ٹیکنالوجی کے عالمی ادارے گوگل نے اپنی مقبول خدمات جی میل، ڈاکس اور کیپ میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی نئے صوتی فیچر متعارف کرا دیے ہیں، جن کے ذریعے صارفین اب ٹائپ کرنے کے بجائے مصنوعی ذہانت کے معاون سے بات چیت کرکے اپنی مطلوبہ معلومات حاصل اور مختلف کام انجام دے سکیں گے۔
ٹیکنالوجی سے متعلق معلومات فراہم کرنے والے ادارے کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق گوگل کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ نئے فیچرز کے تحت صارفین جی میل میں اپنے برقی مراسلات، ڈاکس میں موجود دستاویزات اور کیپ میں محفوظ مواد سے متعلق براہ راست سوالات کرسکیں گے جبکہ مصنوعی ذہانت ان کے سوالات کو سمجھ کر متعلقہ معلومات فراہم کرے گی۔
گوگل نے ان فیچرز کا ابتدائی مظاہرہ مئی 2026 میں منعقد ہونے والی اپنی سالانہ کانفرنس کے موقع پر کیا تھا جبکہ اب انہیں صارفین کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔ کمپنی نے جی میل، ڈاکس اور کیپ کے لیے ان سہولیات کو بالترتیب جی میل لائیو، ڈاکس لائیو اور کیپ لائیو کا نام دیا ہے۔
جی میل میں نیا فیچر صارفین کو روایتی انداز میں تلاش کرنے کی ضرورت سے بڑی حد تک نجات دے گا۔ اب وہ تلاش کے خانے میں الفاظ درج کرنے کے بجائے جیمنائی پر مبنی مصنوعی ذہانت کے معاون سے اپنے ان باکس میں موجود مواد کے بارے میں سوال کرسکیں گے۔
مصنوعی ذہانت کے معاون کے ساتھ گفتگو کے دوران صارف کو بات چیت کا براہ راست تحریری ریکارڈ بھی دکھائی دے گا، جس سے اسے گفتگو کے دوران فراہم کی جانے والی معلومات کو سمجھنے اور دوبارہ دیکھنے میں آسانی ہوگی۔
دوسری جانب گوگل ڈاکس میں یہ سہولت تحریری کام کو آسان بنانے پر مرکوز ہے۔ صارف مصنوعی ذہانت کے معاون کو صرف یہ بتا سکے گا کہ وہ کس موضوع پر کیا تحریر کرنا چاہتا ہے، جس کے بعد معاون ابتدائی مسودہ تیار کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔
خصوصی بات یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت مسودہ تیار کرتے وقت صرف ڈاکس میں موجود مواد تک محدود نہیں رہے گی بلکہ جی میل، ڈرائیو، چیٹ اور ویب سے متعلقہ معلومات حاصل کرکے زیادہ جامع مسودہ تیار کرنے میں مدد دے سکے گی۔
تاہم یہ تمام سہولیات ہر صارف کے لیے دستیاب نہیں ہوں گی۔ جی میل لائیو کا استعمال گوگل اے آئی پلس، پرو اور الٹرا کے صارفین کرسکیں گے، جبکہ ڈاکس لائیو اور کیپ لائیو کی سہولت صرف گوگل اے آئی پرو اور الٹرا صارفین کے لیے فراہم کی جائے گی۔
گوگل کی جانب سے ان سہولیات کا اجرا اس رجحان کی بھی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت کمپنی اپنی مختلف خدمات میں مصنوعی ذہانت کو محض تحریری معاون کے بجائے براہ راست گفتگو اور روزمرہ کاموں میں مدد دینے والے معاون کے طور پر شامل کررہی ہے۔















