برلن: جرمنی کی ریاست سیکسنی انہالٹ میں منعقدہ انتخابات میں انتہائی دائیں بازو کی جماعت آلٹرنیٹو فار جرمنی (اے ایف ڈی) نے شاندار کامیابی حاصل کر کے ملکی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق اس جماعت نے 44.7 فیصد ووٹ حاصل کیے اور پارلیمنٹ کی 39 نشستیں اپنے نام کیں۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ انتہائی دائیں بازو کی کسی جماعت نے ریاستی سطح پر اقتدار کے ایوانوں کے اتنے قریب رسائی حاصل کی ہے۔ اگرچہ جماعت کو حکومت سازی کے لیے مطلوبہ واضح اکثریت حاصل نہیں ہوئی، مگر یہ جیت ایک تاریخی سنگ میل ہے۔
اے ایف ڈی کی اس کامیابی نے روایتی سیاسی جماعتوں کو گہرے صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔ حکمراں جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین محض 16.9 فیصد ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہی۔ دیگر بڑی جماعتوں بشمول سوشل ڈیموکریٹک پارٹی اور گرین پارٹی کی کارکردگی بھی توقعات کے برعکس انتہائی مایوس کن رہی۔
جرمنی کا موجودہ سیاسی نظام اے ایف ڈی کو اقتدار سے دور رکھنے کے لیے ایک فائر وال پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے تحت روایتی جماعتیں اس کے ساتھ اتحاد کرنے سے گریزاں ہیں۔ اس صورتحال میں ریاست میں کسی بھی مستحکم حکومت کا قیام ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
انتخابی مہم کے دوران اے ایف ڈی نے سخت گیر امیگریشن پالیسیوں، مہنگائی اور معاشی بحران جیسے عوامی مسائل کو نمایاں رکھا۔ پارٹی نے غیر ملکی باشندوں کی بڑے پیمانے پر ملک بدری اور روس کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے جیسے متنازع بیانیوں پر اپنی انتخابی مہم کو مرکوز کیا تھا۔
اے ایف ڈی کی شریک سربراہ ٹینا کروپالا نے نتائج کے بعد دیگر سیاسی گروہوں سے مذاکرات کا اشارہ دیا ہے، تاہم مقامی رہنما اولریش زیگمنڈ نے کسی بھی قسم کے اتحاد کے امکانات کو فی الحال مسترد کیا ہے، جس سے حکومت سازی کا عمل مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ نتائج جرمن عوام کی روایتی سیاسی قیادت سے بڑھتی ہوئی مایوسی کی عکاسی کرتے ہیں۔
اے ایف ڈی کا یہ جارحانہ ایجنڈا اب جرمنی کی داخلی سیاست میں مزید گرما گرمی کا باعث بن رہا ہے، جس پر بین الاقوامی سطح پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔















