ہم نہ ہوں گے چمن میں جشن بہاراں  ہوگا

کیپٹن محمد سرور شہید
میجر شبیر شریف شہید
میجر طفیل محمد شہید
سوار محمد حسین شہید
میجر راجہ عزیز بھٹی شہید
لانس نائیک محمد محفوظ شہید
میجر اکرم شہید
کیپٹن کرنل شیر خان شہید
پائلیٹ آفیسرراشد منہاس شہید
حوالدار لالک جان شہید

اور وہ تمام گمنام سپاہی جنھوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ان سب کی جانب سےیہ جملہ(ہم نہ ہوں گے چمن میں جشن بہاراں  ہوگا)تصوراتی سماعتوں سے ٹکرا تا ہے۔

آج اَلْحَمْدُلِلہ ہم ایٹمی طاقت  ہیں، پاکستانی فوج  بہترین  فوج ہے۔اَلْحَمْدُلِلّٰه ہمرا دفاع مضبوط ہے۔ لیکن یہ جشن بہاراں دیکھنے کے لئے وہ آنکھیں نہیں ہیں جنہوں نے خواب سجائے تھے۔ جشن بہاراں سے لطف اندوز نہیں ہو سکتے۔ اب اس جشن بہاراں کو ہمیں زو افشانی بخشنی ہے۔

6ستمبر 1965کا سورج مختلف  انداز سے طلوع  ہوا دشمن نے اچانک حملہ کر دیا پاک فوج  کے جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر دشمن کے دانت کھٹے کر دیئے، دشمن نے اپنی پالیسی  بدلی اندر سے نقب لگائی اور جڑوں کو  کھوکھلا کرنا شروع کردیا۔اوراس قدر کمزور کردیا کہ 1970میں ایک بازو کٹ گیا۔

جغر افیائی سرحدوں کی حفاظت اَلْحَمْدُلِلہ بہترین  ہو رہی ہے۔ نظریاتی  سرحوں کی حفاظت  ہماری  ذمہ داری ہے، جو ہمیں احسن طریقہ سے انجام دینی چاہئے۔

ریاست کے لئے اہم ترین عدالت، پارلیمنٹ، فوج اور میڈیا ہے۔یہی ریاست کے ستون ہیں۔ ان پر ریاست کی عمارت کھڑی ہے۔اگر ان میں سے ایک بھی کمزور ہو جائے تو عمارت ڈھ جا تی ہے۔ ان تمام میں توازن ضروری ہے۔ اگر توازن نہیں ہو گا تو انار کی پھیلے گی، بے شمار مسائل جنم لیں گے۔ توازن قائم رکھنا حکمراں  کی ذمہ داری ہے۔

حکمراں میں لیڈر شپ کی تمام صلاحیتیں ہونی چاہیں، جو کہ  صرف جماعت اسلامی  کے پاس ہے۔ اسی لیے، جماعت اسلامی شعور بیدار کرتی ہے،آئی پی پیزکو اس سے پہلے کوئی نہیں جانتا تھا، پیٹرول لیوی کوئی نہیں جانتا تھا سب جماعت اسلامی نے بتایا شعور بیدار کیا۔ وہ مسائل کی نہ صرف نشاندہی کرتی ہے بلکہ مسائل کا حل بھی بتاتی ہے۔

“حل صرف جماعت اسلامی”

   اب ہم دشمن کو نقب لگانے نہیں دیں گے ان شاءاللہ ہر مقام سے، ہر جگہ سے، ہر طرح سے  اپنے ملک کا دفاع کریں گے۔ ہم إن شاءاللہ اپن تہذیب، ثقافت، اقدارکی حفاظت کریں، پاک فوج  کے شانہ بشانہ ملک کا دفاع مضبوط بنائیں گے۔
اللہ ہمارا حامی وناصر ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مزید پڑھیں

Scroll to Top