ملک گیر لیبر کانفرنس کا اعلامیہ
نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن پاکستان (NTUF) کے زیراہتمام، آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے اشتراک سے منعقدہ ایک روزہ ملک گیر لیبر کانفرنس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ محنت کش طبقہ طبقاتی اتحاد اور یکجہتی کی قوت سے مزدور دشمن اقدامات، استحصالی پالیسیوں اور عوام کو تقسیم کرنے کی تمام سازشوں کو ناکام بنائے گا۔ رفیق بلوچ کی زیر صدارت کانفرنس میں ملک بھر سے مزدور فیڈریشنز، ٹریڈ یونینز اور دیگر نمائندہ تنظیموں کے وفود نے شرکت کی۔
کانفرنس کا آغاز محنت کشوں کے عالمی ترانے ’’انٹرنیشنل‘‘ سے ہوا، جبکہ پمز سانحے میں جاں بحق نومولود بچوں اور نیپال کے سیلاب میں جاں بحق افراد کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ NTUF کے جنرل سیکرٹری ناصر منصور نے کہا کہ حکمرانوں کی عاقبت نااندیش پالیسیوں اور بین الاقوامی سامراجی مالیاتی اداروں کی عوام دشمن شرائط نے پاکستان کے 25 کروڑ عوام کو شدید معاشی مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ ملک کی 9 کروڑ سے زائد لیبر فورس اور اس سے وابستہ خاندان غربت، بے روزگاری، بیماری اور عدم تحفظ کا شکار ہیں، جبکہ محنت کشوں کو مناسب اجرت، سماجی تحفظ اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اجرتوں، سوشل سیکورٹی اور پنشن کی مد میں فیکٹری مالکان ماہانہ 5 کھرب روپے سے زائد محنت کشوں کے حقوق سے ہتھیارہے ہیں، جو ایک بڑا معاشی جرم اور سماجی ناانصافی ہے۔
شکیل یامین کانگا چیئرمین آل پاکستان نیوز پیپر ایمپلائر کنفیڈریشن نے کہا کہ مزدوروں کے آئینی حقِ تنظیم سازی پر عملاً قدغن کے باعث پاکستان میں یونین سازی کی شرح ایک فیصد سے بھی کم ہے، جو خطے میں انتہائی کم ترین شرح ہے۔ انہوں نے ٹھیکیداری اور تھرڈ پارٹی ایمپلائمنٹ کے استحصالی نظام کے خلاف مزاحمت پر زور دیا اور کہا کہ پنجاب میں اسے قانونی تحفظ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ سندھ کی مزدور تحریک اس کی قانونی حیثیت تسلیم کرنے کے خلاف مزاحمت کر رہی ہے۔
پاکستان ٹیکسٹائل ورکرز فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری سید سجاد گردیزی نے کہا کہ ٹیکسٹائل اور گارمنٹس کا شعبہ ملکی معیشت اور برآمدات کی ریڑھ کی ہڈی ہے، جہاں دو کروڑ سے زائد مزدور کام کرتے ہیں اور ملک کے 50 فیصد سے زائد زرمبادلہ کے حصول میں یہ شعبہ اہم کردار ادا کرتا ہے، مگر اس کے باوجود اندازاً 90 فیصد مزدور خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ خواتین محنت کش کم اجرت، غیر محفوظ ماحول، صنفی امتیاز، ہراسانی اور ملازمت کے عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن کی جنرل سیکرٹری اورIndustriALL Global Unionکے ٹیکسٹائل، گارمنٹس، لیدر اینڈ شوز سیکٹر کی شریک چیئرپرسن زہرا خان نے کہا کہ ٹیکسٹائل و گارمنٹس مزدوروں کی بدحالی کے ذمہ دار مقامی سرمایہ داروں کے ساتھ ساتھ وہ عالمی فیشن برانڈز بھی ہیں جن کا مجموعی سالانہ کاروباری حجم تقریباً 1.8 کھرب ڈالر ہے۔ عالمی برانڈز اور ان کے مقامی سپلائرز مزدور قوانین، آئی ایل او کنونشنز، بنیادی مزدور معیارات، یورپی یونین کے ڈیو ڈیلیجنس تقاضوں، گلوبل فریم ورک ایگریمنٹس اور پاکستان اکارڈ کی پاسداری میں ناکام ہیں۔
پاکستان ورکرز فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری اسد محمود نے کہا کہ صنعتی اداروں میں مزدور دشمن اقدامات کو متعلقہ سرکاری اداروں کی پشت پناہی حاصل ہے، جبکہ حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والے مزدوروں کے خلاف غداری، دہشت گردی اور بھتہ خوری جیسے سنگین مقدمات قائم کرکے گرفتاریاں اور تشدد کیا جاتا ہے۔
پاکستان یونائیٹڈ فیڈریشن آف ٹریڈ یونینز کے جنرل سیکرٹری ضیاء سید نے کہا کہ مزدور حقوق اور محنت کشوں کے مسائل حکومت اور عوام کی نمائندگی کی دعوے دار سیاسی و مذہبی جماعتوں کی ترجیحات میں شامل نہیں۔ عوامی غیظ و غضب سے توجہ ہٹانے کے لیے جنگی جنون کو فروغ دیا جا رہا ہے اور عوام کو لسانی، نسلی، مذہبی اور علاقائی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
ریلوے ورکرز یونین کے جنرل سیکرٹری نسیم رائو نے کہا کہ محنت کش طبقے کو ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کی نوآبادیاتی پالیسی کے خلاف طبقاتی بنیادوں پر منظم ہونا ہوگا۔ سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور سول و ملٹری بیورو کریسی نے ملکی وسائل پر قبضہ کر رکھا ہے۔ یو این ڈی پی کی رپورٹ کے مطابق طاقت ور اشرافیہ کو مختلف مدات میں سالانہ 2.7 کھرب روپے کی سبسڈی دی جاتی ہے، جبکہ عوام سماجی و معاشی انصاف سے محروم ہیں۔
اتحاد لیبر یونین آف کارپٹ انڈسٹریز پاکستان کے جنرل سیکرٹری نیاز خان نے سرمایہ دارانہ استحصال، جاگیردارانہ جکڑ بندی اور غیر جمہوری قوتوں کے تسلط کے خلاف وسیع، منظم اور متحد مزاحمتی تحریک کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ وطن دوست مزدور فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری گل شیر شر نے جاگیرداری، سرمایہ دارانہ استحصال اور آئی ایم ایف و ورلڈ بینک کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف جدوجہد تیز کرنے کا مطالبہ کیا۔
کانفرنس نے قرار دیا کہ مزدور تحریک کو اجرت، روزگار اور صنعتی مسائل تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ جمہوریت، سماجی انصاف، معاشی و صنفی مساوات، سماجی تحفظ، ماحولیات اور تمام مظلوم طبقات کے حقوق کے لیے بھی جدوجہد منظم اور وسیع کرنا ہوگی۔
اس موقع پر آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے صدر احمد شاہ نے مزدور طبقہ کی انصاف پر مبنی جدوجہد سے اظہار یکجہتی کا اظہار بھی کیا۔
کانفرنس سے رزاق میمن، رانا طاہر ، ریاض عباسی، گل رحمان، کنیز فاطمہ، عاقب حسین، بچل سمیٹو، اقبال ابڑو اور ہمت علی پھلپوٹو نے بھی خطاب کیا۔ تھیٹر منڈلی گروپ نے انقلابی گیتوں پر ٹیبلوز پیش کیے جبکہ مزدوروں کی کامیاب جدوجہد پر ڈاکومنٹری بھی دکھائی گئی۔
کانفرنس کے مطالبات
کانفرنس نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ:
مہنگائی کے تناسب سے اجرتوں میں اضافہ اور Living Wageیقینی بنائی جائے۔
ٹھیکیداری، تھرڈ پارٹی ایمپلائمنٹ اور تمام استحصالی و غیر محفوظ روزگار کا خاتمہ کیا جائے۔
ہوم بیسڈ، زرعی، گگ/پلیٹ فارم اور غیر رسمی شعبے کے مزدوروں سمیت تمام محنت کشوں کو قانونی شناخت، سماجی تحفظ اور پنشن دی جائے۔
یونین سازی، اجتماعی سودے کاری اور پْرامن احتجاج کے حقوق پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
خواتین و مردوں کے لیے مساوی کام کی مساوی اجرت اور کام کی جگہوں پر ہراسانی، تشدد اور امتیاز کا خاتمہ کیا جائے۔
تمام صنعتی و تجارتی اداروں میں محفوظ و صحت مند کام کی جگہ اور ہیٹ اسٹریس سے تحفظ یقینی بنایا جائے۔
جبری برطرفیوں، یونین توڑنے، یونین سازی میں مداخلت اور تمام یونین دشمن اقدامات کا خاتمہ کیا جائے۔
آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور دیگر مالیاتی اداروں کی عوام پر مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی بوجھ بڑھانے والی شرائط مسترد کی جائیں۔
کسانوں، زرعی مزدوروں، ہوم بیسڈ اور غیر رسمی شعبے کے محنت کشوں کو مکمل قانونی شناخت اور بنیادی مزدور حقوق دیے جائیں۔
موسمیاتی تبدیلی، شدید گرمی، سیلاب اور دیگر ماحولیاتی بحرانوں سے محنت کشوں کے تحفظ کے لیے جامع مزدور و ماحولیاتی پالیسی اور Just Transition(منصفانہ منتقلی) کا اصول اختیار کیا جائے؛ نیپال کی حالیہ ماحولیاتی تباہی سے سبق لیتے ہوئے پیشگی اقدامات کیے جائیں۔
لسانی، نسلی، مذہبی، فرقہ وارانہ اور علاقائی بنیادوں پر عوام کو تقسیم کرنے والی سیاست اور منصوبوں کا خاتمہ کیا جائے۔
سرکاری و عوامی اداروں کی نجکاری فوری طور پر روکی جائے۔
سیسی کے اسپتالوں میں ایچ آئی وی کے متاثرہ بچوں کے خاندانوں کے لیے مستقل مفت علاج اور معاوضہ کی ادائیگی کو یقینی بنایا جائے۔ ایچ آئی وی سانحہ میں ملوث تمام سیسی افسران کو قرار واقعی سزا دی جائے۔















