برطانیہ پہنچنے والے 140 تارکین وطن کی زندگیوں کو لائف بوٹ ٹیم نے بچا لیا

boat

لندن: انگلش چینل میں ایک ربڑ کی کشتی پر سوار تقریباً 140 تارکین وطن کو بروقت ریسکیو کر کے بحفاظت برطانیہ پہنچا دیا گیا ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق یہ تارکین وطن نارمنڈی کے ساحل سے روانہ ہوئے تھے اور برطانوی سمندری حدود میں داخل ہونے کے بعد انہوں نے مدد طلب کی تھی۔

تارکین وطن کی اس بڑی تعداد کو برطانیہ کی رائل نیشنل لائف بوٹ انسٹی ٹیوشن کی 2 کشتیوں نے اپنی تحویل میں لیا۔ فرانسیسی کوسٹ گارڈ نے بھی اس آپریشن میں اہم کردار ادا کیا اور تقریباً 10 گھنٹے تک اس کشتی کی مسلسل نگرانی کرتے رہے۔

فرانسیسی حکام نے وضاحت کی کہ پانی کے درمیان کشتی کو روکنے کی کوشش انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی تھی، اس لیے اسے برطانوی حدود تک پہنچنے دیا گیا۔ بعد ازاں بیمبرج اور یارماؤتھ سے آنے والی لائف بوٹس نے انہیں اپنے حصار میں لے کر محفوظ مقام تک پہنچایا۔

بتایا گیا ہے کہ کشتی نے خلیجِ سین کے علاقے سے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا، جو کیلے کے معمول کے راستوں سے تقریباً 170 میل دور ہے۔ اس غیر معمولی دوری کے باعث تارکین وطن کا برطانیہ تک کا سمندری سفر پہلے سے کہیں زیادہ طویل اور تکلیف دہ ثابت ہوا۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب برطانوی اور فرانسیسی قیادت چھوٹی کشتیوں کے ذریعے غیر قانونی آمدورفت کو روکنے کے لیے مؤثر حکمت عملی پر بات چیت کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر دونوں ممالک کی جانب سے سرحدی سیکیورٹی کو مزید سخت کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔

دوسری جانب اس پیش رفت کے بعد پورٹس ماؤتھ اور ڈوور میں کشیدگی دیکھی گئی ہے۔ ایسٹنی لینڈنگ فیری پورٹ کے قریب پولیس اور مظاہرین کے مابین تلخ کلامی ہوئی، جبکہ ڈوور میں نقاب پوش افراد نے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے غیر قانونی آمد کے خلاف احتجاج کر کے معمولات زندگی کو متاثر کیا۔

ماہرین کے مطابق انگلش چینل کے ذریعے خطرناک سفر کرنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ رواں سال اگست میں ایک ہی کشتی کے ذریعے 230 افراد نے برطانیہ پہنچ کر ریکارڈ قائم کیا تھا، جس سے انتظامیہ کے لیے سمندری نگرانی کے چیلنجز مزید بڑھ گئے ہیں۔

مزید خبریں

Scroll to Top