جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ ملک میں نئے صوبوں کی تشکیل کے معاملے پر سیاسی جماعتوں کو اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہوگا، سندھ کی تقسیم یا سندھو دیش کا تصور کسی صورت قابل قبول نہیں، پاکستان کی سالمیت کے خلاف کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
لاہور میں مال روڈ کے فیصل چوک پر جماعت اسلامی کے دھرنے کے مقام پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کی جانب سے جس انداز میں ردعمل کا اظہار کیا گیا، وہ قابل مذمت ہے، ملک کی وحدت اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جاسکتا اور کسی نے بھی پاکستان کو میلی آنکھ سے دیکھا تو اسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔
امیر جماعت اسلامی نے پیپلز پارٹی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کو سندھ کی زمین اور اقتدار سے تو دلچسپی ہے لیکن سندھ کے عوام کی فلاح و بہبود سے کوئی سروکار نہیں۔ اگر واقعی پیپلز پارٹی کو سندھ کے لوگوں سے محبت ہوتی تو صوبے میں تعلیم کے فروغ اور عوام کی بنیادی ضروریات پوری کرنے پر توجہ دی جاتی۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے رہنما خود بیرون ملک قیام کرتے ہیں اور ان کے بچے یورپ میں تعلیم حاصل کرتے ہیں، لیکن سندھ کے عوام کو مسلسل محرومیوں کا سامنا ہے۔ کراچی کے بلدیاتی اداروں، ٹریفک پولیس کے شعبے اور دیگر سرکاری محکموں میں اردو بولنے والے شہریوں کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔
انہوں نے پیپلز پارٹی کو جمہوری اقدار کی مخالف جماعت قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ سندھ کے وسائل کو عوام کی ترقی کے بجائے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا گیا۔ صوبے میں زمینوں کی لوٹ مار سے حاصل ہونے والی دولت سے مقامی صنعت اور روزگار کے مواقع پیدا کیے جانے چاہئیں تھے، تاہم یہ رقم بیرون ملک منتقل کی جاتی رہی۔
جماعت اسلامی کے امیر نے بلاول بھٹو زرداری پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ایک موقع پر بلاول نے اسکول کے بچوں کے ساتھ تصویر بنوائی تو ان بچوں کے بال مٹی سے اٹے ہوئے اور پاؤں میں ٹوٹی ہوئی جوتیاں تھیں، جبکہ دوسری جانب وہ مہنگے جوتے پہن کر ان بچوں کے مسائل کا مذاق اڑاتے دکھائی دیے۔
فریال تالپور کے مشرف دور میں ضلعی ناظم رہنے کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ مشرف دور میں متعارف کرایا گیا مقامی حکومت کا نظام موجودہ نظام سے کہیں بہتر تھا۔ ایک فوجی آمر کے دور میں مقامی سطح پر اختیارات کی منتقلی کا ایسا نظام قائم کیا گیا جسے پیپلز پارٹی کی موجودہ حکمرانی کے مقابلے میں بہتر قرار دیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی سندھ میں طویل عرصے سے اقتدار میں ہے لیکن اس کے باوجود صوبے کے عوام تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کو یہ سوچنا چاہیے کہ اگر کبھی انہیں بے نظیر بھٹو کے سامنے اپنے دورِ حکومت کی کارکردگی کا جواب دینا پڑا تو وہ کیا کہیں گے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ عوام کو تعلیم اور بنیادی سہولیات سے دور رکھنے اور سندھ کو تباہی کی طرف لے جانے کی ذمہ داری ان حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے جنہیں طویل عرصے تک صوبے کے معاملات چلانے کا موقع ملا۔
انہوں نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر جماعت اسلامی کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔ حکومت نے مطالبات پر پیش رفت نہ کی تو پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی طرف جایا جائے گا، پیٹرول پمپس بھی بند کیے جاسکتے ہیں جبکہ اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ اور حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا آپشن بھی موجود ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ان کا احتجاج کسی ذاتی یا سیاسی مفاد کے لیے نہیں بلکہ عوام کو ریلیف دلانے کے لیے ہے۔ مہنگائی نے عام شہری کے لیے زندگی مشکل بنا دی ہے اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی ضروریات بھی عوام کی پہنچ سے دور ہوتی جارہی ہیں۔
پٹرولیم مصنوعات پر عائد محصولات کے حوالے سے حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے پٹرولیم لیوی کو ’’جگا ٹیکس‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں تقریباً 130 روپے مختلف نوعیت کے ٹیکسوں کی مد میں شامل ہیں، جبکہ حکومت براہ راست 105 روپے سے زائد وصول کررہی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ شہباز شریف حکومت اب تک 4 ہزار ارب روپے سے زائد پٹرولیم لیوی کی مد میں وصول کرچکی ہے، حکومت کو قوم کے سامنے اس رقم کے استعمال کی تفصیلات پیش کرنی چاہئیں اور بتایا جائے کہ عوام سے وصول کی گئی اتنی بڑی رقم کہاں خرچ ہوئی۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے 6 ستمبر کے موقع پر قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی ملک کے دفاع کے لیے جانوں کی قربانیاں دینے والی افواج پاکستان کی خدمات اور قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ عوام اور افواج کے درمیان مضبوط تعلق اس وقت متاثر ہوتا ہے جب کوئی ادارہ اپنے آئینی دائرہ اختیار سے تجاوز کرتا ہے۔ تمام ریاستی اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے فرائض انجام دینے چاہئیں تاکہ ملک میں ادارہ جاتی توازن اور عوام کا اعتماد برقرار رہے۔
امیر جماعت اسلامی نے واضح کیا کہ عوام کے حقوق کے لیے احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا اور حکومت کے پاس اب مطالبات تسلیم کرنے یا ملک گیر احتجاجی تحریک کا سامنا کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔















