ایران جارح قوتوں کو پچھتاوے پر مجبور کرکے ہی مزاحمت ختم کرے گا: مسعود پزشکیان

IranPresidentMasoudPezeshkian3

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران جارح قوتوں کے خلاف اپنی مزاحمت اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک انہیں اپنے اقدامات پر مکمل پچھتاوے پر مجبور نہ کردیا جائے۔

غیر ملکی خبر رساں ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران نے ہمیشہ جنگ کی مخالفت کی ہے اور تنازعات سے دور رہنے کو ترجیح دی ہے، تاہم ملک کی سلامتی اور خودمختاری کے خلاف کسی بھی جارحیت کا دفاع کرنا ایران کا حق اور ضرورت ہے۔

ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ایران اب تک جارحیت کے مقابلے میں مضبوطی سے اپنا دفاع کرتا آیا ہے اور آئندہ بھی ایرانی عوام کے مفادات، قومی حقوق اور خطے کے امن و سلامتی کے تحفظ کے لیے اپنی مزاحمت جاری رکھے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایران اپنی قوم کے حقوق کے دفاع سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹے گا اور موجودہ حالات میں بھی ایرانی عوام کے مفادات کا محافظ بن کر اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایران کے خلاف امریکی معاشی دباؤ کی حمایت پر کینیڈا کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کینیڈا نے امریکا کی خوشامد کو ترجیح دیتے ہوئے ایران کے خلاف ایسا مؤقف اختیار کیا ہے جو خطے کی اصل صورتِ حال کی عکاسی نہیں کرتا۔

اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ جس روز امریکی صدر نے کینیڈا کو امریکا کا حصہ قرار دیا، اسی روز کینیڈا کے وزرائے خارجہ اور خزانہ نے ایران کے خلاف بیان جاری کیا۔ اس بیان میں خطے کے حالات سے متعلق حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔

انہوں نے کینیڈا کے موجودہ مؤقف کو دباؤ کے سامنے جھکنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پالیسی کے ذریعے کینیڈا خود بھی مستقبل میں امریکی دباؤ اور جارحیت سے محفوظ نہیں رہ سکے گا۔

علاوہ ازیں ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے بھی امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے ایرانی میزائلوں کے ذریعے واشنگٹن کو واضح پیغام دے دیا گیا ہے۔

محسن رضائی کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف جاری معاشی جنگ کا جواب دینے کے لیے خلیج فارس میں بحری آمدورفت کے حوالے سے ممنوع زون قائم کیا جائے گا۔ ان کے مطابق ایران اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

ایرانی قیادت کے ان بیانات کے بعد خطے میں جاری کشیدگی کے دوران تہران کی جانب سے امریکا اور اس کے اتحادیوں کے خلاف سخت مؤقف برقرار رکھنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔

مزید خبریں

Scroll to Top