پاکستان نے ستمبر میں ایل این جی کے لیے تیسری بار ٹینڈر جاری کردیا

lng

اسلام آباد: پاکستان نے ستمبر میں ایل این جی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے تیسری مرتبہ ٹینڈر جاری کردیا، جس کے تحت عالمی کمپنیوں سے ایل این جی کارگو کی فراہمی کے لیے بولیاں طلب کی گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق پاکستان ایل این جی لمیٹڈ کی جانب سے جاری کیے گئے ٹینڈر میں ستمبر کے دوران 12 سے 16 ستمبر تک ایل این جی کارگو کی ڈلیوری کا کہا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے عالمی سطح پر ایل این جی سپلائی کرنے والی کمپنیوں سے مسابقتی بولیاں طلب کی گئی ہیں۔

ٹینڈر کے مطابق ایل این جی کارگو کی فراہمی میں دلچسپی رکھنے والی عالمی کمپنیوں کو اپنی بولیاں جمع کرانے کے لیے 8 ستمبر تک کا وقت دیا گیا ہے۔ موصول ہونے والی تمام بولیاں بھی 8 ستمبر ہی کو کھولی جائیں گی، جس کے بعد قیمت اور دیگر شرائط کا جائزہ لے کر موزوں بولی کا انتخاب کیا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے ایل این جی کی خریداری کے لیے نئے ٹینڈر کا اجرا ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب رواں ماہ اس سے قبل بھی دو مرتبہ ایل این جی کارگو کی خریداری کے لیے بولیاں طلب کی گئی تھیں، دونوں مواقع پر موصول ہونے والی بولیاں مہنگی ہونے کے باعث مسترد کردی گئی تھیں۔

حکام کی جانب سے مہنگی بولیوں کو مسترد کیے جانے کے بعد اب تیسری مرتبہ عالمی مارکیٹ سے ایل این جی کارگو کے حصول کی کوشش کی جارہی ہے۔ نئے ٹینڈر کا مقصد مناسب اور مسابقتی قیمت پر ایل این جی حاصل کرنا ہے تاکہ ملک کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ درآمدی گیس کی لاگت کو بھی ممکنہ حد تک کم رکھا جاسکے۔

پاکستان میں ایل این جی کی طلب بجلی کی پیداوار، صنعتی ضروریات اور گیس کے نظام میں طلب و رسد کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے اہم ہے۔ عالمی مارکیٹ میں ایل این جی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث پاکستان کو کارگو کی خریداری کے لیے ٹینڈرز میں قیمتوں کا محتاط جائزہ لینا پڑتا ہے۔

رواں ماہ پہلے دو ٹینڈرز میں مطلوبہ قیمت نہ ملنے کے بعد انہیں منسوخ کیا گیا تھا، اب نئے ٹینڈر کے ذریعے حکومت ایک مرتبہ پھر عالمی سپلائرز سے مسابقتی نرخوں پر ایل این جی حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ ایل این جی کارگو کی بروقت دستیابی پاکستان کے توانائی کے شعبے کے لیے اہمیت رکھتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب گیس اور بجلی کی طلب میں اضافہ ہوتا ہے۔ 8 ستمبر کو بولیاں کھولے جانے کے بعد یہ واضح ہوگا کہ عالمی سپلائرز پاکستان کو ایل این جی کس قیمت پر فراہم کرنے کی پیشکش کرتے ہیں اور آیا تیسری کوشش میں حکومت مطلوبہ نرخ پر کارگو حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں۔

مزید خبریں

Scroll to Top