آئو یار کرپشن کرتے ہیں

Baba-Alif

صاحبو! جمہوریت میں سیاست دان اور حکومتیں بچوں کے ڈائپرز کی طرح ہوتی ہیں جنہیں بار بار تبدیل کرنا پڑتا ہے۔ بچوں اور لیڈروں کے ڈائپر بدلنے کی وجہ یکساں نہیں ہوتی۔ لیڈروں کے ڈائپر کرپشن کی وجہ سے بدلے جاتے ہیں۔ تاہم کیا کیجیے جمہوریت ہوگی تو لیڈر بھی ہوں گے، کرپشن بھی ہوگی۔ جمہوریت، لیڈر اور بادل کا کوئی پتا نہیں۔ تینوں ہی غریبوں کی چھتوں پر برستے ہیں اور ان کا چین بہا کر لے جاتے ہیں۔ جس طرح لیڈر اور عوام لازم وملزوم ہیں جمہوریت اور کرپشن بھی دودھ شریک ہیں۔ کرپشن جمہوریت کا ناجائز بچہ ہے او ر جمہوریت سرمایہ دارانہ نظام کی انشورنس پالیسی۔

صدر زرداری کو کسی زمانے میں مسٹر ٹین پرسنٹ کہا جاتا تھا۔ یہ اسی کا فیض ہے کہ وہ دو مرتبہ ملک کے صدر بن چکے ہیں۔ جس طرح ہمارے یہاں کرپشن فروغ پارہی ہے، اللہ کرے گا تو وہ تیسری مرتبہ بھی صدر بن جائیں گے۔ جس استقامت سے وہ اسٹیبلشمنٹ سے الجھے ہیں، تیسری مرتبہ بھی حصہ دار بنائے جاسکتے ہیں۔ جمہوریت میں کوئی فعل ایسا نہیں ہوتا جس پر ناک کٹ جائے۔ یہاں آپ جھوٹ بول سکتے ہیں، دھوکا دے سکتے ہیں، چوری اور کرپشن کرسکتے ہیں اس کے باوجود لوگ اعلیٰ ترین عہدوں پر پہنچ جاتے ہیں۔

لاکھ نقائص سہی لیکن جس نفاست اور ہائی ٹیک انداز سے جمہوریت میں کرپشن کی جاتی ہے، اس میں عزت سادات اور دستار ہی نہیں سر بھی نہ صرف سلامت رہتے ہیں بلکہ مزید کرپشن کرنے کے لیے اور شہ پاتے رہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ پھر کرپشن عوام کے لیے شجر ممنوع کیوں ہے؟ کرپشن کے دروازے عوام کے لیے کیوں بند ہیں؟ حکومتیں عوام سے کہتے نہیں تھکتیں کہ آئیے مل کر ملک کی تقدیر بدلتے ہیں، عوام کی تقدیر بدلنے کے لیے یہ کیوں نہیں کہتیں کہ آئو مل کر کرپشن کرتے ہیں۔ کرپشن کرنے کے لیے تمام دروازے ہم نے چوپٹ کھول دیے ہیں۔ کیا عوام کا حق نہیں ہے کہ وہ بھی اس ملک کے وزیر بنیں، مشیر بنیں، وزیراعظم بنیں، صدر بنیں!

عوام کو کرپشن کے جوہڑوں اور تالابوں تک محدود رکھنے کی ایک وجہ شاید یہ ہے کہ وہ اس عظیم فن کے اُلٹ پھیر سے پوری طرح آگاہ نہیں ہیں۔ چھوٹی چھوٹی چوریاں کرتے ہیں اور ان میں بھی پکڑے جاتے ہیں۔ ان نالائقوں کو اس نظام کا حصہ بنانے سے کرپشن کی مارکیٹ ویلیو گر جائے گی۔ حکومت نہیں چاہتی کہ اتنے بڑے اور مقدس فن کی مٹی خراب ہو جس کی رینج کروڑوں اور اربوں روپے تک پہنچ گئی ہے۔ کرپشن ایک وی آئی پی کلب ہے۔ قانون کو جس کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں۔ پچھلے مہینے 7 اگست کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا ایک اجلاس ہوا۔ اس میں نیب کے چیئرمین ریٹائرڈ جنرل نذ یر احمد بٹ پیش ہوئے انہوں نے ایک عظیم کاٹ دار جملہ کہا ’’مجھے کرپشن کے سمندر میں ہاتھ باندھ کر پھینک دیا گیا ہے۔ کم از کم میرے ہاتھ تو کھولو‘‘۔

چیئرمین نیب کا یہ اعتراف حکومت پر فرد جرم ہے۔ سیاست دان کا کرپشن چھپانے کا سب سے بڑا ہتھیار اس کا خوب صورت جھوٹ ہوتا ہے۔ پاکستان میں اس کی بھی ضرورت نہیں۔ جمہوریت سیاست دانوں کو کرپٹ کرتی ہے اور مطلق طور پر کرپٹ کرتی ہے۔ چیئرمین نیب کا کہنا ہے سب سے زیادہ شور مچانے والوں کے کھُرّوں سے ہی سب سے زیادہ مال نکلتا ہے۔ اشارہ یقینا بہت سارے اراکین قومی اسمبلی، سینیٹرز اور ان کے قریب کام کرنے والے وفاقی اور صوبائی سیکرٹریز کی طرف تھا جن کے گھروں سے کروڑوں نہیں بلکہ اربوں روپے برآمد ہوتے ہیں جو ججوں کی طرح دونوں فریقوں سے رشوت لیتے ہیں تاکہ جانبداری کا الزام نہ لگے۔

حکومتوں کے تعاون سے پاکستان میں کرپشن کی میلی گنگا کس روانی سے بہہ رہی ہے اس کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ اپریل 2022 میں ایک قانون کا این آر او آیا جب 9 اپریل کو شہباز شریف پی ڈی ایم حکومت کے وزیراعظم بنے تھے۔ نیب آرڈیننس 1999 میں جس میں ترمیم کرتے ہوئے یہ اضافہ کیا گیا کہ نیب میں پیش ہونے والے کرپشن کے مقدمات کی نئی حد 50 کروڑ روپے ہوگی۔ اس سے کم کی کرپشن پر نیب ہاتھ نہیں ڈالے گا۔ اس کے علاوہ وفاقی کابینہ اور اس کی ذیلی کمیٹیوں کے فیصلوں کو نیب کی تحقیقات سے مستثنیٰ قرار دے دیا گیا۔ یعنی کابینہ کا کوئی بھی فیصلہ، خواہ اس سے ملک کو کتنا ہی مالی نقصان پہنچے، نیب اس کی انکوائری نہیں کر سکتا۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے دائرہ کار میں آنے والے ٹیکس، لیویز اور دھوکا دہی کے مقدمات بھی نیب سے واپس لے لیے گئے۔ اس کا فوری فائدہ محترم اسحاق ڈار کو پہنچا جن کا تقریباً 50 کروڑ کا آمدن سے زائد اثاثہ جات کا کیس نیب میں پھنسا ہوا تھا۔ جو امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی میں ملوث رہا ہو اس قیمتی فرد کو محض 50 کروڑ کی کرپشن کرنے پر ضائع کردیا جائے۔ یقینا ملک وقوم اس نقصان کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

معاملہ یہیں آکر نہیں رکا۔ مارچ 2026 کے آغاز میں پارلیمنٹ سے عجلت میں منظور کروائے گئے اور صدر آصف علی زرداری کے دستخط کے بعد نافذ ہونے والے ’’نیشنل اکائونٹی بلیٹی (ترمیم) ایکٹ 2026‘‘ کے تحت قانون کی دفعہ 6 میں ترمیم کرکے وفاقی حکومت کو یہ اختیار دے دیا گیا کہ وہ چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کرسکتی ہے۔ پرانے قانون میں چیئرمین نیب کی تین سالہ مدت ملازمت میں کسی قسم کی تو سیع کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ اس بل کے پاس ہوتے ہی وہ چیئرمین نیب جو کرپشن کے سمندر میں ہاتھ کھولنے کی معصومانہ خواہش کررہے تھے مارچ 2029 تک پھر کرپشن کے سمندر کے چیئرمین بنادیے گئے۔

کوئی یزداں ہے یہاں، کوئی فرشتہ ہے یہاں
کیا برائی تھی اگر آدمی انساں ہوتا

آپ سوچ رہے ہوں گے اس کے بعد حکومت نے کرپشن کو مزید فروغ دینے سے اجتناب کرتے ہوئے ہاتھ کھڑے کردیے ہوں گے۔ آپ کا خیال غلط ہے۔ پاکستان میں حکومتیں اتنی پست حوصلہ نہیں ہوتیں۔ 2026 کی ترامیم کے تحت قانون میں ایک انوکھی شق شامل کی گئی، جس کی رو سے نیب کے دائرہ اختیار کے لیے مقرر کردہ 50 کروڑ روپے (500 ملین) کی کم از کم حد کو پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (PBS) کے جاری کردہ مہنگائی کے انڈیکس سے جوڑ دیا گیا ہے۔ یہ قانون طے کرتا ہے کہ یکم جولائی 2022 کو بنیاد (Base Value) بنا کر ہر سال مہنگائی کے تناسب سے یہ حد خود بخود بڑھتی رہے گی۔ چونکہ پاکستان میں جولائی 2022 سے لے کر 2026 تک مہنگائی کی شرح مجموعی طور پر تقریباً 50 سے 60 فی صد تک بڑھی ہے، اس لیے 50 کروڑ روپے کی وہ بنیادی رقم مہنگائی کے انڈیکس کے حساب سے اب ایڈجسٹ ہو کر تقریباً 75 سے 80 کروڑ روپے کے مساوی بنتی ہے۔ اس کا عملی مطلب یہ ہوا کہ اب نیب صرف ان مقدمات پر ہاتھ ڈال سکے گا جہاں مبینہ کرپشن کی رقم تقریباً 80 کروڑ روپے سے زائد ہو۔ اگر کوئی شخص 70 یا 75 کروڑ روپے کی بھی مبینہ بد عنوانی کرے گا تو نیب اس کے خلاف کارروائی کرنے کا مجاز نہیں رہا۔ اس قانون کے بعد بھی اگر کوئی کرپشن نہیں کرتا تو سمجھیے وہ پاکستان میں پیدا ہی غلط ہوا ہے۔ بس ایک احتیاط کرنی ہے کرپشن کی رقم 80 کروڑ سے دوچار سو روپے کم ہو۔ اس قانون سے واضح ہے کہ اگر آپ چھوٹی موٹی چوری کریں گے تو جیل جا ئیں گے، 80 کروڑ سے ذرا کم کی چوری کریں گے تو لندن یا دبئی جا ئیں گے۔ تو پھر آئو یار کرپشن کرتے ہیں اور جی بھر کے کرتے ہیں مگر 80 کروڑ سے ذرا کم۔

مزید خبریں

Scroll to Top