کراچی: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ کراچی ہمیشہ مظلوم رہا، کبھی قاتلوں اور کبھی چوروں کو شہر پر مسلط کیا گیا۔
شہر قائد کے دورے پر آمد کے موقع پر حکمران جماعت کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے سیاسی منافقت قرار دیا ہے۔ انہوں نے کراچی ٹول پلازہ پر کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف بلاول بھٹو سوشل میڈیا پر خیرمقدم کر رہے تھے اور دوسری طرف سڑکوں پر کنٹینرز کھڑے کر دیے گئے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ انتظامیہ نے راستے بلاک کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا ، جبکہ پولیس نے کارکنوں کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھا۔ انہیں اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے متبادل اور کچے راستوں کا سہارا لینا پڑا، جس سے حکومت کی بوکھلاہٹ واضح طور پر عیاں ہوتی ہے۔
سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ کراچی ہمیشہ سے مظلوم رہا ہے اور کبھی قاتلوں تو کبھی چوروں کو اس شہر پر مسلط کیا گیا۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ 27 ستمبر کو اپنی تقدیر بدلنے کے لیے گھروں سے نکلیں اور کراچی کے ہر چوک کو ڈی چوک کی طرح فعال بنائیں۔
پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا کہ حکومت نے ان کے 135 سے زائد کارکنوں کو بلاوجہ گرفتار کیا ہے ۔ مزار قائد کے اطراف راستے بند کر دیے گئے ہیں۔ پولیس کی تمام تر رکاوٹوں کے باوجود کارکنوں کی بڑی تعداد کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے ہیں۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ آج کا اجتماع ظلم کے نظام کے خلاف ایک مضبوط آواز ہے۔ انہوں نے حکمران خاندانوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ عدلیہ کے فیصلوں کو ماننے سے انکاری ہیں۔ 27 ستمبر کا دن دراصل حقیقی آزادی کی جدوجہد کا نام ہے اور اب ملک کو ان دو خاندانوں کی گرفت سے آزاد کرانا وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔
پی ٹی آئی رہنماؤں نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ عمران خان کی رہائی تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پورا سندھ اب تبدیلی کا نام لے رہا ہے اور کراچی کے عوام اس بار جعلی حکمرانوں کو مسترد کر کے عمران خان کے بیانیے کو تقویت دیں گے۔















