جینوا: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے عالمی نقشوں کے لیے روایتی مرکیٹر نقشے کی جگہ ایکول ارتھ (Equal Earth) نقشہ اپنانے کی حمایت کردی، جس میں کشمیر کو متنازع علاقہ جبکہ لائن آف کنٹرول کو نکتہ دار لکیر سے ظاہر کیا گیا ہے۔ بھارت سمیت 164 ممالک نے نئے معیاری عالمی نقشے کے حق میں ووٹ دیا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں منظور ہونے والی قرارداد کے تحت عالمی سطح پر جغرافیائی معلومات کی بہتر اور متوازن نمائندگی کے لیے ایکول ارتھ نقشے کو معیاری نقشے کے طور پر اپنانے کی حمایت کی گئی ہے۔ نئے نقشے میں دنیا کے مختلف علاقوں کو ان کے جغرافیائی تناسب کے زیادہ قریب دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔
قرارداد کی منظوری کے بعد نقشے میں کشمیر کی حیثیت نمایاں ہونے کو خاص طور پر اہم قرار دیا جارہا ہے۔ اقوام متحدہ کے پیش کردہ عالمی نقشے میں کشمیر کو متنازع علاقے کے طور پر دکھایا گیا ہے جبکہ لائن آف کنٹرول کو نکتہ دار لکیر کے ذریعے نمایاں کیا گیا ہے۔
اس پیش رفت کو بھارتی سرحدی دعووں کے لیے سفارتی سطح پر اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے کیونکہ نئی دہلی طویل عرصے سے کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دیتا اور اسے اپنا اندرونی معاملہ قرار دینے کا مؤقف اختیار کرتا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق بھارت نے خود اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جس کے بعد بھارتی سیاسی اور عوامی حلقوں میں بھی سوالات اٹھائے گئے۔ بھارتی حکومت کی جانب سے وضاحت بھی سامنے آئی۔ بھارتی وزیر خارجہ نے مؤقف اختیار کیا کہ بھارت نے نقشے میں جغرافیائی تناسب کی حمایت کی ہے، نقشے پر دکھائی گئی سرحدوں کی نہیں۔ بھارتی عوام اور بعض حلقوں کی جانب سے بھی سوال اٹھایا گیا کہ اگر ووٹ صرف جغرافیائی تناسب کی بنیاد پر دیا گیا تو کشمیر کو متنازع علاقے کے طور پر ظاہر کیے جانے پر بھارت نے باضابطہ اعتراض کیوں نہیں کیا۔
دوسری جانب پاکستان کی وزارت خارجہ نے بھارتی وضاحت کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کا منظور کردہ نقشہ عالمی سطح پر اہم حیثیت رکھتا ہے اور کشمیر کی متنازع حیثیت اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں سے واضح ہوتی ہے۔
پاکستانی وزارت خارجہ کے مؤقف کے مطابق بھارت کئی دہائیوں سے کشمیر کے حوالے سے اپنے مؤقف کو تقویت دینے کے لیے نقشہ جاتی قوانین اور دیگر ذرائع استعمال کرتا رہا ہے اور ٹیکنالوجی کمپنیوں سمیت عالمی اداروں پر بھی اپنے مؤقف کے مطابق نقشے پیش کرنے کے لیے دباؤ ڈالتا رہا ہے۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے معیاری نقشے میں کشمیر کی متنازع حیثیت کا برقرار رہنا اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ مسئلہ کشمیر بین الاقوامی سطح پر ایک متنازع مسئلہ ہے اور اسے محض بھارت کا اندرونی معاملہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق بھارت کی جانب سے اقوام متحدہ کے اس نقشے کی حمایت کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے اصولی مؤقف کی تائید کے مترادف ہے کیونکہ عالمی ادارے کے نقشے میں لائن آف کنٹرول کو بین الاقوامی سرحد کے بجائے نکتہ دار لکیر سے ظاہر کیا گیا ہے۔
نئے ایکول ارتھ نقشے کے حوالے سے کشمیر کی موجودہ عکاسی کے بعد ایک بار پھر مسئلہ کشمیر کی عالمی حیثیت پر بحث شروع ہوگئی ہے جبکہ بھارت کی جانب سے قرارداد کی حمایت اور بعد ازاں وضاحت نے معاملے کو مزید توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔















