انقرہ: ترکیے نے 2027 سے 2029 کے لیے نئے درمیانی مدت کے معاشی منصوبے کے تحت دفاعی اخراجات میں 229 فیصد اضافے کا اعلان کردیا ہے۔ ترک حکومت کا کہنا ہے کہ دفاعی صنعت میں خود انحصاری بڑھانے، مقامی ٹیکنالوجی کی تیاری اور دفاعی پیداوار میں اضافے کے لیے سرمایہ کاری کو نمایاں طور پر بڑھایا جائے گا۔
ترک میڈیا کے مطابق نائب صدر جودت یلماز نے 2027 سے 2029 تک تین سال کے لیے ملک کا نیا درمیانی مدت کا معاشی منصوبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ دفاعی صنعت کے حوالے سے ترکیے کا مقصد ایسا ملک بننا ہے جو اپنی ٹیکنالوجی خود تیار کرے اور دفاعی پیداوار میں مزید اضافہ کرے۔
جودت یلماز نے کہا کہ اسی مقصد کے تحت حکومت نے دفاعی اخراجات میں 229 فیصد اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے،ترکیے دفاعی صنعت میں مقامی صلاحیتوں کو فروغ دینے اور جدید ٹیکنالوجی کی تیاری کے لیے اپنی سرمایہ کاری جاری رکھے گا۔
ترک نائب صدر کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے مہنگائی کے خلاف جنگ میں بھی نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور ملک میں مہنگائی میں کمی کا رجحان شروع ہوچکا ہے،حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کے نتیجے میں مہنگائی کو قابو کرنے کی کوششیں جاری ہیں اور آنے والے عرصے میں معاشی استحکام کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ دی جائے گی۔
جودت یلماز نے عالمی معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر موجود مختلف خطرات ترک معیشت کو بھی متاثر کررہے ہیں، عالمی معیشت حالیہ عرصے میں ایک ایسے نئے دور میں داخل ہوگئی ہے جہاں معاشی، تکنیکی اور جغرافیائی سیاسی تبدیلیاں ایک دوسرے سے جڑ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں ترکیے کے لیے اپنی پیداواری اور تکنیکی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ضروری ہے جبکہ دفاعی صنعت میں خود انحصاری ملک کی مجموعی معاشی اور تزویراتی پالیسی کا بھی اہم حصہ ہے۔
ترکیے کی جانب سے دفاعی اخراجات میں بڑے اضافے کا اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک اپنی مقامی دفاعی صنعت کو تیزی سے وسعت دے رہا ہے اور جدید جنگی ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتیں بڑھانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
خیال رہے کہ حال ہی میں ترک بحریہ نے ملک کے پہلے طیارہ بردار بحری جہاز مُگیم (MUGEM) کو 27 ستمبر 2027 کو سمندر میں اتارنے کا اعلان کیا ہے۔ ترک بحریہ کے کمانڈر ایڈمرل ارجومن اوغلو کے مطابق جہاز کی تعمیر کا کام تیزی سے جاری ہے اور مقررہ مدت کے مطابق اسے سمندر میں اتارا جائے گا۔
ترک حکام کے مطابق مُگیم طیارہ بردار بحری جہاز جدید نوعیت کی صلاحیتوں کا حامل ہوگا۔ اس جہاز سے ایک ہی وقت میں بغیر پائلٹ کے طیارے اڑانے کے ساتھ ساتھ بغیر پائلٹ کی بحری اور زیرِ آب گاڑیاں بھی تعینات کی جاسکیں گی۔
ترک بحریہ کے کمانڈر کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ کامیابی سے مکمل ہوتا ہے تو ترکیے دنیا کا پہلا ملک بن جائے گا جو اس نوعیت کے ایسے طیارہ بردار بحری جہاز کو آپریشنل طور پر استعمال کرے گا، جو بغیر پائلٹ فضائی، بحری اور زیرِ آب نظاموں کو ایک ہی پلیٹ فارم سے تعینات کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
دفاعی اخراجات میں 229 فیصد اضافے اور مُگیم جیسے بڑے بحری منصوبوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ترکیے دفاعی پیداوار، مقامی ٹیکنالوجی اور جدید عسکری صلاحیتوں کو آئندہ برسوں کی اپنی اہم ترجیحات میں شامل رکھے گا۔















