیس سے متعلق تمام حقائق عوام کے سامنے شفاف انداز میں لانے پر زور دیا تھا، سوگوار خاندان کو انصاف فراہم کرنا اور نظام انصاف پر عوام کا اعتماد برقرار رکھنا حکومت اور متعلقہ اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

کمیشن کے حکم نامے کے مطابق سندھ کے وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار اور وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے بھی اسی نوعیت کے جذبات کا اظہار کیا گیا ہے اور مقتول کے خاندان کو انصاف کی فراہمی کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔

جوڈیشل کمیشن نے قرار دیا کہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ کی جانب سے مقتول کے خاندان کے وکیل کو بعض وضاحتیں طلب کرنے سے روکنے یا اس پر اعتراض کرنے کا عمل افسوسناک ہے،کارروائی کے دوران پوچھے جانے والے سوالات میں سے کون سا سوال متعلقہ ہے اور کون سا نہیں، اس کا تعین کمیشن خود کرے گا۔

حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ کمیشن اپنے مینڈیٹ کے تحت کیس سے متعلق تمام اصل حقائق، حالات اور واقعات کو سامنے لانے کا پابند ہے اور اس مقصد کے لیے تمام متعلقہ افراد کے بیانات اور شواہد کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

کمیشن نے صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار کو 10 ستمبر کو پیش ہونے کا نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ وہ کمیشن کے سامنے پیش ہوکر اپنا مؤقف بیان کریں کہ آیا مقتول کے اہل خانہ کو اپنے وکیل کے ذریعے سوالات کرنے سے روکا جاسکتا ہے یا نہیں۔

تحریری حکم نامے میں کہا گیا کہ آج کی کارروائی ایڈووکیٹ جنرل سندھ کی جانب سے مقتول کے خاندان کے سوالات کو شفاف انداز میں زیرِ غور لانے سے روکنے کی دانستہ کوشش کے باعث روک دی گئی۔جوڈیشل کمیشن نے میر رضا علی کیس کی مزید سماعت 10 ستمبر کو صبح 9 بجے مقرر کردی ہے،گواہان کو آئندہ سماعتوں کی تاریخوں سے متعلق بعد میں آگاہ کیا جائے گا۔

میر رضا علی کیس کی تحقیقات کے لیے قائم کمیشن کی جانب سے کارروائی میں شفافیت اور تمام متعلقہ فریقین کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دینے پر زور ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کیس میں مقتول کے اہل خانہ انصاف اور مکمل حقائق سامنے لانے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ کمیشن کی آئندہ سماعت میں صوبائی وزیر داخلہ کی پیشی اور ان کے مؤقف سے کارروائی کے مزید پہلو سامنے آنے کی توقع ہے۔

مزید خبریں

Scroll to Top