پاکستان میں نئے صوبوں کا مطالبہ کوئی نیا موضوع نہیں۔ وقتاً فوقتاً مختلف علاقوں سے نئے صوبوں یا انتظامی اکائیوں کے قیام کی آوازیں بلند ہوتی رہی ہیں۔ اس مطالبے کے حق میں زبان، ثقافت، جغرافیہ، آبادی، انتظامی سہولت اور وسائل کی منصفانہ تقسیم جیسے دلائل پیش کیے جاتے ہیں۔ دوسری جانب بڑی سیاسی جماعتیں، سول انتظامیہ، عسکری ادارے اور علاقائی سیاسی گروہ اس معاملے کو اپنے اپنے مفادات اور نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں۔ میرے نزدیک اس بحث کا اصل سوال صرف یہ نہیں کہ نئے صوبے بننے چاہئیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ پاکستان میں سیاسی، انتظامی اور مالی اختیار کس طرح تقسیم ہونا چاہیے۔
بڑی سیاسی جماعتوں کے لیے بڑے صوبے سیاسی طاقت کا اہم مرکز ہوتے ہیں۔ زیادہ آبادی کا مطلب زیادہ اسمبلی نشستیں، زیادہ وزارتیں، بڑا بجٹ اور وسیع سیاسی اثر و رسوخ ہے۔ نئے صوبے بننے سے یہ طاقت تقسیم ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض بڑی سیاسی جماعتیں نئے صوبوں کو اپنے سیاسی اور مالی اثر و رسوخ کے لیے ایک چیلنج سمجھ سکتی ہیں۔ دوسری طرف چھوٹی اور علاقائی سیاسی جماعتوں کے لیے نیا صوبہ ایک بڑے سیاسی موقع میں تبدیل ہو سکتا ہے، کیونکہ جو جماعت بڑے صوبے میں محدود علاقے تک مضبوط ہو، وہ اسی علاقے کو الگ صوبہ بنانے کے بعد پورے صوبے میں حکومت بنانے کی پوزیشن حاصل کر سکتی ہے۔
نئے صوبوں کے حق میں زبان اور ثقافت بھی اہم دلیل ہے۔ کسی بھی قوم اور معاشرے کے لیے زبان، ثقافت، تاریخ اور روایات بنیادی شناخت کی حیثیت رکھتی ہیں اور ان کا تحفظ ضروری ہے۔ تاہم پاکستان کی سماجی حقیقت یہ ہے کہ زبان اور ثقافت ہر جگہ یکساں نہیں رہتی۔ بعض علاقوں میں چند کلومیٹر کے فاصلے پر زبان، لہجہ اور ثقافتی انداز بدل جاتا ہے، جبکہ بڑے شہروں میں کئی زبانیں بولنے والے لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں۔ اس لیے زبان اور ثقافت کے حقوق کا تحفظ ضرور ہونا چاہیے، لیکن زبان کو لازماً صوبائی سرحد کا معیار بنانا ضروری نہیں۔
جغرافیہ بھی نئے صوبوں کے مطالبے کی ایک اہم وجہ ہے۔ اگر کسی علاقے کے عوام کو صوبائی دارالحکومت تک پہنچنے میں طویل سفر کرنا پڑے اور بنیادی سرکاری سہولیات ان کی دسترس سے دور ہوں تو انتظامی تقسیم کی ضرورت محسوس ہونا فطری ہے۔ اسی طرح قبائل اور برادریاں بھی پاکستان کی سماجی زندگی کا اہم حصہ ہیں۔ لیکن قبائل بھی ہمیشہ ایک مخصوص جغرافیائی حدود میں محدود نہیں ہوتے۔ ایک قبیلہ کئی اضلاع میں آباد ہو سکتا ہے اور ایک ضلع میں کئی قبائل موجود ہو سکتے ہیں۔ اس لیے جغرافیہ اور قبائلی شناخت اہم عوامل ضرور ہیں، مگر انہیں واحد معیار نہیں بنایا جا سکتا۔
آبادی کی بنیاد پر نئے صوبوں کا مطالبہ نسبتاً مضبوط دلیل رکھتا ہے۔ اگر ایک صوبہ بہت زیادہ آبادی اور وسیع رقبے کی وجہ سے مؤثر انداز میں چلانا مشکل ہو جائے تو انتظامی تقسیم پر غور کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ پاکستان کی مالی حالت کو بھی سامنے رکھنا ہوگا۔ نیا صوبہ صرف نقشے پر نئی لکیر نہیں بناتا بلکہ نئی اسمبلی، سیکرٹریٹ، محکمے، اعلیٰ افسران، سرکاری عمارتیں، گاڑیاں اور دیگر انتظامی اخراجات بھی پیدا کرتا ہے۔ اس لیے سوال یہ ہونا چاہیے کہ نیا صوبہ عوامی سہولت میں حقیقی اضافہ کرے گا یا صرف سرکاری ڈھانچے اور اخراجات میں اضافہ کرے گا؟
قدرتی وسائل نئے صوبوں کی بحث کا سب سے حساس پہلو ہیں۔ تیل، گیس، معدنیات، پانی اور دیگر وسائل کسی بھی علاقے کو معاشی طور پر مضبوط بنا سکتے ہیں۔ اگر کسی نئے صوبے کی حدود میں بڑے قدرتی وسائل موجود ہوں تو وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی کی تقسیم ایک اہم سیاسی اور مالی مسئلہ بن سکتی ہے۔ اس لیے کسی بھی نئی انتظامی تقسیم سے پہلے وسائل، رائلٹی، آمدنی اور وفاق و صوبوں کے مالی حصوں کے واضح اصول طے کرنا ضروری ہے۔ صوبوں کی حدود بدلنے کا مطلب بعض حالات میں وسائل کی سیاسی اور مالی حیثیت بدلنا بھی ہو سکتا ہے۔
سول انتظامیہ کی دلیل یہ ہے کہ چھوٹے صوبے حکومت کو عوام کے قریب لے آتے ہیں اور انتظامی کارکردگی بہتر بناتے ہیں۔ اصولی طور پر یہ بات درست ہو سکتی ہے، لیکن اس کا دوسرا پہلو بھی ہے۔ نیا صوبہ نئے سیکرٹریٹ، محکمے، اعلیٰ عہدے اور سرکاری مراعات پیدا کرتا ہے۔ یوں نئے صوبے بعض حالات میں سول انتظامیہ کی اجارہ داری، اختیارات اور مراعات میں اضافے کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ اگر نئے صوبے بنائے جائیں تو ان کے ساتھ افسر شاہی کی اصلاح، شفافیت، اختیارات کی حد بندی اور مضبوط مقامی حکومت بھی ضروری ہونی چاہیے۔
پاکستان میں ریاستی طاقت کی بحث عسکری اداروں کے کردار کے بغیر بھی مکمل نہیں ہوتی۔ یہ سوال موجود رہتا ہے کہ چھوٹی انتظامی اکائیاں بڑے سیاسی مراکز کو کمزور یا زیادہ قابلِ انتظام بنا سکتی ہیں۔ تاہم بغیر ٹھوس ثبوت کسی خاص انتظامی تجویز کو کسی خفیہ عسکری منصوبے کا حصہ قرار دینا مناسب نہیں۔ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ انتظامی تقسیم کے نتیجے میں اختیار عوام تک پہنچتا ہے یا طاقت کے موجودہ مراکز کو اثر و رسوخ کی نئی سطحیں حاصل ہوتی ہیں۔
(جاری ہے)















