لاہور (صباح نیوز)نائب امیر جماعت اسلامی، مجلسِ قائمہ سیاسی قومی امور کے صدر لیاقت بلوچ نے کہا کہ سیاسی قیادت اسٹیبلشمنٹ کے بچھائے جال میں نہ پھنسے،قومی مفادات کو ترجیح دے ، دھرنا، احتجاج اور پیٹرول لیوی بھتہ خاتمہ پر حکومتی کمیٹی کے ساتھ پیر 7 ستمبر 2026ء اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے۔لیاقت بلوچ نے شیخوپورہ میں ختم نبوتؐ کانفرنس، لاہور میں دھرنا کے شرکا سے خطاب، میڈیا نمائندگان سے گفتگو اور منصورہ میں مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہ جماعت اسلامی کی مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس اسلام آباد میں طلب کرلیا گیا ہے۔ کمیٹی اجلاس میں لیاقت بلوچ، سیّد فراست شاہ، عنایت اللہ خان، نصراللہ رندھاوا، نوید علی بیگ اور ضیاء اللہ انصاری شریک ہوں گے۔ حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے چیئرمین احسن اقبال نے کمیٹی اجلاس کی ری کنفرمیشن کردی ہے. جماعتِ اسلامی کا احتجاج اور مذاکرات کا اصل ہدف تیل، بجلی، گیس کی قیمتوں کو کم کرنے کیلئے ناجائز مسلّط لیوی اور ناجائز ٹیکسوں کا خاتمہ اور اشیاء کی پیداواری لاگت کو قابلِ برداشت بنانا ہے. زراعت، تجارت، صنعت، گھریلو صنعت کا پہیہ چلے گا تو روزگار ملے گا، حکومتی خزانے میں چور راستے سے نہیں، کھلے راستے سے وسائل میسر آئیں گے. حکومت کو عوام پر بوجھ ختم کرنے کیلئے مذاکرات میں اپنا مائنڈ سیٹ بدلنا ہوگا. اشرافیہ اور حکومتی عہدیداروں کیلئے آسانیوں، مفت خوری، قومی معیشت کو برباد کرنے والے فیصلوں سے جان چھڑاکر خودانحصاری، خودداری، سادگی اور امانت و دیانت کا راستہ اختیار کرنا ناگزیر ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہائبرڈ نظام کیلئے مْہرے، آلہ کار، سہولت کار استعمال ہوچکے، اسٹیبلشمنٹ اب اگلے مراحل میں جارہی ہے جس کے حصول میں ہائبرڈ نظام کے کْل پرزے حکم مانیں یا گھر جائیں. سیاست، جمہوریت، اقتدار کیلئے سہولت کاری کا ایک سیاہ دور اور المناک باب رقم ہورہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عوام حکمرانوں کی چالاکیوں، کہہ مکرنیوں سے بیزار اور لاتعلق ہیں، انجینئرڈ بحثیں اور سیمینارز عوام میں قدر و قیمت نہیں رکھتے، عوام اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں. تیل، بجلی، گیس کی قیمتیں اور ٹیکسوں کی بھرمار، سرکاری اداروں، اہل کاروں کی کرپشن، فرعونیت عوام کیلئے عذاب بن گئی ہے. حکومتی رِٹ عملاً ختم ہے، عوام بییار و مددگار ہیں۔ جماعتِ اسلامی عوام کے حقیقی ایشوز، اقتصادی بحرانوں کے حل کی جدوجہد کررہی ہے. پیٹرول لیوی بھتہ ختم کرنے سے ہی عوام کو ریلیف اور حکومت کی جان چھوٹے گی۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ سیاسی، جمہوری، پارلیمانی، دینی قیادت اسٹیبلشمنٹ کے بچھائے جال میں نہ پھنسے، بندگلی سے نکلنے کیلئے قومی ترجیحات پر قومی ڈائیلاگ کی شاہراہ پر آئیں. سیاسی قیادت ذاتی دشمنی، مفادات سے بالاتر ہوکر قومی مفادات کو ترجیح دے. آئین، جمہوریت، جمہور کے سیاسی، معاشی، بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے یک آواز ہونا پڑے گا. 6 ستمبر 1965ء کو قیادت اور پوری قوم متحد ہوئی تو دشمن کو شکست فاش دی، اْسی جذبے کے ساتھ متحد ہوکر اندرونی دشمنوں کو شکست دینا قومی فرض بن گیا ہے۔















