جدہ ( ڈاکٹر سمیرہ عزیز) تفریح کی کوئی سرحد نہیں: سعودی وژن 2030 کی روح کے تحت مختلف قومیتوں کے افراد کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی کاوش دو روزہ پاک سعودی فوڈ، فَن اینڈ آرٹ فیسٹیول 27 اور 28 اگست 2026 کو ڈاکٹر سمیرہ عزیز کی قیادت میں کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا، جس میں سمر فن کے جنرل منیجر حمید الجہنی نے سہولت کاری اور انتظامی تعاون فراہم کیا۔ جدہ میں شاہراہ الحرمین کے مشرقی جانب واقع ضلع السامر میں منعقد ہونے والے اس فيملی میلے میں تمام قومیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کا خیرمقدم کیا گیا۔ خواتین، مردوں اور بچوں کی ایک بڑی تعداد نے ’’ سمر فن ‘‘کے عنوان کے تحت پاکستانی اور سعودی پکوانوں، فنون و دست کاری، خریداری، لائيوموسیقی، بچوں کی تفریح، آبی سرگرمیوں اور دیگر دلچسپ سہولتوں سے لطف اٹھایا۔ فیسٹیول کا مقصد سعودی پاکستانی ثقافتی تبادلے کو فروغ دینا، خواتین، دست کاروں، فنِ طباخی سے وابستہ شرکا اور ابھرتی ہوئی تخلیقی صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی کرنا اور انہیں اپنی مہارتیں اور تخلیقات جن میں کھانے، ملبوسات، لوازمات، فن پارے اور دست کاری کی اشیا شامل تھیں پیش کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا۔ اس اقدام کا مقصد فيملی تفریح، خدمت و تواضع اور سماجی تعاون، تخلیقی سرگرمیوں اور باہمی ثقافتی تبادلے کے ذریعے سعودی اور پاکستانی برادریوں کے ساتھ ساتھ دیگر مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھی ایک دوسرے کے قریب لانا تھا۔ معروف بین الاقوامی شخصیات شیف تھامس اے گوگلر، سابق صدر ورلڈ شیفس اور سعودی ایئرلائنز کیٹرنگ کمپنی میں نائب صدر برائے فنِ طباخی – اور شیف یاسر جاد، ایگزیکٹو مشیر برائے حکمتِ عملیِ فنونِ طباخی و ضیافت اور سارکا کے صدر و بانی، نے مہمان ججوں کی حیثیت سے تقریب میں شرکت کی۔ شیف یاسر جاد نے پیرس میں ایکسپو 2030 کی امیدواری کے سلسلے میں منعقدہ اعلیٰ سطحی گالا ڈنر کی قیادت بھی کی تھی اور وہ بین الاقوامی مقابلوں میں سعودی فنِ طباخی کی موجودگی اور نمائندگی کو مسلسل فروغ دے رہے ہیں۔قیادت اور انتظام سعودی میڈیا پروفیشنل اور کاروباری خاتون ڈاکٹر سمیرہ عزیز اس فیسٹیول کی روحِ رواں تھیں۔ انہوں نے اس اقدام کو ایک ایسے پلیٹ فارم کی شکل دی جہاں خواتین، فنکار، شیفس، پرفارمرز، دست کار اور ابھرتی ہوئی تخلیقی صلاحیتوں کے حامل افراد اپنی قابلیت کا مظاہرہ کرسکیں، خوداعتمادی پیدا کریں اور متنوع حاضرین کے ساتھ روابط قائم کرسکیں۔ تقریب کے حوالے سے اپنے وژن پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر سمیرہ عزیز نے کہا’’ہم نے موسمِ گرما کے دوران اس فیسٹیول کا انعقاد خواتین کو سرگرم کرنے، ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور انہیں اپنا ہنر اور کام پیش کرنے کے مواقع فراہم کرنے کے لیے کیا۔ ان کا جوش و خروش غیرمعمولی تھا اور ماحول عید کا سماں پیش کر رہا تھا۔ میرا بنیادی مقصد محبت اور امن کو عام کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا تفریح کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ سعودی وژن 2030 کی روح کے مطابق، جو کشادہ دلی، معیارِ زندگی میں بہتری اور دنیا بھر کے لوگوں کے ساتھ مثبت روابط کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، میں ایسے اقدامات جاری رکھنا چاہتی ہوں جو ثقافتی تبادلے، تخلیقی شمولیت اور سعودی عرب میں مختلف برادریوں کے درمیان مضبوط روابط کو فروغ دیں۔ ڈاکٹر سمیرہ عزیز نے وضاحت کی کہ ان کے اقدامات کا مقصد سعودی معاشرے کے ساتھ پاکستانی، بھارتی، بنگلہ دیشی، فلپائنی، یورپی، امریکی اور دیگر تارکینِ وطن برادریوں کو سعودی عرب کے اندر اور بیرونِ ملک سرگرمیوں میں شامل کرنا ہے۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی اور سمر فن کے جنرل منیجرکی حیثیت سے حامد الجہنی نے فیسٹیول کی مجموعی سہولت کاری میں اہم کردار ادا کیا۔ فیسٹیول کے حوالے سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے حامد الجہنی نے کہا ہم نے ایک خوب صورت بازار قائم کیا، جس نے پاکستان اور سعودی عرب کو یکجا کیا اور خاندانوں کے لیے بہترین سرگرمیاں فراہم کیں۔ اس فیسٹیول کی سب سے نمایاں خصوصیت سعودیوں اور پاکستانیوں کو شانہ بشانہ شرکت کرتے دیکھنا تھا۔ اداکار، فلم و ٹیلی وژن ڈائریکٹر اور ٹی وی میزبان سلطان عبدالرحمن نے ایونٹ مینیجر اور میزبان کی ذمہ داریاں انجام دیں۔ انہوں نے بچوں کا پروگرام پیش کیا اور فیسٹیول کی ثقافتی، خاندانی اور تفریحی سرگرمیوں کی رابطہ کاری میں تعاون کیا۔:فیسٹیول کی سرگرمیاںفیسٹیول میں خاندانوں اور مختلف عمر کے افراد کے لیے متنوع سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا۔ ان سرگرمیوں میں شاپنگ اسٹالز اور کمیونٹی بازار، کیفے اور کھانے کے مراکز، پکوانوں کا مقابلہ، مصوری، لائيوورکشاپس، فنون و دست کاری کی سرگرمیاں، لائيوموسیقی، بچوں کے شوز اور کھیل، آبی تفریحی سہولتیں اور دیگر دلچسپ سرگرمیاں شامل تھیں۔ پکوانوں کے مقابلے میں پاکستانی ذائقوں کا جشن فیسٹیول کے کُلنری پروگرام کی نگرانی شیف افشاں منصور نے کی، جو ٹی وی پرسنالٹی، ہمہ جہت شیف، فنِ طباخی کی تربیت کاراور ڈاکٹر سلیمان الحبیب ہسپتال میں فوڈ آڈیٹر ہیں۔ انہوں نے جدہ میں مقیم کھانا پکانے کے شوقین خواتین کے لیے منعقدہ پکوانوں کے مقابلے کی قیادت کی۔ شرکا نے روایتی پکوان، منفرد تراکیب اور کھانا پکانے کے اپنے مخصوص انداز پیش کیے۔ مقابلے نے پاکستانی کھانوں کے تنوع کو اجاگر کرنے کے ساتھ سعودی عرب میں مقیم پاکستانی خواتین کی فنِ طباخی کی صلاحیتوں کا بھی بھرپور مظاہرہ کیا۔ شیف تھامس اے گوگلر اور شیف یاسر جاد نے مہمان ججوں کی حیثیت سے پکوانوں کا جائزہ لیا اور اپنی پیشہ ورانہ آرا، رہنمائی اور حوصلہ افزائی کے ذریعے شرکا کی پذیرائی کی۔ (نوٹ: پکوانوں کے مقابلے کے نتائج کا اعلان اگلے ہفتہ کیاجائےگا) انشاءاللہ















