اور لگے اْن چیزوں کی پیروی کرنے، جو شیا طین، سلیمانؑ کی سلطنت کا نام لے کر پیش کیا کرتے تھے، حالانکہ سلیمانؑ نے کبھی کفر نہیں کیا، کفر کے مرتکب تو وہ شیاطین تھے جو لوگوں کو جادو گری کی تعلیم دیتے تھے وہ پیچھے پڑے اْس چیز کے جو بابل میں دو فرشتوں، ہاروت و ماروت پر نازل کی گئی تھی، حالانکہ وہ (فرشتے) جب بھی کسی کو اس کی تعلیم دیتے تھے، تو پہلے صاف طور پر متنبہ کر دیا کرتے تھے کہ ’’دیکھ، ہم محض ایک آزمائش ہیں، تو کفر میں مبتلا نہ ہو‘‘ پھر بھی یہ لوگ اْن سے وہ چیز سیکھتے تھے، جس سے شوہر اور بیوی میں جدائی ڈال دیں ظاہر تھا کہ اذنِ الٰہی کے بغیر وہ اس ذریعے سے کسی کو بھی ضرر نہ پہنچا سکتے تھے، مگراس کے باوجود وہ ایسی چیز سیکھتے تھے جو خود ان کے لیے نفع بخش نہیں، بلکہ نقصان د ہ تھی اور انہیں خوب معلوم تھا کہ جو اس چیز کا خریدار بنا، اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں کتنی بری متاع تھی جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا، کاش انہیں معلوم ہوتا!۔ (سورۃ البقرۃ:102)
سیدنا عبداللہ بن عباسؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہؐ جب رات کو تہجد پڑھنے کے لیے اٹھتے تو کہتے: ’’اے اللہ! ہر طرح کی تعریف تیرے لیے ہے، تو مدبر ہے آسمان و زمین کا اور ان چیزوں کا جوان کے درمیان ہیں اور تیر ی ہی تعریف ہے، تو نور ہے آسمان و زمین کا اور ان چیزوں کا جوان کے درمیان ہیں اور تیری ہی تعریف ہے، تو بادشاہ ہے آسمان و زمین کا اور ان چیزوں کا جوان کے درمیان ہیں اور تیری ہی تعریف ہے، تو سچا ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے اور تیرا ملنا برحق ہے اور تیری بات سچی ہے اور جنت و دوزخ برحق ہے اور کل پیغمبر برحق ہیں اور محمدؐ سچے ہیں اور قیامت برحق ہے۔ اے اللہ! میں تیرا فرمانبردار ہوں اور تجھ پر ایمان لایا ہوں اور تجھ پر بھروسا کیا ہے اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور تیری ہی مدد سے مخالفین کے ساتھ جھگڑتا ہوں اور تجھ ہی کو حاکم بناتا ہوں تو میرے اگلے پچھلے، ظاہر پوشیدہ گناہوں کو معاف فرما دے، تو ہی آگے اور پیچھے کرنے والا ہے، کوئی معبود نہیں مگر تو ہی‘‘۔ یا فرمایا: ’’تیرے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں‘‘۔ (بخاری)















