تہران /واشنگٹن /لندن /صنعا /بیروت (مانیٹرنگ ڈیسک)قالیباف نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ ایران پر حملہ ہوا تو جواب پہلے سے زیادہ شدید اور تکلیف دہ ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار باقر قالیباف کا کہنا ہے امریکا کو سمجھ لینا چاہیے کہ محدود اور نپے تلے ردعمل کا دور اب ختم ہو چکا، ایرانی مفادات اور سلامتی کو نقصان پہنچانے والی کارروائی کا ردعمل اب فوری، شدید اور تکلیف دہ ہوگا۔ امریکی فوج نے آبنائے ہرمز میں امریکی فوج کی ڈرون کشتی کو نشانہ بنانے کے ایرانی دعوے کی تردید کردی۔ اس سے قبل ایرانی سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کے ممنوعہ علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے ایک بحری ڈرون کو نشانہ بنایا ہے۔ ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے آبنائے ہرمز کے محفوظ علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کرنے وای امریکی ڈرون کشتی کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سعودی اور ترک ہم منصبوں سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے سعودی اور ترک وزرائے خارجہ سے علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، ایرانی وزیر خارجہ کی سعودی، ترک وزرائے خارجہ سے سفارتی کوششوں پر بھی بات ہوئی۔ شپنگ مانیٹر ٹینکر ٹریکرز کے مطابق امریکی حملے میں تباہ ہونے والے ایرانی آئل ٹینکر کا عملہ محفوظ ہے۔ ٹینکر ٹریکرز نے حملے کی وڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ حملے سے قبل ٹینکر سے لائف بوٹ سمندر میں اتار دی گئی تھی اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عملے کو حملے سے غالباً پہلے ہی خبردار کر دیا گیا تھا۔ پاسداران انقلاب نے امریکی طیارہ بردار جہاز اور ڈسٹرائر پر بیلسٹک میزائلوں سے حملے کا دعویٰ کیا ہے تاہم دوسری جانب امریکا نے طیارہ بردار جہاز اور ڈسٹرائر پر حملے کی تصدیق نہیں کی۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں غیر مجاز راستوں سے گزرنے والے 3 آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا جبکہ دیگر علاقوں میں 3 امریکی بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے امریکا کی ’دہشت گرد‘ فوج کو خبردار کیا ہے کہ ’اگر واشنگٹن خطے میں اپنی جارحانہ کارروائیاں جاری رکھتا ہے تو ایرانی مسلح افواج امریکی جنگی بحری جہازوں کے خلاف پہلے سے زیادہ شدید اور وسیع پیمانے پر کارروائی کریں گی۔یمن میں فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہفتے کی سہ پہر سے اتوار کی صبح تک جنوب مغربی یمن میں حکومتی افواج اور ایران کے اتحادی حوثیوں کے درمیان جھڑپوں میں دونوں جانب سے 140 سے زاید فوجی ہلاک ہوئے۔ اے ایف پی کے مطابق سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کے 2 فوجی عہدیداروں نے بتایا کہ ان کی افواج کے 84 اہلکار ہلاک ہوئے جن میں سے زیادہ تر حوثیوں کے میزائل حملوں کا نشانہ بنے۔لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں میں 4 افراد ہلاک اور کم از کم 20 زخمی ہوئے ہیں۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ فوج کے مطابق یہ کارروائی اسرائیلی اہلکاروں پر 2 ڈرون حملوں کے جواب میں کی گئی۔















