بیروت: جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں پر اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 7 افراد جاں بحق اور 20 زخمی ہوگئے، جبکہ حملوں میں ایک غیر فعال اسپتال سمیت متعدد عمارتوں اور سرکاری اداروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
لبنانی وزارت صحت کے مطابق نبطیہ الفوقا میں ہونے والے اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 5 افراد جان سے گئے، جبکہ قریبی علاقے عرب سلیم میں 2 خواتین بھی حملوں کی زد میں آکر جاں بحق ہوئیں۔ زخمی ہونے والوں میں خواتین اور 3 بچے بھی شامل ہیں۔
وزارت صحت کے مطابق نبطیہ الفوقا میں کیے گئے ایک فضائی حملے کے نتیجے میں غندور اسپتال مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ اسپتال پہلے ہی غیر فعال تھا، تاہم حملے کے باعث عمارت مکمل طور پر منہدم ہوگئی۔ نبطیہ شہر میں ایک تاریخی عمارت کو بھی نقصان پہنچا، جبکہ مختلف سرکاری اداروں کے دفاتر بھی متاثر ہوئے ہیں۔
لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے جنگ بندی اور اسرائیل لبنان فریم ورک معاہدے کے باوجود کیے گئے، جس کے باعث جنوبی لبنان میں پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ حکام نے اسرائیلی کارروائیوں کو معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری کی توجہ اس جانب مبذول کرائی ہے۔
لبنان کے صدر جوزف عون نے اسرائیلی حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے موجودہ صورتحال کو خطرناک کشیدگی قرار دیا ہے۔ انہوں نے امریکا اور عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
جوزف عون نے امریکا پر بھی زور دیا کہ چونکہ وہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کی سرپرستی کررہا ہے، اس لیے واشنگٹن اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے اسرائیلی حملے رکوانے اور جنگ بندی برقرار رکھنے میں کردار ادا کرے۔
لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق بعض علاقوں میں حملوں سے قبل شہریوں کو کسی قسم کی وارننگ بھی جاری نہیں کی گئی۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی کارروائیوں میں ایک موٹر سائیکل کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
تازہ اسرائیلی حملوں کے بعد جنوبی لبنان میں جنگ بندی کے باوجود جاری کشیدگی ایک مرتبہ پھر شدت اختیار کرگئی ہے۔ مسلسل کارروائیوں کے باعث اسرائیل لبنان فریم ورک معاہدے کے مستقبل اور خطے میں جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوششوں پر بھی نئے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔















