ایک نئی بین الاقوامی سائنسی تحقیق نے انسانی طویل عمری کے حوالے سے اہم اشارے فراہم کرتے ہوئے بتایا ہے کہ جن افراد کے والدین میں سے کسی ایک نے 100 سال یا اس سے زیادہ عمر پائی ہو، ان کی اولاد میں بعض سنگین بیماریوں اور قبل از وقت موت کا خطرہ نسبتاً کم ہوسکتا ہے۔
طویل عمر پانے والے افراد کے خاندانوں پر کی جانے والی اس تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ لمبی زندگی کا تعلق صرف طرزِ زندگی سے نہیں بلکہ بعض جینیاتی اور حیاتیاتی خصوصیات سے بھی ہوسکتا ہے جو ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
تحقیق، جو جاما نیٹ ورک اوپن میں شائع ہوئی، میں 2300 سے زائد ایسے افراد کے طبی اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا جن کے والدین غیر معمولی طور پر طویل عمر پانے والوں میں شامل تھے۔ محققین نے ان افراد کا موازنہ 1700 سے زائد ایسے لوگوں سے کیا جن کے والدین کی عمر اس غیر معمولی حد تک نہیں پہنچی تھی۔
اعداد و شمار کے تجزیے میں سب سے نمایاں فرق موت کے خطرے سے متعلق سامنے آیا۔ جن افراد کے والدین میں سے کسی نے 100 سال یا اس سے زیادہ عمر پائی تھی، ان میں دوسرے گروپ کے مقابلے میں موت کا خطرہ 42 فیصد کم دیکھا گیا۔
اسی طرح ایسے افراد میں دل کی بیماریوں کا خطرہ تقریباً 33 فیصد اور بلند فشار خون کا امکان تقریباً 32 فیصد کم پایا گیا۔ محققین کے مطابق ان افراد میں بلند فشار خون بھی نسبتاً دیر سے نمودار ہوا اور اوسطاً دوسرے گروپ کے مقابلے میں تقریباً 5 سال بعد یہ مسئلہ سامنے آیا۔
تحقیق میں یہ بھی مشاہدہ کیا گیا کہ طویل عمر پانے والے والدین کی اولاد میں موت کا وقت اوسطاً تقریباً 3 سال مؤخر رہا، جو اس امکان کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ بعض خاندانوں میں عمر بڑھنے کے عمل کے خلاف قدرتی مزاحمت سے متعلق خصوصیات پائی جاسکتی ہیں۔
تاہم ماہرین نے واضح کیا ہے کہ ان نتائج کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ایسے والدین کی اولاد لازماً 100 سال یا اس سے زیادہ عمر پائے گی۔ انسانی عمر کا تعین کسی ایک عنصر سے نہیں ہوتا بلکہ اس میں جینیاتی خصوصیات کے ساتھ خوراک، جسمانی سرگرمی، رہن سہن، ماحول اور دیگر صحت سے متعلق عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
محققین نے اپنے تجزیے میں تمباکو نوشی، تعلیم، معاشی حالات اور خوراک سمیت متعدد عوامل کو بھی شامل کیا۔ ان عوامل کے اثرات کو مدنظر رکھنے کے بعد بھی طویل عمر پانے والے والدین کی اولاد میں صحت سے متعلق بعض فوائد برقرار رہے۔
سائنس دانوں کے مطابق یہ نتائج اس مفروضے کو تقویت دیتے ہیں کہ کچھ خاندانوں میں ایسی جینیاتی اور حیاتیاتی خصوصیات موجود ہوسکتی ہیں جو نہ صرف عمر بڑھانے بلکہ بڑھاپے کے دوران صحت کو بہتر حالت میں برقرار رکھنے میں بھی مدد دیتی ہیں۔
تحقیق سے یہ امکان بھی سامنے آیا ہے کہ بعض خاندانوں میں صرف طویل عمر پانے کی صلاحیت ہی منتقل نہیں ہوتی بلکہ صحت مند بڑھاپے سے متعلق خصوصیات بھی نسل در نسل منتقل ہوسکتی ہیں۔ ایسے افراد میں بعض بیماریاں دیر سے ظاہر ہونے یا عمر رسیدگی کے اثرات سے بہتر طور پر نمٹنے کی صلاحیت ہوسکتی ہے۔
محققین کے لیے 100 سال یا اس سے زائد عمر پانے والے افراد اور ان کے خاندان اسی وجہ سے خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان خاندانوں کے مزید مطالعے سے یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ انسانی جسم عمر بڑھنے کے دوران بیماریوں اور جسمانی کمزوری کے خلاف کس طرح مزاحمت کرتا ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اگر ان جینیاتی اور حیاتیاتی عوامل کی مزید شناخت اور تفہیم ممکن ہوئی تو صحت مند بڑھاپے کو فروغ دینے کے لیے نئی حکمت عملیاں تشکیل دینے میں مدد مل سکتی ہے۔
تحقیق کا مجموعی پیغام یہی ہے کہ طویل اور صحت مند زندگی کا راز کسی ایک غذا، عادت یا معمول میں پوشیدہ نہیں، بلکہ اس کے پیچھے وراثتی خصوصیات کے ساتھ انسان کا طرزِ زندگی، ماحول اور مجموعی صحت بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔















