کے پی میں عملاً کوئی حکومت نہیں، ہم سے بھی بھتہ مانگا جاتا ہے، مولانا فضل الرحمن

maulana-fazlur-rehman

لاہور: جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خیبر پختونخوا کی امن و امان کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہے، 2 صوبوں میں امن و امان تباہ ہوچکا ہے، خیبر پختونخوا میں عملاً کوئی حکومت نہیں اور ان سے بھی بھتہ مانگا جاتا ہے۔

لاہور میں سینئر صحافیوں کے ساتھ سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب ہے اور دہشتگردی کے ساتھ ساتھ بھتہ خوری بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے، ان کے بیٹوں اور بھتیجوں پر بھی حملے کیے گئے کیونکہ وہ بھتہ نہیں دیتے۔

جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال پر پارلیمنٹ کو سنجیدگی سے کردار ادا کرنا چاہیے،انہوں نے 2 مرتبہ پارلیمنٹ میں ان کیمرہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا، تاہم ان کا مطالبہ تسلیم نہیں کیا گیا،حساس نوعیت کے سکیورٹی معاملات پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا ضروری ہے تاکہ ملک کو درپیش چیلنجز پر مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جاسکے۔

مولانا فضل الرحمن نے ملکی معیشت اور سرمایہ کاری کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں نہ پاکستانی سرمایہ کاری کررہے ہیں اور نہ ہی بیرون ملک سے سرمایہ کار آرہے ہیں،ملک میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے سیاسی استحکام اور امن و امان بنیادی ضرورت ہیں، لیکن موجودہ حالات میں دونوں شعبوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تجارت کا ایک اہم دارومدار وسط ایشیائی ریاستوں پر تھا، موجودہ صورتحال کے باعث یہ تجارت بھی متاثر ہوکر رہ گئی ہے،پاکستان سے سبزیاں اور پھل وسط ایشیائی ممالک کو برآمد کیے جاتے تھے، مگر اب یہ سلسلہ بھی تقریباً ختم ہوگیا ہے، جس سے مقامی تاجروں، کسانوں اور برآمد کنندگان کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

جے یو آئی سربراہ نے پارلیمنٹ کی تشکیل پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ موجودہ پارلیمنٹ دھاندلی کے نتیجے میں بنی ہے،این ایف سی ایوارڈ بھی حکمرانوں سے ہضم نہیں ہورہا، حالانکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی منصفانہ تقسیم ملک کے انتظامی اور معاشی نظام کے لیے انتہائی اہم ہے۔

معدنی ذخائر کے معاملے پر بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملک میں موجود معدنی وسائل سے متعلق معاملات کو عوام کے سامنے لاکر شفاف انداز میں طے کیا جانا چاہیے، معدنی ذخائر میں وفاق، صوبوں اور عوام کا حصہ واضح اور متعین ہونا چاہیے تاکہ وسائل کی تقسیم پر کسی قسم کے ابہام یا تنازع کی گنجائش نہ رہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملک میں اختیارات کی درست تقسیم نہ ہونے کی وجہ سے عوامی مسائل میں اضافہ ہورہا ہے۔ وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کے درمیان اختیارات واضح طور پر تقسیم کیے جائیں تو بہت سے مسائل مقامی سطح پر ہی حل ہوسکتے ہیں،اختیارات اور وسائل کو نچلی سطح تک منتقل کرنا مؤثر طرز حکمرانی کے لیے ضروری ہے۔

26ویں آئینی ترمیم سے متعلق مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جے یو آئی نے اس معاملے میں اہم کردار ادا کیا اور مذاکرات کے دوران حکومتی فریق کو 35 شقوں سے دستبردار کرایا،یہ پیش رفت جے یو آئی اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان اشتراک اور مشاورت کا نتیجہ تھی۔

انہوں نے بتایا کہ مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کے لیے جے یو آئی نے پی ٹی آئی کے ساتھ پارلیمنٹ میں الائنس بھی تشکیل دیا تھا۔ ان کے مطابق مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات اپنی جگہ، قومی اور آئینی معاملات پر مشترکہ مؤقف اختیار کرنا جمہوری عمل کا حصہ ہے۔

جے یو آئی سربراہ نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے متعلق اپنے سابقہ مؤقف پر بھی بات کی اور کہا کہ وہ محسن نقوی کے حوالے سے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہیں،سیاسی معاملات میں بعض اوقات رائے قائم کرنے میں غلطی ہوسکتی ہے اور وہ اس معاملے میں اپنی غلطی تسلیم کرتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے حوالے سے بھی دلچسپ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جو ان کا ذہن ہے وہی نواز شریف کا ذہن ہے، فرق صرف یہ ہے کہ وہ اپنی بات کا اظہار کررہے ہیں جبکہ نواز شریف خاموش ہیں۔

مزید خبریں

Scroll to Top