لاہور: مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے ملک کی موجودہ سیاسی و سیکورٹی صورتحال، انتخابی نظام اور نئے صوبوں کی بحث پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں ووٹ کسی اور کو ملتا ہے اور منتخب کوئی اور ہو جاتا ہے۔
اصل مسئلہ نئے صوبے بنانا نہیں بلکہ نیت کا فتور اور آئین کی پامالی ہے۔
یونیورسٹی آف منیجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور میں منعقدہ ایک خصوصی مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک کا المیہ یہ ہے کہ ووٹ کسی کو ملتا ہے اور منتخب کوئی اور ہو جاتا ہے۔
مزے کی بات یہ ہے کہ لوگوں نے ہر اس شخص کو ووٹ دیا ہے جو جیل میں گیا ہے لیکن جیل میں ڈالنے والوں کو یہ بات سمجھ نہیں آئی اور وہ اب بھی اسی کام پر لگے ہوئے ہیں۔
ملک میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق ن لیگی رہنما نے کہا کہ گورا انگریز چلا گیا لیکن کالا انگریز پیچھے چھوڑ گیا، محض نئے صوبے بنا دینے سے آبِ حیات یا امرت دھارا نہیں بہنے لگے گا۔
میں خود با اختیار بلدیاتی نظام اور چھوٹے انتظامی یونٹس کا حامی ہوں مگر اصل مسئلہ آئین کا احترام اور نیت کی صفائی کا ہے، ضرور بنائیں چھوٹے صوبے لیکن پہلے ایک منتخب پارلیمنٹ بنائیں، جس پر کوئی اعتراض نہ کرے، قوم جس کوووٹ دے وہی پھر وزیراعظم بنے، وہی حکمرانی کرے۔
خواجہ سعد رفیق نے ملک کو بحران سے نکالنے کے لیے تجاویز پیش کیں کہ ایک آزاد، غیر جانبدار اور بااختیار الیکشن کمیشن قائم کیا جائے تاکہ شفاف انتخابات کے ذریعے عوام کا حقیقی فیصلہ تسلیم کیا جا سکے۔
انتخابی اصلاحات کی جائیں تاکہ ایک عام مڈل کلاس سیاسی کارکن بھی اسمبلی تک پہنچ سکے، اور ایک ایسی منتخب پارلیمنٹ بنے جس پر کوئی اعتراض نہ کر سکے۔















