پاکستان زیادہ سے زیادہ غیر ملکی سیاحوں کو راغب کر کے سیاحت کو ملکی معیشت کا اہم حصہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ لیکن کچھ حلقے اگر سیاحتی شعبے کے مضبوطی کے لیے پرامید ہیں، تو دیگر کے مطابق سکیورٹی خدشات بھی ایک خطرہ ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار اور اقتصادی شعبے کی مختلف رپورٹوں کے مطابق پاکستان کے سیاحتی شعبے میں دلچسپی بڑھ رہی ہے اور حالیہ برسوں میں ملک میں غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں اضافہ بھی ہوا ہے۔ پاکستانی حکومت اور ٹورزم انڈسٹری سے وابستہ افراد اور ادارے اب اس شعبے کو زر مبادلہ اور معاشی ترقی کے ایک اہم ذریعے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ملک کی سکیورٹی صورت حال سیاحتی صنعت کے لیے خدشات کا باعث بھی بن رہی ہے۔سیاحتی شعبے سے وابستہ ماہرین کے مطابق پاکستان کے شمالی علاقوں میں نہ صرف ملکی سیاحوں کی آمد بڑھی ہے بلکہ غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس سے مقامی لوگوں کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔انفراسٹرکچر کو اور بہتر کرنے سے مزید غیر ملکی سیاحوں کو پاکستان کی طرف راغب کیا جا سکتا ہے۔ سیاحت کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ لوگ خود کو آزاد محسوس کریں اور بغیر غیر ضروری پابندیوں کے گھوم پھر سکیں۔ ’ہم جب کسی دوسرے ملک میں جاتے ہیں، تو خود کو آزاد محسوس کرتے ہیں اور اپنی مرضی سے گھومتے پھرتے ہیں۔ اگر پاکستان میں غیر ملکی سیاحوں کو بھی ایسا ماحول فراہم کرنا ہے، تو سکیورٹی کے اس مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کرنا ہو گا، ورنہ آنے والے دنوں میں پاکستان میں فارن ٹورزم کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔‘















