تہران: ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی محفوظ اور بلاتعطل آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے عارضی راستے کے تعین پر جاری مذاکرات حتمی اور آخری مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں جو علاقائی تجارت کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی مفاہمت کو بہت جلد حتمی شکل دی جائے گی، جس کے بعد اسے عالمی میری ٹائم آرگنائزیشن کے پاس باضابطہ طور پر رجسٹر کروایا جائے گا۔
اسماعیل بقائی نے خطے میں جاری کشیدگی کی بڑی وجہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی اقدامات اور ناکا بندی کو قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر یقینی صورتحال کے باعث بحری جہاز اس اہم راستے سے گزرنے میں خوف محسوس کر رہے ہیں۔
اس اہم بحری گزرگاہ سے دنیا کی بڑی مقدار میں خام تیل اور توانائی کی مصنوعات عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہیں، مگر حالیہ کشیدگی کے بعد سے وہاں سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی تعداد روزانہ 100 سے کم ہو کر صرف 5 تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ اس عارضی اور محفوظ راستے کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو تحفظ کا احساس دلانا ہے تاکہ عالمی تجارت کا پہیہ دوبارہ رواں ہو سکے۔ اس اقدام سے پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں میں بھی کمی متوقع ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی سپلائی چین کو شدید متاثر کیا ہے۔ ایران اور عمان کی یہ کوششیں آبنائے ہرمز میں تجارتی اعتماد بحال کرنے اور خطے کو بڑے معاشی بحران سے نکالنے کے لیے ایک اہم قدم سمجھی جا رہی ہیں۔















