کراچی: پاکستان میں تیار کردہ گاڑیوں کی بنگلا دیش کو آزمائشی برآمدات کا آغاز رواں ماہ سے ہو رہا ہے، جس سے ملکی آٹو انڈسٹری میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوگا۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس اقدام کے تحت ابتدائی طور پر ایک سو گاڑیاں بنگلہ دیشی مارکیٹ میں بھیجی جائیں گی جو دوطرفہ تجارتی تعلقات کے لیے اہم ہے۔
پاکستان کی گاڑی ساز کمپنی اور بنگلا دیشی گروپ کے درمیان 5000 گاڑیاں فراہم کرنے کا معاہدہ طے پا چکا ہے۔ یہ منصوبہ مرحلہ وار مکمل ہوگا جس کی باقاعدہ اور بڑے پیمانے پر برآمدات کا عمل اگلے سال شروع کیا جائے گا۔ اس اقدام سے آٹو سیکٹر میں نئی سرمایہ کاری متوقع ہے۔
سی ای او جیان چیانگ شاؤ نے کہا کہ اس منصوبے کے لیے چین کی کمپنی کو قائل کیا گیا کہ وہ پاکستان سے بنگلا دیش تک برآمدی ماڈل کو بہتر بنائے۔ یہ پیش رفت پاکستان کے لیے آٹو موٹیو مصنوعات کی پائیدار برآمدات کے حصول کی جانب ایک نمایاں اور تاریخ ساز قدم ثابت ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک دو طرفہ فائدہ مند کاروباری ماڈل ہے جس کے تحت بنگلا دیشی ڈسٹری بیوٹر کو درآمدی ڈیوٹی میں چھوٹ ملے گی اور پاکستان کو اپنی مصنوعات بیرون ملک متعارف کرانے کا بہترین موقع حاصل ہوگا۔ اس معاہدے سے آٹو سیکٹر میں غیر ملکی زرمبادلہ کمانے کی نئی راہ ہموار ہوئی ہے۔
ایم جی پاکستان اپنے بنگلا دیشی پارٹنر کو گاڑیوں کی اسمبلنگ اور کوالٹی کنٹرول کے امور میں تکنیکی معاونت فراہم کرے گا۔ اس مقصد کے لیے مقامی انجینئرنگ ٹیم بنگلا دیش کا دورہ کرے گی تاکہ وہاں کے عملے کو جدید انجینئرنگ سروسز اور فنی مہارتوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو لاگت کے حوالے سے مسابقتی فائدہ حاصل ہے اور یہاں باصلاحیت افرادی قوت موجود ہے۔ یہ برآمد صرف مصنوعات تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس میں ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ خدمات کی برآمد بھی شامل ہوگی، جو مستقبل میں ملکی معیشت کی ترقی کے لیے نہایت سودمند ثابت ہو سکتی ہے۔















