اسلام آباد: نیپرا نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دے کر عوام پر 12 ارب 66 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ ڈال دیا ہے۔
سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں فی یونٹ 52 پیسے مہنگے کیے گئے ہیں جس کا اطلاق فوری طور پر کیا جا رہا ہے۔
یہ اضافی نرخ رواں سال ستمبر، اکتوبر اور نومبر کے بجلی کے بلوں میں شامل ہو کر آئیں گے۔ حکومت کی یکساں ٹیرف پالیسی کے تحت اس اضافے کا اطلاق صرف سرکاری تقسیم کار کمپنیوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ کے الیکٹرک کے صارفین بھی اس سے متاثر ہوں گے۔
نیپرا حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ اضافی وصولی 3 ماہ تک جاری رہے گی۔ بجلی کی قیمتوں میں اس اضافے سے ملک بھر کے عام صارفین کی جیب پر بوجھ مزید بڑھے گا اور پہلے سے مہنگائی کے شکار افراد کو مزید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
تاہم ریگولیٹری اتھارٹی نے کچھ صارفین کو اس نئے بوجھ سے محفوظ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لائف لائن صارفین کو اس اضافے سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، اس کے علاوہ پری پیڈ میٹرز کے حامل صارفین پر بھی اس فیصلے کا اطلاق نہیں ہوگا اور نہ ہی انہیں اضافی رقم ادا کرنی ہوگی۔
انکریمنٹل کنزیومپشن پیکیج کے تحت بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو بھی اضافی چارجز سے استثنیٰ حاصل رہے گا۔
نیپرا کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے بعد تقسیم کار کمپنیوں نے بلوں کی تیاری کا عمل شروع کر دیا ہے تاکہ آئندہ 3 ماہ کے دوران اضافی وصولی یقینی بنائی جا سکے۔
واضح رہے کہ ملک میں بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافے سے صنعت کاروں اور گھریلو صارفین کو شدید تشویش ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ یکساں ٹیرف پالیسی کے تحت تمام صارفین پر ایک ہی اصول لاگو کیا جاتا ہے تاکہ ملکی توانائی کے شعبے کو مستحکم رکھا جا سکے اور خسارے پر قابو پایا جائے۔















