پاکستان میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کی بحث ایک بار پھر قومی سیاسی منظرنامے کے مرکز میں آ گئی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایک مرتبہ پھر یہ مؤقف اختیار کیا ہےا کہ نئے انتظامی یونٹس بن کر رہیں گے اور کوئی انہیں روک نہیں سکتا۔ تاہم اسی بیان میں انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ نظام میں تبدیلی آئین و قانون کے دائرے میں اور سیاسی اتفاقِ رائے سے ہونی چاہیے، جبکہ نئے یونٹس کا فیصلہ کسی ایک سیاسی جماعت یا فرد کی مرضی سے نہیں بلکہ عوام کی خواہش کے مطابق ہونا چاہیے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے اس اہم بحث کو جذبات، جماعتی مفادات اور علاقائی نعروں سے نکال کر سنجیدہ قومی مکالمے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ محسن نقوی کی یہ بات اپنی جگہ قابل ِ غور ہے کہ 79 برس گزرنے کے باوجود پاکستان کا موجودہ انتظامی ڈھانچہ عوام کو تعلیم، صحت، صاف پانی، روزگار، انصاف اور شہری سہولتوں کی مطلوبہ فراہمی یقینی نہیں بنا سکا۔ آبادی کئی گنا بڑھ چکی ہے، شہروں کا پھیلاؤ ہو چکا ہے، بڑے شہری مراکز کے مسائل پیچیدہ ہو گئے ہیں، مگر حکمرانی کا ڈھانچہ بڑی حد تک اسی پرانے سانچے میں موجود ہے۔ اس لیے یہ سوال ضرور اٹھنا چاہیے کہ کیا موجودہ انتظامی ساخت اکیسویں صدی کے پاکستان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے؟ لیکن یہاں ایک بنیادی فرق ملحوظ رکھنا ہوگا: نظام کی ناکامی کا علاج لازماً نئے صوبے ہی ہیں اور پھر اس کا ذمے دار کون ہے؟ پاکستان میں حکمرانی کا ایک بڑا مسئلہ اختیارات کا غیر مؤثر ارتکاز بھی ہے۔ آئین کا آرٹیکل 140-A صوبوں کو پابند کرتا ہے کہ وہ بلدیاتی نظام قائم کریں اور سیاسی، انتظامی اور مالی ذمے داریاں منتخب بلدیاتی نمائندوں کو منتقل کریں۔ اگر صوبائی حکومتیں یہ بنیادی آئینی ذمے داری پوری نہیں کرتیں تو محض نئے صوبے بنا دینے سے عوام کے مسائل خود بخود حل نہیں ہوں گے۔ یہی وہ پہلو ہے جسے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے بھی نمایاں کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نئے صوبے یا انتظامی یونٹس بنانا کوئی آئین سے ماورا عمل نہیں، لیکن اس کے لیے آئینی طریقہ کار اور عوامی رائے کو بنیاد بنانا ضروری ہے۔ ان کے مطابق موجودہ نظام کی ناکامی کا اعتراف کافی نہیں، اسے درست بھی کرنا ہوگا۔ یہ مؤقف اس بحث کو ایک اہم توازن فراہم کرتا ہے۔ اگر کسی علاقے کے عوام یہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ صوبائی انتظام ان کے مسائل حل نہیں کر رہا، وسائل کی منصفانہ تقسیم نہیں ہو رہی اور فیصلہ سازی ان کی پہنچ سے دور ہے تو اس آواز کو محض لسانی یا سیاسی تعصب قرار دے کر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری طرف کسی صوبے کی تاریخی، ثقافتی اور سیاسی شناخت کو بھی محض انتظامی سہولت کے نام پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ میں اس معاملے پر پاکستان پیپلز پارٹی کا مؤقف سخت ہے اور ان کے اپنے مسائل ہے اور وہ بہت کچھ کھونے سے متعلق ہیں۔ سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے سندھ کی تقسیم کی مخالفت کی ہے اور نثار کھوڑو سمیت پارٹی کے ارکان نے واضح کیا ہے کہ سندھ کے ٹکڑے قبول نہیں کیے جائیں گے۔ پارٹی نے اس معاملے پر صوبائی اسمبلی میں قرارداد لانے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ مگر یہاں ایک دوسرا سوال بھی اتنا ہی اہم ہے: کیا کسی صوبائی جماعت کی مخالفت ہی آخری فیصلہ ہے؟ جمہوریت میں جواب بھی نفی میں ہے۔ نہ وفاقی وزیر کی خواہش حتمی فیصلہ ہو سکتی ہے اور نہ کسی صوبائی جماعت کا انکار۔ حتمی فیصلہ آئین، پارلیمان، متعلقہ صوبائی اسمبلی اور سب سے بڑھ کر عوامی رضامندی کے آئینی طریقہ کار سے ہونا چاہیے۔ یہاں محسن نقوی کا اپنا مؤقف قابل ِ توجہ ضرور ہے کہ نئے انتظامی یونٹس کا فیصلہ کسی ایک شخص یا سیاسی جماعت کی مرضی سے نہیں ہونا چاہیے۔ یہی اصول اس پوری بحث کی بنیاد بننا چاہیے، لیکن یہ جمہوری عمل کیسے مکمل ہوتا ہے یہ بھی پوری قوم کے سامنے ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ آئین نے صوبے کی حدود تبدیل کرنے کے لیے واضح راستہ مقرر کر رکھا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 239 کے تحت کسی صوبے کی حدود تبدیل کرنے والی آئینی ترمیم کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت ضروری ہے، جبکہ آئینی ترمیم کے لیے پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں بھی دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔ لہٰذا ’’کوئی نہیں روک سکتا‘‘ جیسے سیاسی جملے آئینی حقیقت سے بڑے نہیں ہو سکتے۔ پاکستان میں صوبہ بنانے یا اس کی حدود تبدیل کرنے کا اختیار کسی فرد کے پاس نہیں، بلکہ آئینی اداروں کے پاس ہے۔ یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ’’انتظامی یونٹ‘‘ اور ’’صوبہ‘‘ ایک ہی چیز نہیں۔ اگر مسئلہ عوام تک حکومت کی رسائی کا ہے تو نئے اضلاع، ڈویژن، مضبوط بلدیاتی ادارے، بااختیار میئر اور مقامی حکومتیں بھی بہت سے مسائل حل کر سکتی ہیں۔ اگر کراچی جیسے شہر میں شہری حکومت کے پاس پانی، ٹرانسپورٹ، صفائی، ماس ٹرانزٹ، منصوبہ بندی اور بلدیاتی مالیات پر مؤثر اختیار نہ ہو تو صرف صوبہ تقسیم کرنے سے شہری زندگی میں لازماً انقلاب نہیں آئے گا۔ جماعت اسلامی کا یہ مؤقف بھی اسی لیے اہم ہے کہ اگر مؤثر بلدیاتی نظام موجود ہو تو نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت شاید کم ہو جائے۔ اس وقت اصل سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ’’نئے صوبے بنیں یا نہ بنیں؟‘‘ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کو ایسا انتظامی اور حکومتی نظام کیسے دیا جائے جس میں ہر شہری کو اپنے مسائل کے حل تک رسائی حاصل ہو؟ اگر اس کا جواب نئے صوبوں میں ہے تو نئے صوبے بننے چاہئیں۔ اگر جواب مضبوط بلدیاتی حکومتوں، بااختیار میئرز، انتظامی یونٹس اور وسائل کی منصفانہ تقسیم میں ہے تو پہلے یہ اصلاحات کی جانی چاہئیں۔ اور اگر دونوں کی ضرورت ہے تو دونوں راستے اختیار کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔ سب سے خطرناک راستہ یہ ہوگا کہ نئے صوبوں کے نام پر لسانی اور علاقائی تقسیم کو ہوا دی جائے۔ سندھ میں سندھی اور مہاجر، پنجاب میں شمال اور جنوب، بلوچستان میں مختلف قومیتی شناختیں یا خیبر پختون خوا میں علاقائی تقسیم اگر سیاسی مفاد کے لیے استعمال ہونے لگے تو انتظامی اصلاحات کا مقصد ہی فوت ہو جائے گا۔ پاکستان کو نئے صوبوں سے زیادہ نئے طرزِ حکمرانی کی ضرورت ہے۔ حکومت اگر واقعی نظام کو ’’ری سیٹ‘‘ کرنا چاہتی ہے تو پہلے ایک قومی کمیشن یا وسیع تر قومی مکالمے کے ذریعے آبادی، رقبے، وسائل، انتظامی رسائی، معاشی استعداد، تاریخی شناخت اور عوامی خواہشات کا غیر جانب دار جائزہ لیا جائے۔ اس کے بعد ہر ممکنہ انتظامی یونٹ کے بارے میں عوام کو مکمل معلومات فراہم کی جائیں اور جہاں آئین تقاضا کرتا ہے وہاں عوامی رائے کو باقاعدہ آئینی طریقے سے سامنے لایا جائے۔ پیپلز پارٹی کو بھی چاہیے کہ وہ سندھ کی تقسیم کی مخالفت کے ساتھ ساتھ سندھ کے اندر اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی، مضبوط بلدیاتی اداروں اور وسائل کی شفاف تقسیم کا قابلِ عمل ماڈل پیش کرے۔ محض ’’سندھ تقسیم نہیں ہوگا‘‘ کہنا کافی نہیں؛ سندھ کے شہری اور دیہی عوام کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ موجودہ انتظامی نظام ان کے مسائل کیسے حل کرے گا۔ اسی طرح نئے صوبوں کے حامیوں کو بھی یہ ثابت کرنا ہوگا کہ نئے نقشے بنانے سے حکمرانی، روزگار، تعلیم، صحت، پانی، امن و امان اور وسائل کی تقسیم واقعی بہتر ہوگی۔ محض نئے وزیراعلیٰ، نئی کابینہ اور نئی بیوروکریسی پیدا کرنا اصلاحات نہیں، بلکہ انتظامی اخراجات میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔ پاکستان کو مزید طاقتور حکمرانوں کی نہیں، زیادہ بااختیار عوام کی ضرورت ہے۔ اس لیے نئے صوبوں کی بحث کو نہ تو دبایا جانا چاہیے اور نہ کسی خاص سمت میں زبردستی دھکیلا جانا چاہیے۔ عوام کو فیصلہ کرنے دیا جائے۔ اگر عوام انہیں مسترد کرتے ہیں تو کسی طاقت، جماعت یا حکومت کو ان پر مسلط کرنے کا حق نہیں ہونا چاہیے۔















