حکومت نے مذاکرات میں سنجیدگی نہ دکھائی تو پہیہ جام ‘ ٹرین مارچ ہوگا‘ حافظ نعیم الرحمن

لاہور(نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے موجودہ حکومت نااہل ترین ہے ، یہ اپنی نااہلی اور کرپشن چھپانے کے لیے سارا بوجھ عوام پر منتقل کررہی ہے، پیر سے حکومت سے مذاکرات کا آغاز ہوگا، مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو دھرنے حکومت گراؤ تحریک میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر پیٹرولیم لیوی کے خلاف جاری دھرنے کے بائیسویں روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ امیر لاہور ضیا الدین انصاری، امیر پنجاب وسطی جاوید قصوری اور سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی بھی اس موقع پر موجود تھے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ شہباز حکومت نے پیٹرولیم لیوی کی مد میں عوام سے چار ہزار ارب اکٹھے کیے ہیں تاہم جس مقصد کے لیے لیوی اکٹھی کی جاتی ہے اس مقصد کے حصول کی بجائے ریونیو اہداف کے حصول کے لیے استعمال ہورہی ہے ، اور ریونیو اکٹھا کرنے کا جو ہدف ایف بی آر کو دیا گیا ہے وہ پورا نہیں ہورہا ، پورا ادارہ کرپشن میں ملوث ہے اور اس کے پچیس سو ملازمین کا بوجھ بھی عوام برداشت کررہے ہیں۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ مذاکرات میں حکومت کو بتائیں گے کہ کس طرح لیوی کے بغیر معیشت چل سکتی ہے ، حکومت سب سے پہلے سود کو تین فیصد کم کرے اس سے قومی خزانہ کو ڈیڑھ ہزار ارب کا فائدہ ہوگا ، مہنگائی کم کرنے کے لیے جکومت سٹیٹ بنک کے ریزروز (Reserves) کو پانچ سے پندرہ فیصد بڑھا دے ، بجٹ کا آٹھ ہزار ارب بینکوں کو سود کی ادائیگی میں چلا جاتے ہیں ، ریزو بڑھا کر اور سود کی شرح کم کرکے اربوں روپے بچ سکتے ہیں، حکمران آئی پی پیز کو کیپیسٹی پے منٹ (Capacity Payment) دوہزار ارب سالانہ کے قریب ادا کررہی ہے وہ بند کرے، ملک میں اضافی بجلی ہونے کے باوجود لوڈشیڈنگ ہورہی ہے اور آئی پی پیز کو بجلی نہ بنانے کی مد میں ہزاروں ارب ادا کیے جاتے ہیں۔ ہمارے مطالبات واضح ہیں کہ پیٹرولیم لیوی اور آئی پی پیز معاہدے ختم کیے جائیں۔ دھرنے ساتھ ساتھ چلیں گے ، مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو اگلا مرحلہ پہیہ جام کا ہے اور اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ بھی ہوسکتا ہے۔ ثابت قدمی سے دھرنے دینے پر جماعت اسلامی کے کارکنان اور عوام کو خراج تحیسن پیش کرتا ہوں۔ جماعت اسلامی کا احتجاج کسی ذاتی نہیں عوام کے مفاد کے لیے ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ بھارت میں حریت رہنما یسین ملک کے ساتھ انتہائی ظالمانہ اور غیر انسانی سلوک ہورہا ہے، ان کے حالیہ خط سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں کس طرح نشانہ بنایا جارہا ہے ، حکومت پاکستان نے اس ضمن میں اب تک کیا کردار ادا کیا ہے؟ حکومت معاملہ کو عالمی سطح پر اجاگر کرے۔ بھارت ، جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر سے پابندیاں ختم اور جیلوں میں بند ساری قیادت کو رہا کرے، حکومت پاکستان اس سلسلہ میں بھی اپنا مؤثر کردار ادا کرے۔انہوں نے صومایہ میں چار ماہ سے یرغمال پاکستانیوں کے حالت زار اور ان کے خاندانوں کی مشکلات کا تذکرہ کیا اور حکومت اور اداروں سے اس ضمن میں فوری کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔ایک سوال کے حواب میں انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے چراغ بجھنے سے پہلے پھڑ پھڑا رہے ہیں، مریم نواز کی جانب سے بیان صوبائی تعصب پھیلانے کی سازش ہے۔ فریال تالپور اور پیپلز پارٹی کی دیگر قیادت کا سندھ کے حوالے سے مؤقف انتہائی شرمناک ہے۔ پی ڈی ایم والے جب مل کر پی ٹی آئی کی حکومت گرا رہے تھے تو اس وقت سارے متحد تھے ،اب انہیں خطرات لاحق ہوئے ہیں تو پاکستانیوں کو تقسیم کرنے اور لڑانے کا کھیل کھیلا جارہا ہے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ یوم دفاع کے موقع پر افواج پاکستان اور پوری قوم کی قربانیوں کو خراج تحیسن پیش کرتے ہیں ، فوج جب ملک کے دفاع کے لیے لڑتی ہے تو پوری قوم ان کو عزت و وقار دیتی ہے تاہم اداروں کو سیاسی معاملات میں مداخلت بند کرنا ہوگی۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ محسن نقوی بہت سارے معاملات کو سنبھالنے کی بجائے ایک شعبہ پر توجہ مرکوز کریں تو بہتر ہوگا، اب کرکٹ سمیت ان کے زیرنگرانی تمام شعبوں کا برا حال ہے۔ علاوہ ازیںامیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ حکومت سے کل مذاکرات کا آغاز ہوگا، عوام کو ریلیف دینے میں سنجیدگی نظر نہ آئی تو جماعت اسلامی دھرنوں کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرے گی، پہیہ جام ہڑتال ہوگی اور عوامی بیداری کے لیے ٹرین مارچ کا آپشن (Option) بھی موجود ہے۔ مریم نواز کا صوبائی تعصب پر مبنی بیان ان کے والد نواز شریف کی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے ، پی پی ، ن لیگ جو مرضی کرلیں قوم کو بے وقوف نہیں بناسکتیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر جاری دھرنا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ لاہور دھرنا سے نائب امیر ڈاکٹر اسامہ رضی اور امیر لاہور ضیا الدین انصاری نے بھی خطاب کیا۔ نائب امیر لیاقت بلوچ ، ڈپٹی سیکرٹری شیخ عثمان فاروق، امیر پنجاب وسطی جاوید قصوری، سیکرٹری لاہور اظہر بلال اور مرکزی سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی بھی اس موقع پر موجود تھے۔ قائم مقام سیکرٹری خواتین ثمینہ سعید کی قیادت میں خواتین کی بڑی تعداد بھی دھرنا میں شریک تھیں۔لاہور ، کراچی اور پشاور میں جاری دھرنوں کو اتوار کو بائیس روز ہوچکے ہیں۔ حیدرآباد، سکھر ، اندرون سندھ ، چترال اور دیگر مقامات پر بھی پیٹرولیم لیوی اور مہنگی بجلی کے خلاف جماعت اسلامی کے مظاہرے جاری ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ مریم نواز کی مسلط کی گئی حکومت نے تعلیم کو تباہ کردیا، گیارہ ہزار سکولوں کو بیچ دیا گیا اب مزید پچیس ہزار فروخت کیے جارہے ہیں ، صوبہ میں اساتذہ، ڈاکٹرز سراپا احتجاج ہے ، ن لیگ نے پنجاب کی زراعت کو تباہ کردیا ، چھوٹا کسان رْل گیا ، زراعت کی شرح نمو ساڑھے چھ فیصد سے اعشاریہ دو فیصد پر آگئی ، بنیادی مراکز صحت کو فروخت کیا جارہا ہے ، حکمرانوں نے شوگر ملز مافیا کو چینی برآمد کرنے کی اجازت دے دی ، کسانوں سے سستا گنا اور سستی گندم خرید کر حکمران اور مافیاز مل کر اربوں کما رہے ہیں، یہ ظلم کا نظام مزید نہیں چل سکتا۔ جماعت اسلامی کے کارکنان مبارکباد کیمستحق ہیں کہ ان کے احتجاج سے عوام کا شعور بیدار ہورہا ہے ، ہم نے آئی پی پیز مافیا کے ظلم کے بارے میں قوم کو آگاہ کیا اور بجلی سستی کرائی ،حکمرانوں کو پیٹرولیم لیوی کو ختم کرنا پڑے گا ، حکمرانوں نے مذاکرات میں ٹال مٹول کی تو احتجاج کا سلسلہ وسیع ہوتا جائے گا، جماعت اسلامی کسی ذاتی مفاد کے لیے عوام کے حقوق کے لیے ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ایک طرف شریف خاندان پنجاب میں پنجابی کارڈ کھیلنے کی کوشش کررہا ہے تو دوسری طرف پی پی سندھو دیش کے نام پر سندھیوں کو بے وقوف بنانے کی کوشش کررہی ہے، پی پی نے ہردور میں جمہوریت اور عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا، سندھ کے عوام پی پی سے نفرت کرتے ہیں، زرداری خاندان کو سندھ کے جغرافیہ سے کوئی غرض نہیں ، ان کا سب کچھ بیرون ملک ہے ، ملک پر مسلط وڈیرے اور جاگیردار وسائل پر قبضہ برقرار رکھنا چاہتے ہیں، پی پی نے ہارنے کے باوجود مقتدرہ کی مدد سے کراچی کی میئر شپ پر قبضہ کرلیا، خاندانوں پر مشتمل پارٹیوں کو ملک پر مسلط کرنے والوں کو سوچنا پڑے گا کہ کب تک جمہور کی آواز کو دبا کر ئہ سلسلہ چلاتے رہیں گے۔ جماعت اسلامی عوام کے حق رائے دہی کا احترام چاہتی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ پیٹرولیم لیوی کے خاتمہ اور معیشت میں بہتری کے لیے جماعت اسلامی نے تجاویز کو حتمی شکل دے دی ہے جو کل حکومتی ٹیم کو اسلام آباد میں مذاکرات کے دوران شیئر (Share) کردی جائیں گے ، یہ قابل عمل تجاویز ہیں ، ان پر عمل درآمد نہ ہو تو یہی پرپوزل (Proposal ) عوام کے ساتھ شیئر کی جائیں گی ، حکومت کو مسلسل جدوجہد سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کریں گے ، مطالبات نہ مانے گئے تو حکومت گراؤ تحریک کا آغاز بھی ہوسکتا ہے۔
کراچی(اسٹاف ر پورٹر) پیٹرول لیوی بھتہ ٹیکس کی ظالمانہ وصولی،آئی پی پیز کے عوام دشمن معاہدوں کے خلاف گورنر ہاؤس پر دھرنا جمعہ کو 20 ویں دن بھی جاری رہا،دھرنا گاہ میں خواتین یوتھ بیٹھک منعقد ہوئی جس میں شہر بھر سے خواتین یوتھ نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور احتجاج ریکارڈ کرایا امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے خواتین یوتھ بیٹھک کی شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک پر 25 کروڑ عوام جن حالات سے گزر رہے ہیں وہ سب کے سامنے ہے۔حکمرانوں نے عوام کی زندگی اجیرن کردی ہے، عوام کے ٹیکسوں سے آئی پی پیز کو اربوں روپے اس بجلی کے دیے جاتے ہیں جو بنائی ہی نہیں گئی، فی لیٹر پیٹرول پر 130روپے بھتہ ٹیکس وصول کیا جارہا ہے،خواتین یوتھ بیٹھک سے ناظمہ حلقہ خواتین کراچی جاوداں فہیم نے بھی خطاب کیا، جے آئی یوتھ ویمن ونگ کراچی کی صدر زمرہ وسیم نے خواتین کا چارٹر آف ڈیمانڈ بھی پیش کیا، جبکہ پینل ڈسکشن سے اریبہ ثوبان، مدیحہ مسعود، ڈاکٹر فضا شکیل، ڈاکٹر زینب، صبوحہ اعجاز،انائبہ احمد نے بھی خطاب کیا،علاوہ ازیں جمعرات کو رات گئے ہڑتال کے دوران شہر کے مختلف علاقوں سے گرفتار کیے گئے کارکنان رہائی کے بعد دھرنا گاہ پہنچے جہاں منعم ظفر خان سمیت دیگر رہنماؤں اور شرکاء نے ان کا پر جوش استقبال کیا اور فضاء تیز ہو تیز ہو جدو جہد تیز ہو، لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی نہیں چلے گی، غنڈہ گردی کی سرکار نہیں چلے گی نہیں چلے گی، ہم نہیں مانتے ظلم کے ضابطے، پیٹرول لیوی بھتہ ٹیکس ختم کرو، پیٹرول سستا کرو، جینا ہوگا مرنا ہوگا دھرنا ہوگا، دھرنا ہوگا، کے نعروں سے گونج اْٹھی، واضح رہے کہ کورنگی میں ہڑتال کے دوران امیر ضلع کورنگی مرزا فرحان بیگ سمیت 10کارکنوں کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات لگاکر مقدمہ درج کیا گیا ہے جن میں سے گرفتار 6کارکنان کوجیل بھیج دیا گیا ہے، منعم ظفر خان نے دھرنے کے 19ویں روز رات گئے شرکاء￿ اور رہا ہونے والے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم پر امن کارکنان کی گرفتار ی اور دہشت گردی کے مقدمات درج کرنے کی شدید مذمت کرتے ہیں اور واضح کردینا چاہتے ہیں کہ حکومتی جبر و تشدد اور دہشت گردی کے جھوٹے مقدمات ہماری عوامی جدو جہد کو ہر گز نہیں روک سکتے، کراچی کے عوام اور تاجر اور وکلاء￿ کامیاب ہڑتال پر مبارکباد کے مستحق ہیں، ہم ان سے اظہار تشکر کرتے ہیں، ہماری جدوجہد مزید تیز ہوگی، حکمرانوں کوپیٹرولیم لیوی بھتہ ٹیکس ختم کرنا ہوگا اور کراچی کے عوام کا حق بھی دینا ہوگا،منعم ظفر خان نے خواتین بیٹھک سے خطاب کرتے ہوئے مزیدکہا کہکراچی کی خواتین نے ثابت کردیا کہ اس عوامی جدوجہد میں خواتین بھی مردوں کے شانہ بشانہ ہیں،دھرنے میں اقلیتی برادری، قوت گویائی و سماعت سے محروم افراد، علماء￿ وکلاء￿ ، تاجر، محنت کش سمیت ہر شعبہ زندگی سے وابستہ افراد شریک ہو رہے ہیں، ہم خواتین یوتھ کو بڑی تعداد میں دھرنے میں شرکت پر مبارکباد پیش کرتے ہیں، پیٹرولیم لیوی، مہنگائی، بجلی، پانی سمیت تمام مسائل کا صبح و شام خواتین کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بھاری بھرکم فیسوں کے بوجھ تلے عوام مشکل حالات سے گزررہے ہیں اور تعلیم کو بھی مشکل بنادیا گیا ہے۔صوبہ سندھ میں 5 سے 16 سال تک کے 78 لاکھ بچے اسکول جانے سے قاصر ہیں اور حکمرانوں کی نااہلی اور کرپشن کی وجہ سے بچے تعلیم سے محروم ہیں اور شہریوں کو تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ سمیت بنیادی سہولیات تک میسر نہیں ہیں، نوجوان قوم کا اثاثہ ہیں، پاکستان کی آبادی کا 64 فیصد حصہ 30 سال کے بچے اور بچیاں پر مشتمل ہے، نوجوانوں میں پوٹینشل موجود ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کا ہاتھ تھاما جائے، نوجوانوں کو ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے بڑھا یا جائے، جماعت اسلامی نے بنوقابل کے عنوان سے زبردست تعلیمی تحریک شروع کی ہے، 75 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات نے آئی ٹی کورسز مکمل کیے ہیں، جب جماعت اسلامی اپنے بچوں کے لیے آئی ٹی کی تعلیم فراہم کرسکتی ہے تو جن حکمرانوں کے پاس فنڈ ہے وہ کیوں نہیں کرسکتے، ہم سب کو حکمرانوں کو مجبور کرنا ہے کہ وہ عوام کے غصب کیے گئے حقوق کو واپس کریں، ہم نوجوانوں کو ساتھ ملاکر جدوجہد کو مزید آگے بڑھائیں گے، جدوجہد کو اپنا استعارہ بنائیں، مزاحمت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائیں، چوروں، لٹیروں سے پاکستان کو آزاد کروائیں گے۔حلقہ خواتین کراچی کی ناظمہ جاوداں فہیم نے خواتین یوتھ بیٹھک سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج خواتین یوتھ کا دھرنا گاہ میں بڑی تعداد میں جمع ہونا اس بات کا ثبوت ہے پاکستانی عورت بیدار ہے،آج پاکستان کی بربادی کا سبب وہ حکمران ہیں جنہیں زبردستی ہمارے سروں پر مسلط کیا جاتا ہے،ملک میں موجود طبقہ بدمعاشیہ اور چوروں و لٹیروں سے جان چھڑوائیں گے، نوجوان نسل جاگ رہی ہے اور وہ سنجیدہ، باوقار اور تعلیم یافتہ ہے اور اچھی طرح مستقبل کے بارے میں جانتی ہے، جماعت اسلامی خواتین،خواتین یوتھ کا ہاتھ تھام رہی ہے اور یہی خواتین ملک کے بہترین مستقبل کی ضمانت ثابت ہوں گی۔نائب امیر جماعت اسلامی کراچی و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈوکیٹ نے شرکائے دھرنا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی کی تحریک اور عوامی جدو جہد اسی طرح جاری رہے گی،پیٹرول لیوی عوام پر بہت بڑا ظلم ہے، امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے جس طرح کراچی کے عوام کو بیدار کیا اسی طرح اب پوری قوم بیدار ہورہی ہے، حافظ نعیم الرحمن کی ہڑتال کی کال پر کراچی کے تمام تاجروں نے اتحاد کا مظاہ کیا اور تاریخ ساز ہڑتال کر کے پیٹرول لیوی بھتہ ٹیکس کو مسترد کیا، کراچی کے تمام وکلاء￿ نے بھی ہڑتال کی مکمل حمایت کی، ہم تاجر اور وکلاء￿ برادری کا شکریہ ادا کرتے ہیں جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق نے کہا کہ صوبائی حکومت نے ہڑتال کو ناکام بنانے کے لیے سازشیں کیں لیکن اس کے باوجود ہڑتال بھر پور کامیاب رہی، شرجیل میمن رعونت کا شکا ر ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ سندھ میں ہمیشہ قابض رہیں گے، کورنگی سے جن کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ان کے خلاف انسداددہشت گردی کی دفعات لگائی گئی ہیں،سندھ اسمبلی میں 4 دن سے تماشا لگا ہوا ہے، پیپلزپارٹی اپنے ظلم و ستم کواور بیڈ گورننس کو چھپانے کے لیے سندھ کی تقسیم کے حوالے سے بحث کر رہی ہے امیر جماعت اسلامی ضلع کورنگی مرزا فرحان بیگ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ اور سندھ حکومت سن لے دہشت گردی کی ایف آئی آر ہماری جدوجہد کو نہیں روک سکتی۔ تاریخی ہڑتال کر کے کراچی نے فیصلہ دیا ہے کہ شہر نے ہڑتالیں بہت دیکھی ہیں لیکن تاجروں کی ہڑتال رضاکارانہ ہڑتال ہے۔ جماعت اسلامی نے کراچی میں ہڑتال کی نئی تاریخ رقم کی ہے۔ کراچی کے تمام تاجروں نے اعلان کیا ہے کہ ہم حافظ نعیم الرحمن کے ساتھ کھڑے ہیں۔ پولیس کا رویہ انتہائی شرمناک اور قابل مذمت رہا۔ صبح سے پر امن ہڑتال جاری تھی کہ پولیس اہلکار زبردستی دکانیں کھلوانا شروع ہوگئے۔ کورنگی 2 نمبر پر جماعت اسلامی کے کارکنان اور تاجران نے مل کر پریس کانفرنس کرنی تھی پولیس نے پریس کانفرنس نہیں کرنے دی او ر گرفتار کرلیا۔ایف آئی آر امیر ضلع، نائب امیر ضلع یوسی چیئرمین کے خلاف کاٹی گئی ہے۔ امیر جماعت اسلامی ضلع کیماڑی مولانا فضل احد نے کہا کہ سعید غنی کو پریشانی ہے کہ ہڑتال کیوں کامیاب ہوئی، سعید غنی جماعت اسلامی کی مقبولیت سے گھبراگئے ہیں اور کہتے ہیں کہ جماعت اسلامی ایم کیو ایم بننے جارہی ہے۔ دھرنا بھی جاری رہے گا، شہر کراچی حافظ کی تحریک کا پشتباں ہے، آج اعلان کریں پورا شہر کراچی اسلام آباد پہنچے گا۔علاوہ ازیںپیٹرول لیوی بھتہ ٹیکس کی ظالمانہ وصولی،آئی پی پیز کے عوام دشمن معاہدوں کے خلاف گورنر ہاؤس پر دھرنا اتوار کو22ویں دن بھی جاری رہا،دھرنا گاہ میں کراچی تاجر اتحاد کے صدر عتیق میر، صدر الیکٹرونکس مارکیٹ ایسوسی ایشن رضوان عرفان،حیدری مارکیٹ ایسوسی ایشن کے چیئرمین سید فرازاحمد،صدر کوآپریٹیو مارکیٹ محمد اسلم خان،اسمال ٹریڈرز کے صدرمحمود حامد و دیگر تاجروں نے امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان سے ملاقات کی اور 3ستمبر کی کامیاب ہڑتال پر مبارکباد پیش کی۔کامیاب ہڑتال کے انعقاد پر منعم ظفر خان کو شیلڈ دی گئی۔دھرنے میں صدر پبلک ایڈ کمیٹی ضلع شرقی سید قطب احمد کی قیادت میں اسکیم 33گلزار ہجری کے متاثرہ وفد نے بھی شرکت کی اور مسائل کے حوالے سے آگاہ کیااور احتجاج ریکارڈ کروایا،منعم ظفر خان نے تاجروں کے وفد کا شکریہ ادا کیا اور اسکیم 33کے وفد کو یقین دلایا کہ جماعت اسلامی مظلوموں اور محروموں کے ساتھ ہیں اور قبضہ مافیا کے خلاف زبردست جدوجہد کریں گے۔دھرنے میں کراچی کے گوٹھوں کے رہائشیوں نے فیملی کے ہمراہ بڑی تعداد میں شرکت کی اور گوٹھ میں موجودہ مسائل کے حوالے سے آگاہ کیا۔ ایوب خاصخیلی نے سندھ میں ہونے والے مظالم کے خلاف قرارداد پیش کی۔امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے گوٹھ کچہری کے شرکاء￿ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کراچی سے کشمور اور گوادر سے چترال تک عوامی دھرنے جاری ہیں۔ ان دھرنوں کا مرکزی مطالبہ پیٹرولیم لیوی کے نام پر عوام سے وصول کیا جانے والا ’’بھتہ ٹیکس‘‘ ختم کرنا ہے۔پیٹرولیم لیوی دراصل وفاقی حکومت کی جانب سے براہِ راست عوام پر عائد کیا جانے والا بھاری مالی بوجھ ہے۔فی لیٹر پیٹرول پر تقریباً 80 روپے پیٹرولیم لیوی جبکہ دیگر ٹیکسز کی مد میں بھی بھاری رقم وصول کی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں عوام سے فی لیٹر 130 روپے سے زائد ٹیکسز وصول کیے جا رہے ہیں۔ کراچی سے کشمور تک عوام کی ایک ہی آواز ہے کہ مہنگائی اور ٹیکسز کے نام پر ہونے والا یہ ظلم کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی کی جدوجہد عوام کو مہنگائی، ناجائز ٹیکسز اور ظالمانہ معاشی نظام سے نجات دلانے کے لیے ہے۔مہنگائی کے خاتمے اور آئی پی پیز کے خلاف جماعت اسلامی کی تحریک مزید توانا ہوگی اور اسے آگے بڑھایا جائے گا۔ جماعت اسلامی کا پیغام ظلم کے نظام سے نجات کا پیغام ہے اور عوام اس پیغام کو سوشل میڈیا کے ذریعے زیادہ سے زیادہ عام کریں۔پیر سے جماعت اسلامی اور حکومتی مذاکراتی ٹیم کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور شروع ہو رہا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ مذاکرات کے نتیجے میں عوام کو پیٹرولیم لیوی، آئی پی پیز اور مہنگائی کے حوالے سے ضرور ریلیف ملے گا۔جماعت اسلامی عوام کے حقوق کے حصول اور ظالمانہ معاشی پالیسیوں کے خاتمے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔حافظ نصر اللہ عزیز نے کہاکہ کراچی سے کشمور تک سندھ کے عوام کی ایک ہی آواز ہے کہ وہ پیپلزپارٹی کی جاگیرداری، وڈیرہ شاہی، کرپشن اور لوٹ مار سے تنگ آچکے ہیں اور اس ظلم کے خلاف متحد ہیں۔پیٹرولیم لیوی ٹیکس صرف سندھ کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ملک کے 25 کروڑ عوام کا مسئلہ ہے۔ عوام پر مسلط کیے گئے بھتہ نما لیوی ٹیکس کے خاتمے تک جماعت اسلامی کی جدوجہد جاری رہے گی۔حافظ نعیم الرحمن ملک کے 25 کروڑ عوام کے خیرخواہ ہیں اور جماعت اسلامی عوام کے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں ہر شخص کو بالآخر اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دینا ہوگا، اس لیے حکمرانوں کو سوچنا چاہیے کہ انہوں نے سندھ کے عوام کے ساتھ کیا سلوک کیا۔جماعت اسلامی ظلم، کرپشن اور عوامی استحصال کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور پیٹرولیم لیوی کے خاتمے تک تحریک ختم نہیں ہوگی۔ حزب اللہ جھکڑو نے کہاکہ پیٹرولیم لیوی کے نام پر عوام سے اربوں روپے وصول کیے جا رہے ہیں، جبکہ حکمران عوام کے ٹیکسوں کے پیسوں پر عیاشیاں کر رہے ہیں۔جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے 25 کروڑ عوام کو پیٹرولیم لیوی، آئی پی پیز اور مہنگائی کے خلاف متحد کیا ہے۔ حکمرانوں کی کرپشن اور بیرون ملک جائیدادیں بنانے کی وجہ سے عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔کراچی اور سندھ کے عوام کو آج بھی پینے کا صاف پانی، روزگار اور بنیادی سہولیات میسر نہیں، جبکہ پیپلزپارٹی نے کراچی سمیت سندھ کے شہروں کو تباہ و برباد کردیا ہے۔پیٹرولیم لیوی کے خاتمے تک جماعت اسلامی کی جدوجہد اور دھرنے جاری رہیں گے، اور عوام کے حقوق کے لیے تحریک کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔عبدا لقدوس حمدانی نے کہاکہ سندھ کے نوجوان اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل کے حوالے سے بیدار ہوچکے ہیں۔ ہم حافظ نعیم الرحمن کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے سندھ کے نوجوانوں کو ان کے حقوق کے لیے بیدار کیا۔آج گوٹھ کچہری میں مرد و خواتین کی بڑی تعداد میں شرکت دراصل پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت کی کارکردگی کے خلاف عوامی ریفرنڈم ہے۔ سندھ باب الاسلام اور عظیم تاریخی و تہذیبی خطہ ہے، لیکن پیپلزپارٹی نے سندھ کو تباہی سے دوچار کردیا ہے۔ لاڑکانہ، کراچی اور سکھر سمیت سندھ کے بڑے شہر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔انہوں نے کہا کہ سندھ کے 43 ہزار اسکولوں میں بھی بجلی، پانی، فرنیچر اور دیگر بنیادی سہولیات موجود نہیں، جبکہ تعلیم کے لیے مختص بجٹ بھی عوام کے بچوں پر خرچ نہیں کیا جا رہا۔ سندھ جو کبھی باب العلم تھا، آج اسے جہالت اور پسماندگی کی طرف دھکیل دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں آج بھی امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے، پریا کماری، ناظم جوکھیو اور دیگر مظلوموں کے خاندان انصاف کے منتظر ہیں۔ آج کی گوٹھ کچہری نے ثابت کردیا ہے کہ سندھ کے عوام اپنے حقوق کے لیے بیدار ہوچکے ہیں اور ظلم کو مزید برداشت نہیں کریں گے۔دھرنا گاہ میں منعقدہ گوٹھ کچہری سے نائب امیرجماعت اسلامی سندھ حافظ نصر اللہ،ڈپٹی سکریٹریز سندھ حزب اللہ جھکڑو،عبدا لقدوس حمدانی جے آئی یوتھ کراچی کے جنرل سکریٹری اسماعیل بلوچ ودیگر نے بھی خطاب کیا۔اس موقع پر سکریٹری کراچی توفیق الدین صدیقی،امیرضلع گڈاپ عرفان احمد،امیر ضلع ملیر سید مفخر علی،امیر ضلع شرقی نعیم اختر،سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری،کونسلر علی رضا گبول،جاوید بلوچ گبول،کوآرڈینیٹر صفورہ ٹاؤن حماد اللہ بھٹو،ناظم علاقہ صومار برفت ودیگر بھی موجود تھے۔

لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن گورنر ہاؤس پنجاب پر دھرنے کے شرکاسے خطاب کررہے ہیں

مزید خبریں

Scroll to Top