جھکنے پر سر درد بڑھ جائے تو اسے معمولی تھکن سمجھ کر نظر انداز نہ کریں

headache2

سر درد روزمرہ زندگی میں پیش آنے والی ایک عام شکایت ہے، جسے اکثر لوگ تھکن، نیند پوری نہ ہونے یا موسم میں تبدیلی سے جوڑ کر نظر انداز کردیتے ہیں۔ تاہم اگر سر کو آگے کی جانب جھکانے، کھانسنے یا زور لگانے سے درد کی شدت نمایاں طور پر بڑھنے لگے تو اس کی ممکنہ وجہ جاننا ضروری ہے۔

صحت سے متعلق معلومات فراہم کرنے والے ادارے کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ہر بار جھکنے پر سر درد کا بڑھ جانا کسی سنگین بیماری کی علامت نہیں ہوتا، لیکن بار بار ایسی کیفیت پیدا ہونا اس بات کی طرف اشارہ کرسکتا ہے کہ مسئلے کی کوئی مخصوص وجہ موجود ہے۔

سائنوس میں سوجن بھی درد بڑھا سکتی ہے

ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق جھکنے کے دوران سر درد میں اضافے کی ایک عام وجہ سائنوس کا مسئلہ بھی ہوسکتا ہے۔ نزلہ، الرجی یا انفیکشن کے باعث ناک، پیشانی اور چہرے کے اطراف موجود سائنوس میں سوجن پیدا ہونے کے ساتھ بلغم جمع ہوجاتا ہے، جس سے ان حصوں میں دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

ایسی صورت میں جب کوئی شخص آگے کی جانب جھکتا ہے تو چہرے اور سر کے اندر دباؤ کا احساس مزید نمایاں ہوسکتا ہے اور درد کی شدت بڑھ جاتی ہے۔ اگر سر درد کے ساتھ ناک بند ہو، نزلہ ہو، چہرے پر بھاری پن محسوس ہو یا آنکھوں اور پیشانی کے اطراف دباؤ محسوس ہوتا ہو تو سائنوس کا مسئلہ اس کی ممکنہ وجہ ہوسکتا ہے۔

تاہم صرف ناک بند ہونے یا چہرے پر دباؤ محسوس ہونے کی بنیاد پر خود تشخیص کرنا مناسب نہیں، کیونکہ سر درد کی دیگر وجوہات بھی ہوسکتی ہیں۔

مائیگرین میں بھی پوزیشن بدلنے سے درد بڑھ سکتا ہے

مائیگرین بھی ان وجوہات میں شامل ہے جن میں جسم کی پوزیشن تبدیل کرنے یا جھکنے سے سر درد زیادہ محسوس ہوسکتا ہے۔ مائیگرین کا درد عموماً دھڑکن کی طرح محسوس ہوتا ہے اور بعض افراد میں اس کے ساتھ متلی یا قے کی کیفیت بھی پیدا ہوسکتی ہے۔

کچھ افراد کو مائیگرین کے دوران تیز روشنی اور شور برداشت کرنا مشکل ہوجاتا ہے، جبکہ بعض لوگوں کو عارضی طور پر نظر سے متعلق مسائل کا بھی سامنا ہوسکتا ہے۔

چونکہ مائیگرین کے دوران بھی بعض افراد کو ناک بند ہونے جیسی علامات ہوسکتی ہیں، اس لیے اسے صرف سائنوس کا درد سمجھ لینا درست نہیں۔ مسلسل یا بار بار ہونے والے سر درد کی اصل وجہ جاننے کے لیے طبی معائنہ زیادہ بہتر طریقہ ہے۔

جسم میں پانی کی کمی بھی سر درد پیدا کرسکتی ہے

سر درد کی ایک اور عام وجہ جسم میں پانی کی کمی ہے۔ اگر کوئی شخص دن بھر مناسب مقدار میں پانی نہ پیے، شدید گرمی یا ورزش کے دوران بہت زیادہ پسینہ آئے، یا الٹی اور دست کی وجہ سے جسم سے پانی اور نمکیات کی مقدار کم ہوجائے تو سر درد کی شکایت ہوسکتی ہے۔

ایسی صورت میں جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی پوری کرنا ضروری ہے۔ اگر مناسب مقدار میں پانی پینے اور آرام کرنے کے باوجود سر درد برقرار رہے، بار بار ہو یا اس کی شدت بڑھتی جائے تو اسے صرف پانی کی کمی سے منسوب نہیں کرنا چاہیے بلکہ ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔

بعض حالات میں سر کے اندر دباؤ بڑھنے کا مسئلہ بھی ہوسکتا ہے

بہت کم صورتوں میں جھکنے، کھانسنے یا زور لگانے کے دوران سر درد کا بڑھ جانا کھوپڑی کے اندر دباؤ میں اضافے سے بھی تعلق رکھ سکتا ہے۔ بعض دماغی بیماریوں، انفیکشن، خون بہنے یا دماغ کے گرد موجود سیال کی روانی میں خرابی کے نتیجے میں اندرونی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

ایسی صورت میں سر درد صبح کے وقت زیادہ محسوس ہوسکتا ہے یا جھکنے، کھانسنے اور زور لگانے سے اس کی شدت بڑھ سکتی ہے۔ تاہم اس علامت کی موجودگی کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ کوئی خطرناک بیماری موجود ہے، البتہ غیر معمولی، مسلسل یا بار بار ہونے والے درد کو نظر انداز کرنا بھی مناسب نہیں۔

اچانک شدید ترین سر درد کی صورت میں فوری طبی امداد ضروری

اگر سر درد اچانک انتہائی شدت کے ساتھ شروع ہو اور مریض اسے زندگی کا شدید ترین سر درد قرار دے تو گھر پر انتظار کرنے کے بجائے فوری طبی امداد حاصل کرنی چاہیے۔

خصوصاً اگر سر درد کے ساتھ جسم کے کسی حصے میں کمزوری یا سن پن، بولنے میں دشواری، بے ہوشی، نظر میں خرابی، شدید متلی یا گردن میں اکڑاؤ جیسی علامات بھی ظاہر ہوں تو فوری طبی معائنہ ضروری ہوجاتا ہے۔

اسی طرح اگر کسی شخص کو ماضی میں اس نوعیت کا درد کبھی نہ ہوا ہو اور اچانک جھکنے یا کھانسنے سے شدید سر درد شروع ہوجائے، درد مسلسل بڑھتا رہے یا بار بار واپس آتا رہے تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

ہر بار جھکنے سے بڑھنے والا سر درد خطرناک بیماری کی نشاندہی نہیں کرتا، لیکن جسم میں پیدا ہونے والی غیر معمولی علامات کو نظر انداز کرنا بھی درست نہیں۔ اگر یہ کیفیت بار بار پیش آرہی ہو تو محض درد کم کرنے والی دوا استعمال کرکے اسے دبانے کے بجائے اس کی بنیادی وجہ معلوم کرنا زیادہ اہم ہے۔

مزید خبریں

Scroll to Top