روس نے جرمنی کی جانب سے لیپزگ ایئرپورٹ پر مبینہ دھماکا خیز ڈرون کے واقعے میں ماسکو کو ملوث قرار دینے کے الزام کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے برلن کے اقدامات کو خطرناک قرار دیا ہے۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ جرمنی نے اس واقعے کی ذمہ داری روس پر عائد کرنے سے قبل یہ جاننے کے لیے مناسب تحقیقات ہی نہیں کیں کہ ایئرپورٹ پر آنے والا ڈرون کس کا تھا اور اسے وہاں کس نے بھیجا۔
ان کا کہنا تھا کہ روس کے خلاف محض الزامات عائد کرنا اور ان کی بنیاد پر روسی سفارتی تنصیبات کے خلاف کارروائی کرنا انتہائی سنگین طرز عمل ہے۔
سرگئی لاوروف نے جرمن حکومت کے اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جرمنی نے ماضی سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔
انہوں نے روس کو واقعے کا ذمہ دار قرار دینے اور اس کے بعد سفارتی سطح پر کیے جانے والے اقدامات کو ’’حقیقی جنگ کے آغاز‘‘ کی جانب ایک خطرناک قدم قرار دیا۔
روسی وزیر خارجہ نے بون میں روسی قونصل خانے اور برلن میں قائم روسی ہاؤس کو بند کرنے کے جرمن فیصلے پر بھی شدید اعتراض کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات کو مزید خراب کرنے کا سبب بنیں گے اور ان کے نتیجے میں صورتحال سفارتی اختلافات سے آگے بڑھ سکتی ہے۔
سرگئی لاوروف نے جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے یورپ کی مضبوط ترین فوج تشکیل دینے کے ہدف کو بھی تشویش ناک رجحان قرار دیا۔ جرمنی کی جانب سے عسکری قوت میں اضافے پر زور دینا خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ جرمنی نے 1 ستمبر کو لیپزگ ایئرپورٹ پر پیش آنے والے ڈرون واقعے کا ذمہ دار روس کو قرار دیتے ہوئے روسی سفارتی عملے اور اداروں کے خلاف اقدامات کا اعلان کیا تھا۔
تاہم ماسکو کا مؤقف ہے کہ برلن نے روس پر الزام عائد کرنے کے لیے اب تک کوئی قابلِ اعتماد اور ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا۔ روس کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک کو ایسے حساس معاملے میں مکمل اور شفاف تحقیقات کے بغیر کسی دوسرے ملک کو ذمہ دار قرار دینے سے گریز کرنا چاہیے۔















