یمن میں حوثیوں کے خلاف بڑا فوجی آپریشن، صنعا واپس لینے کا اعلان

Houthis-in-Yemen

یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے حامی فورسز نے حوثیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر جوابی کارروائی شروع کرتے ہوئے دارالحکومت صنعا کو دوبارہ حاصل کرنے کا اعلان کردیا ہے جبکہ ملک کے مختلف صوبوں میں حکومتی فورسز اور حوثی جنگجوؤں کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق یمن کے صوبوں تعز، البیضا اور الجوف میں حوثیوں اور حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی میں شدت آگئی ہے۔ حکومتی فورسز نے حوثی ٹھکانوں کے خلاف راکٹ اور ڈرون حملے کرنے کے علاوہ مختلف علاقوں میں زمینی کارروائیوں کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

یمن کے نائب وزیر دفاع میجر جنرل سمیر الصبری نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے دارالحکومت صنعا کو دوبارہ حاصل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے،حکومتی فورسز حوثیوں کے خلاف کارروائی جاری رکھیں گی اور ملک کے دارالحکومت کو دوبارہ حکومتی کنٹرول میں لانے کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کیے جائیں گے۔

حکومتی فورسز کے ترجمان ماجد النزیلی نے بھی کارروائی کے مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ فوجی آپریشن کا مقصد یمن کو حوثیوں کے کنٹرول سے نکالنا اور صنعا کو ایک مرتبہ پھر تمام یمنیوں کا دارالحکومت بنانا ہے،حکومتی فورسز نے صوبہ الجوف میں اللبانات کے پہاڑی علاقے کی جانب زمینی پیش قدمی کا دعویٰ کیا ہے جبکہ صوبہ البیضا میں بھی حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں پیش رفت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

حکومتی فورسز کا کہنا ہے کہ حوثی ٹھکانوں کو راکٹوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا جارہا ہے جبکہ زمینی دستے بھی مختلف محاذوں پر آگے بڑھ رہے ہیں، ان کارروائیوں اور حاصل ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے آزاد ذرائع سے تمام تفصیلات کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

دوسری جانب حوثیوں نے حکومتی فورسز کی پیش قدمی روکنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حوثی حکام کے مطابق ان کی فورسز نے سرکاری فوج کی کارروائی کا مقابلہ کرتے ہوئے بعض علاقوں میں جوابی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں حکومتی فورسز کے متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے۔

حوثیوں کی جانب سے کیے گئے ان دعوؤں کی بھی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی، تاہم فریقین کے درمیان جاری لڑائی نے یمن میں کئی برس سے جاری بحران کے دوبارہ شدت اختیار کرنے کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق 23 اگست سے شروع ہونے والی حالیہ لڑائی میں اب تک کم از کم 728 افراد ہلاک یا زخمی ہوچکے ہیں۔ شدید لڑائی کے نتیجے میں شہری آبادی بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے جبکہ صرف تعز سے تقریباً 21 ہزار افراد کے بے گھر ہونے کی اطلاعات ہیں۔

یمن میں جاری تازہ لڑائی کو 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد ملک میں ہونے والی سنگین ترین کشیدگی میں شمار کیا جارہا ہے۔ جنگ بندی کے بعد کئی محاذوں پر لڑائی میں نمایاں کمی آئی تھی، تاہم ملک میں سیاسی بحران اور حوثیوں و حکومت کے درمیان بنیادی اختلافات برقرار رہے۔

حالیہ جھڑپوں نے ایک مرتبہ پھر یمن میں طویل جنگ کے مستقل خاتمے اور سیاسی مذاکرات کے ذریعے بحران کے حل کے امکانات کو متاثر کردیا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے پہلے ہی یمن میں انسانی بحران کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں، جہاں طویل جنگ کے باعث لاکھوں افراد خوراک، صحت اور دیگر بنیادی ضروریات کے لیے امداد کے محتاج ہیں۔

صنعا پر کنٹرول یمن کے تنازع میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ حوثیوں نے طویل عرصے سے دارالحکومت سمیت ملک کے بڑے حصے پر اپنا کنٹرول برقرار رکھا ہوا ہے جبکہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت اور اس کے حامی فورسز ملک کے دیگر علاقوں میں موجود ہیں۔

حکومتی فورسز کی جانب سے صنعا واپس لینے کے اعلان کے بعد یمن میں آنے والے دنوں کے دوران لڑائی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے جبکہ تازہ فوجی کارروائی کے نتیجے میں شہریوں کی نقل مکانی اور انسانی بحران میں اضافے کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔

مزید خبریں

Scroll to Top