مریدکے (صباح نیوز) وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام پر کام کے لیے کمیشن یا کمیٹی بنائی جائے۔اپنے آبائی حلقے مریدکے میں میڈیا گفتگو کرتے رانا تنویر حسین کہنا تھا کہ 6 ستمبر ملکی تاریخ میں بڑی اہمیت کا حامل دن ہے، 1965 ء میں افواج پاکستان نے بھارتی فوج کو شکست سے دوچار کیا جبکہ 2024ء میں بھی پاکستانی افواج نے اپنے سے دوگنا بڑی فوج کو عبرتناک شکست دی۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی افواج نے لاہور میں ناشتے کا منصوبہ بنایا تھا تاہم افواج پاکستان نے دشمن کو ناکوں چنے چبوائے، 1985ء میں بھی انتظامی یونٹس اور نئے صوبوں کے قیام کی بات کی تھی، نئے صوبے اور انتظامی یونٹس بننے سے عوام کو ریلیف ملے گا اور گڈ گورننس بہتر ہوگی۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ چھوٹے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام سے عوام کا اپنے حکمرانوں سے رابطہ بہتر ہوگا، نئے انتظامی یونٹس کے قیام پر بات ہونا مثبت پیش رفت ہے۔ رانا تنویر حسین نے کہا کہ آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ نئے صوبے بیک وقت بنائے جائیں، صوبوں اور اسمبلیوں نے بھی نئے انتظامی یونٹس کے حوالے سے قراردادیں منظور کی ہیں۔انہوں نے تجویز دی کہ نئے صوبوں کے قیام پر کام جاری رکھنے کے لیے کمیشن یا کمیٹی تشکیل دی جائے۔ وفاقی وزیر نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ پیٹر ولیم مصنوعات میں نمایاں کمی کی جائے تاہم بین الاقوامی معاملات اور آئی ایم ایف پروگرام کے باعث رکاوٹیں موجود ہیں۔ رانا تنویر حسین کا مزید کہنا تھا کہ جنگ کے دنوں میں پیٹر و لیم مصنوعات پر 125 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی۔















