راولپنڈی: بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن راولپنڈی کے نویں جماعت کے امتحانات کے نتائج نے سرکاری اسکولوں کی تعلیمی کارکردگی پر سوالات کھڑے کردیے، جہاں 81 سرکاری اسکولوں کا نتیجہ صفر فیصد رہا ہے جبکہ مجموعی طور پر 184 اسکول ایسے ہیں جہاں نویں جماعت کا کوئی طالب علم کامیاب نہیں ہوسکا۔
رپورٹ کے مطابق راولپنڈی بورڈ کے زیر اہتمام نویں جماعت کے سالانہ امتحانات میں بڑی تعداد میں طلبہ نے شرکت کی، کامیابی کا مجموعی تناسب بھی توقعات کے برعکس انتہائی کم رہا۔ امتحان میں ایک لاکھ 21 ہزار 739 طلبہ شریک ہوئے، جن میں سے صرف 45 ہزار 724 طلبہ کامیاب قرار پائے۔
راولپنڈی بورڈ کے نویں جماعت کے امتحانات میں کامیابی کا مجموعی تناسب 37.56 فیصد رہا، جس کا مطلب ہے کہ امتحان دینے والے نصف سے بھی کم طلبہ کامیاب ہوسکے جبکہ بڑی تعداد میں طلبہ کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صفر فیصد نتائج دینے والے 184 اسکولوں میں 81 سرکاری اسکول بھی شامل ہیں۔ ان اسکولوں میں زیر تعلیم طلبہ میں سے کوئی بھی طالب علم نویں جماعت کے امتحان میں کامیاب نہیں ہوسکا، جس پر محکمہ تعلیم کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
صفر فیصد نتیجہ دینے والے سرکاری اسکولوں کی تعداد کے اعتبار سے ضلع راولپنڈی پہلے نمبر پر ہے جبکہ اٹک دوسرے اور چکوال تیسرے نمبر پر ہے۔ مختلف اضلاع کے سرکاری اسکولوں کی کارکردگی سامنے آنے کے بعد متعلقہ حکام نے تعلیمی معیار، تدریسی عملے کی کارکردگی اور طلبہ کی امتحانی تیاری کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق صفر فیصد نتائج والے سرکاری اسکولوں کے سربراہان کے خلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ متعلقہ حکام کی جانب سے اسکول سربراہان سے ناقص نتائج کے حوالے سے وضاحت طلب کیے جانے اور ان کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا امکان ہے۔
راولپنڈی بورڈ کے حالیہ نتائج نے سرکاری اسکولوں میں تعلیمی معیار بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت کو بھی اجاگر کردیا ہے۔ خاص طور پر ان اسکولوں میں جہاں مسلسل کم یا صفر فیصد نتائج سامنے آرہے ہیں، وہاں اساتذہ کی تربیت، طلبہ کی اضافی تعلیمی معاونت، حاضری کی نگرانی اور امتحانی تیاری کے لیے خصوصی پروگرام شروع کیے جانے کی ضرورت پر زور دیا جارہا ہے۔
دوسری جانب صفر فیصد نتائج والے اسکولوں کے سربراہان کے خلاف کارروائی کے فیصلے سے متعلقہ اداروں کی جانب سے تعلیمی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے احتساب کا عمل شروع ہونے کی توقع ہے۔ حکام کی جانب سے نتائج کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ذمہ دار افسران اور اسکول سربراہان کے خلاف قواعد کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
راولپنڈی بورڈ کے نویں جماعت کے امتحان میں مجموعی طور پر 37.56 فیصد کامیابی کا تناسب بھی تعلیمی حلقوں کے لیے باعث تشویش قرار دیا جارہا ہے۔ ایک لاکھ 21 ہزار 739 میں سے صرف 45 ہزار 724 طلبہ کی کامیابی کے بعد تعلیمی اداروں میں امتحانی نتائج بہتر بنانے کے لیے فوری اور مؤثر حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت مزید نمایاں ہوگئی ہے۔















