غزہ میں اسرائیلی حملوں سے تباہ ہونے والی عمارتوں کے ملبے سے مزید 100 سے زائد فلسطینیوں کی باقیات برآمد ہونے کے بعد شہدا کی اجتماعی نمازِ جنازہ ادا کردی گئی۔
غیر ملکی خبر رساں ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق غزہ میں تباہ ہونے والی عمارتوں کے ملبے سے برآمد ہونے والی باقیات ان فلسطینیوں کی ہیں جو 19 نومبر 2023 کو ایک پناہ گزین کیمپ پر ہونے والی بمباری کے نتیجے میں شہید ہوگئے تھے۔
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق 70 بچوں سمیت 100 فلسطینی شہدا کی باقیات طویل عرصے بعد تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے نکالی گئیں۔ انسانی باقیات کی شناخت مکمل ہونے کے بعد انہیں ان کے ورثا کے حوالے کیا گیا تاکہ شہدا کی تدفین کے انتظامات کیے جاسکیں۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق باقیات ورثا کے حوالے کیے جانے کے بعد شہدا کی اجتماعی نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جس میں بڑی تعداد میں شہری شریک ہوئے۔ نمازِ جنازہ کے بعد شہدا کو فلسطینی پرچم میں لپیٹ کر سپردِ خاک کردیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس موقع پر غزہ کے شہریوں نے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کے لیے دعائے مغفرت کی۔ شہدا کے اہلخانہ اور دیگر شہریوں نے اپنے پیاروں کی باقیات ملنے کے باوجود غم اور صدمے کی کیفیت میں ان کی آخری رسومات ادا کیں۔
عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق غزہ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں تباہ ہونے والی عمارتوں کے ملبے سے لاشیں اور انسانی باقیات برآمد ہونے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے، غزہ پٹی میں تقریباً 9000 فلسطینیوں کی لاشیں تاحال تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے موجود ہیں، مسلسل تباہی کے باعث غزہ کے مختلف علاقوں میں بڑی تعداد میں عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں، جن کے نیچے دبے افراد کی
تلاش کا عمل طویل عرصے بعد بھی مکمل نہیں ہوسکا۔
اسرائیلی بمباری سے متاثرہ علاقوں میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے اب تک تقریباً 800 سے 900 لاشیں نکالی جاچکی ہیں، ملبے سے انسانی باقیات کی مسلسل برآمدگی غزہ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ہونے والی وسیع پیمانے کی تباہی اور جانی نقصان کی سنگینی کو ایک بار پھر نمایاں کررہی ہے۔















