بھارت کی ریاست کرناٹک میں کار کی ٹکر سے زخمی ہونے والے تیندوے نے ریسکیو کے دوران اچانک محکمہ جنگلات کے اہلکار پر حملہ کردیا، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ ریاست کرناٹک کے ضلع داونگیرے میں ایک شاہراہ پر پیش آیا، جہاں ایک گاڑی سے ٹکر کے بعد تیندوا زخمی حالت میں سڑک پر پڑا تھا۔واقعے کی اطلاع ملنے پر محکمہ جنگلات کی ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچی اور زخمی تیندوے کو بحفاظت قابو میں لے کر علاج کے لیے منتقل کرنے کی کارروائی شروع کردی۔
ریسکیو اہلکاروں نے تیندوے کو بے ہوش کرنے کے لیے ٹرانکوئلائزر دیا، تاہم دوا کا اثر مکمل طور پر ہونے سے پہلے ہی جانور نے اچانک حرکت کی اور اپنا رخ قریب موجود جنگلاتی اہلکار کی جانب کرلیا۔وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ تیندوا اچانک اہلکار پر جھپٹ پڑتا ہے اور اسے زمین پر گرا دیتا ہے۔ اہلکار کو حملے سے سنبھلنے کا موقع بھی نہیں ملتا، تاہم قریب موجود اس کے ساتھی فوری طور پر مدد کے لیے آگے بڑھتے ہیں۔
ساتھی اہلکار ایک ڈنڈے کی مدد سے تیندوے کو دور ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں، جس کے بعد جانور پیچھے ہٹ جاتا ہے اور متاثرہ اہلکار بھی اٹھ کر کھڑا ہوجاتا ہے۔حملے کے بعد زخمی تیندوا شاہراہ کے کنارے موجود گھاس والے علاقے کی جانب رینگتے ہوئے چلا گیا، جہاں محکمہ جنگلات کی ٹیم نے دوبارہ اسے قابو کرنے کی کوشش شروع کردی۔
بالآخر ریسکیو اہلکار تیندوے کو کامیابی سے قابو کرنے میں کامیاب ہوگئے اور اسے حادثے کے دوران لگنے والے زخموں کے علاج کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔واقعے کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے جنگلی جانوروں کے ساتھ پیش آنے والے حادثات اور انہیں ریسکیو کرنے والی ٹیموں کو درپیش خطرات پر بحث شروع ہوگئی۔
صارفین کا کہنا تھا کہ زخمی اور خوف زدہ جنگلی جانور کسی بھی وقت غیر متوقع طور پر حملہ کرسکتا ہے، اس لیے ایسے جانوروں کو ریسکیو کرتے وقت خصوصی حفاظتی اقدامات اور ماہر عملے کی موجودگی انتہائی ضروری ہے۔
کئی صارفین نے جنگلی حیات کے قدرتی مسکن سکڑنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تیزی سے بڑھتی انسانی آبادی، سڑکوں کی تعمیر اور دیگر انفرااسٹرکچر کی توسیع کے باعث جنگلی جانوروں کے رہنے کی جگہیں محدود ہورہی ہیں اور وہ خوراک یا نقل و حرکت کے دوران اکثر انسانی آبادیوں اور شاہراہوں تک پہنچ جاتے ہیں۔
ایک صارف نے کہا کہ انسانی سرگرمیوں اور بے ہنگم انفرااسٹرکچر کے پھیلاؤ کے باعث مستقبل میں ایسے حادثات اور ریسکیو آپریشنز میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
ایک اور صارف نے تیندوے کو ٹکر مارنے والی گاڑی کے ڈرائیور کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جانور کو ٹکر لگنے کے بعد گاڑی کا رکنے کے بجائے وہاں سے چلے جانا افسوسناک ہے جبکہ محکمۂ جنگلات کے اہلکار اپنی جان خطرے میں ڈال کر زخمی جانور کو بچانے کی کوشش کررہے تھے۔
سوشل میڈیا صارفین نے ریسکیو آپریشن کے طریقۂ کار پر بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ جنگلی جانور کو بے ہوش کرنے کے لیے دوا دینے کے بعد اس کے مکمل اثر ہونے کا انتظار کرنا ضروری ہے کیونکہ نیم بے ہوشی کی حالت میں موجود جانور مزید خطرناک اور غیر متوقع ردعمل دے سکتا ہے۔
صارفین کے مطابق جنگلی جانوروں کو ریسکیو کرتے وقت مناسب حفاظتی سامان، تربیت یافتہ عملہ اور محفوظ فاصلے سمیت تمام ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کی جانی چاہئیں، تاکہ جانور کے ساتھ ساتھ ریسکیو اہلکاروں کی جان بھی محفوظ رہے۔















