پشاور: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے سکیورٹی سے متعلق بیان پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ مریم نواز نے تین صوبوں کو دہشتگردی کی بنیاد قرار دے کر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور بھارت کو کلین چٹ دے دی ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے مریم نواز کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے بیان سے دہشتگردی کے خلاف پاکستان کے عالمی مؤقف کو نقصان پہنچا ہے، دہشتگردی ایک قومی مسئلہ ہے جس کے خلاف پوری ریاست اور قوم کو متحد ہوکر مقابلہ کرنا چاہیے، صوبوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنے والے بیانات قومی یکجہتی کے لیے نقصان دہ ہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ پنجاب کی وزیراعلیٰ کی جانب سے دیگر صوبوں سے متعلق اس نوعیت کا بیان متعصبانہ رویے کی عکاسی کرتا ہے، صوبوں کے خلاف اس طرح کی زبان استعمال کرنا پاکستان کو تقسیم کرنے کی سوچ کو ظاہر کرتا ہے جبکہ ملک کو اس وقت باہمی اتحاد اور مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے وفاق اور تمام صوبوں کو مل کر کام کرنا ہوگا،کسی ایک صوبے یا علاقے کو دہشتگردی سے جوڑنے کے بجائے ان عوامل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے جو ملک میں دہشتگردی کے واقعات کا باعث بن رہے ہیں۔
سہیل آفریدی کے بیان پر وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ دوسروں پر بیان بازی سے خیبر پختونخوا حکومت اپنی کارکردگی کی کمزوریاں نہیں چھپا سکتی، پنجاب حکومت صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد بڑھانے پر کام کررہی ہے۔
عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ پنجاب میں سکیورٹی کے حوالے سے درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید وسائل اور بہتر سہولیات فراہم کی جارہی ہیں،حکومت کا مقصد صوبے میں شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے اور اس سلسلے میں سکیورٹی اداروں کی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ کیا جارہا ہے۔
خیال رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے گزشتہ روز لاہور میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس ہب کی لانچنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبے کو درپیش سکیورٹی خطرات پر گفتگو کی تھی، پنجاب کے عوام اللہ تعالیٰ کے بعد ان کی جانب دیکھ رہے ہیں، اس لیے حکومت سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے اربوں روپے خرچ کررہی ہے۔
انہوں نے صوبے کی سرحدی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کچے کا علاقہ کئی دہائیوں سے جرائم کا گڑھ بنا ہوا تھا، فوج اور سندھ حکومت کے تعاون سے وہاں حالات کو قابو میں لایا گیا ہے، انہیں ہمسایہ ممالک سے کم جبکہ ہمسایہ صوبوں سے زیادہ خطرہ ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کے مطابق صوبے کے بارڈر ایریاز سے سکیورٹی تھریٹس آتے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے جوائنٹ چیک پوسٹوں کو مضبوط بنایا گیا ہے، پنجاب میں قائم کیا جانے والا انٹیلیجنس ہب سکیورٹی اداروں کے درمیان رابطہ کاری کا اہم مرکز ثابت ہوگا اور اس کے ذریعے معلومات کے تبادلے اور سکیورٹی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جاسکے گا۔
مریم نواز کے اس بیان کے بعد خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے، جس سے دونوں صوبائی حکومتوں کے درمیان سکیورٹی اور دہشتگردی کے معاملے پر سیاسی اختلافات مزید نمایاں ہوگئے ہیں۔ دونوں جانب سے ایک دوسرے کی پالیسیوں اور کارکردگی پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے جبکہ دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے تناظر میں وفاق اور صوبوں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کو اہم قرار دیا جارہا ہے۔















