کراچی: منگھوپیر کے علاقے مہران سٹی میں ڈکیتی مزاحمت کے دوران پولیس وردی میں ملبوس نقاب پوش ڈاکوؤں کی فائرنگ سے میٹرک کا ذہین طالب علم جاں بحق ہوگیا۔
افسوسناک واقعہ پیر اور منگل کی درمیانی شب 4 بجے کے قریب مہران سٹی بلاک 6 میں پیش آیا۔
مقتول 17 سالہ روشم میٹرک کا امتحان پاس کرچکا تھا اور پوزیشن ہولڈر طالب علم تھا۔ مقتول کے والد ڈاکٹر روئداد خان نے میڈیا کو بتایا کہ 6 جدید اسلحہ بردار ڈاکوؤں نے گھر میں داخل ہونے کی کوشش کی، جن میں سے 2 ملزمان نے پولیس کی وردی پہن رکھی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ نقاب پوشوں کو دیکھ کر انہوں نے اپنا لائسنس یافتہ پستول اٹھایا لیکن بیٹا کمرے سے باہر نکل آیا۔ ڈاکوؤں نے انہیں اور بیٹے کو دیکھ کر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس سے روشم کے سینے میں گولی لگی اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔
ڈاکٹر روئداد خان نے بتایا کہ انہوں نے اس لیے فائرنگ نہیں کی کہ کہیں وہ پولیس اہلکار نہ ہوں اور جوابی کارروائی پر پورے خاندان کو ختم نہ کر دیں۔ ملزمان اس سے قبل علاقے کے 4 دیگر گھروں میں بھی ڈکیتی کی وارداتیں کر چکے تھے اور فرار ہوگئے۔
مقتول کے والد نے مقامی پولیس پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 2 ماہ کے دوران تھانہ منگھوپیر میں وارداتوں کے حوالے سے 3 درخواستیں دی جا چکی ہیں۔ پولیس نے تاحال نہ تو کارروائی کی اور نہ ہی گشت کا نظام بہتر کیا، جس کے باعث ڈاکوؤں کے حوصلے بلند ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ جب تک ان کے بیٹے کے قاتل گرفتار نہیں ہوتے، وہ تدفین نہیں کریں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملزمان کو فوری انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ مقتول کے والد نے احتجاجی دھرنوں کا سلسلہ شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے صدرِ مملکت کے گھر کے باہر تک جانے کی دھمکی دی ہے۔
واقعے کے بعد پولیس نے قانونی کارروائی مکمل کر کے لاش ورثاء کے حوالے کر دی ہے۔ عباسی شہید اسپتال منتقل کی گئی لاش کو واپس گھر لایا گیا ، جبکہ علاقہ مکینوں میں اس سفاکانہ واردات کے بعد شدید غم اور خوف کی لہر پائی جاتی ہے۔















