نیپال اور چینی تبت میں سیلاب کی تباہ کاریوں نے پورے ہمالیائی خطے کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔ ہم سب ہمالیائی خطے کے مکین ہیں اور ہمالیہ کے بلند اور مسکراتے ہوئے برف پوش پہاڑوں کی خاموشی اور مسکراہٹ کے پیچھے قدرت کے جو بہت سے راز نہاں اور پوشیدہ ہیں ان میں زلزلوں اور سیلابوں کی صورت میں آفات بھی شامل ہیں۔ ان پہاڑوں کی تہہ میں توانائی کے ذخائر ایک کئی فالٹ لائنز بنائے ہوئے ہیں جو ٹیکٹونک پلیٹس کے حرکت میں آنے اور ٹکرانے کی صورت میں تباہ کن زلزلوں کا باعث بنتے ہیں۔ اسی سلسلہ ہائے کوہ میں ماحول کو متاثر کرنے والے اقدامات کے باعث فطرت کے نظام میں ایک عدم توازن پیدا ہوتا نظر آرہا ہے جو معمول سے زیادہ بارشوں، کلاوڈ برسٹ یعنی بادلوں کے پھٹنے اور نتیجے میں فلیش فلڈ ز اور لینڈ سلائیڈز کا باعث بنتا جا رہا ہے۔ ہر سال بگولوں کے اْڑنے اور بادلوں کے پھٹنے کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ نیپال اور تبت میں آنے والی تباہی نے دنیا کو ایک بار پھر ہلا کر رکھ دیا ہے۔ نیپال میں ہزاروں گھر سیاحتی مراکز بازار سب کچھ تباہ ہو گیا اور سیکڑوں افراد مارے گئے ہیں اور ساڑھے چار سو کے قریب تاحال لاپتا ہیں جن میں غیر ملکی سیاحوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے۔ اس وقت دنیا بھر کی توجہ نیپال اور تبت میں ریلیف اور ریسکیو کی جانب مبذول ہے۔ عالمی امدادی ادارے بحالی کے کاموں میں مصروف ہیں۔ عالمی میڈیا بھی اس واقعے کی بھرپور تشہیر کر رہا ہے۔
نیپا ل اور تبت کے حالات میں ہمارے لیے ایک گہرا سبق ہے۔ اس واقعے کو محض ایک خبر کے طور پر سن کر اْڑا دینا مسئلے کا حل نہیں بلکہ ہمالیائی ریجن کے حصے کے طور پر ماحولیاتی تبدیلی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ہمارے مسائل اور درپیش خطرات اور چیلنجز ایک ہیں۔ فطرت اپنے اصول تبدیل نہیں کرتی۔ حادثات اور سانحات انسانی زندگی کا حصہ ہیں۔ موسموں کے نامہرباں ہوجانے میں دیر نہیں لگتی مگر نقصان کا گراف کم رکھنا اور نقصان کے لیے پہلے سے تیاری وہ کام ہے جو انسانی بس میں ہے۔ حفاظتی تدابیر اختیار کرکے یہ کام کیا جا سکتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ اس وقت ہم ماحول دوست اقدامات کے بجائے ماحول دشمن اقدامات میں جْتے ہوئے ہیں۔ یہ ماحول دشمنی نہیں بلکہ خودکشی ہے کیونکہ ماحول کی خرابی کے اثرات کا سامنا بھی ہمیں ہی کرنا پڑتا ہے۔ گلیشیرز کے ٹوٹنے اور پگھلنے کے ساتھ ساتھ ہمارے پہاڑی ماحولیاتی نظام کمزور اور غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی یقینا تباہ کن واقعات کی اصل وجہ ہے مگر یہاں تھوڑا سا رُک کر ہمیں اپنے انفرادی اور اجتماعی کردار کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔ ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ ہمارا پنا طرز ترقی اس صورت حال کو کس طرح مزید خطرناک بنا رہا ہے۔
یہ خطہ جھیلوں، پہاڑوں اور دریاؤں سے مزین ہے جو دنیا بھر کے سیاحوں کو یہاں کھینچ لاتا ہے۔ جو مقامی آبادیوں کے لیے ایک بڑا ذریعہ معاش بھی ہے لیکن جس بے دردی کے کے ساتھ ہم تجارت اور ترقی کے نام پر اپنے اس قدرتی ماحول کو کا استحصال کررہے ہیں وہ نہایت تشویشناک ہے۔ سڑکوں کے لیے پہاڑوں کو کاٹا اور بلاسٹ کیا جاتا ہے بستیوں کی تعمیر کے لیے درختوں کا کاٹا جاتا ہے۔ ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقوں میں ہوٹلز اور اور دیگر عمارات تعمیر کی جارہی ہیں۔ قدرتی نالوں اور آبی گزرگاہوں پر سرکاری سرپرستی میں قبضے کرکے انہیں متاثر کیا جا رہا ہے۔ یہ سب مناسب سائنس اور ماحولیاتی حفاظتی اقدامات کے بغیر جاری رہا تو ہم اپنے لیے ایک بڑی آفت کا سامان کریں گے۔ ویٹ لینڈز جھیلوں اور قدرتی سیلابی راستوں پر مسلسل تجاوزات کا سلسلہ جاری ہے۔ ویٹ لینڈ یا خالی زمینیں یونہی بے کار نہیں ہوتیں بلکہ یہ سیلابوں اور بارشوں کا پانی جذب کرنے اور انہیں بستیوں کی جانب جانے سے روکنے کا ایک قدرتی نظام ہوتا ہے۔ ایسی زمینوں پر قبضوں کے بعد تعمیرات کے ذریعے حقیقت میں فطرت سے جنگ لڑی جاتی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ حکمران ماحول دوستی کو محض بیرونی منصوبوں اور نعروں کے لیے اور ٹھنڈے ہالوں میں سیمیناروں تک محدود رکھنے کے بجائے آنے والے طوفان کی آمد کا اشارہ جان کر ٹھوس منصوبہ بندی کریں تاکہ مستقبل میں کسی تباہ سے بچا سکے۔ نیپال میں تباہی کے مناظر کا یہی پیغام اور انتباہ ہے۔















