واشنگٹن: سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک اور اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت کے حامل سافٹ ویئر نے پہلی مرتبہ جدید ایف 16 جنگی طیارے کو کامیابی کے ساتھ فضا میں اڑا کر عسکری تاریخ کا ایک نیا باب رقم کر دیا ہے۔
امریکی عسکری تحقیق و ترقی کے ادارے ڈارپا کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق اس تاریخی تجربے میں وینم آٹونومی کٹ نامی جدید اے آئی سافٹ ویئر کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس اہم پرواز کے دوران کاک پٹ میں ایک انسانی پائلٹ بھی موجود تھا۔
انسانی پائلٹ کی موجودگی کے باوجود طیارے کی اڑان، کنٹرول اور دیگر تکنیکی مراحل کی نگرانی مکمل طور پر مصنوعی ذہانت نے ہی انجام دی۔ اے آئی کی جانب سے دکھائی گئی مہارت اور پھرتی نے ماہرین کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے اور عسکری ہوابازی میں نئے امکانات پیدا کیے ہیں۔
ڈارپا کے حکام نے کہا کہ اس کامیاب تجربے کے بعد اب مستقبل میں انسانی پائلٹوں کے شانہ بشانہ مصنوعی ذہانت کے حامل طیارے بھی جنگی مشنز میں حصہ لیں گے۔ امریکی حکومت کا بنیادی مقصد ایسی خودکار ٹیکنالوجی تیار کرنا ہے جو انتہائی خطرناک فضائی مہمات میں انسانی جانوں کو محفوظ رکھ سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل کی جنگوں میں غیر ملکی فضائی کارروائیوں کی ذمہ داری مکمل طور پر اے آئی پائلٹس کے سپرد کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد جنگی میدان میں انسانی موجودگی کو کم سے کم کرنا اور آپریشنز کو زیادہ محفوظ اور درست سمت میں آگے بڑھانا ہے۔
مصنوعی ذہانت اب تیزی کے ساتھ جنگی مہارتوں کے میدان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دفاعی شعبے میں اے آئی کا یہ داخلہ جنگی حکمت عملیوں کو ہمیشہ کے لیے تبدیل کر دے گا، جس سے دنیا بھر کی فضائی افواج کا مستقبل بالکل مختلف نظر آئے گا۔















