مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے کی معروف کمپنی اوپن اے آئی نے اعتراف کیا ہے کہ اس کے مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس نے بعض تجربات کے دوران ایسی وکی ویب سائٹس کو عارضی پیغام رسانی کے ذریعے کے طور پر استعمال کیا جنہیں عام صارفین مل کر چلاتے اور ان میں ترمیم کرتے ہیں۔
ٹیکنالوجی سے متعلق معلومات فراہم کرنے والے ادارے کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق رواں سال کے آغاز میں اوپن اے آئی کے متعدد مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس نے جرمنی میں موجود ایک ایسی ویب سائٹ کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، جس کے مواد میں صارفین اجتماعی طور پر ترمیم کرسکتے ہیں۔
ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس نے بعض تجربات کے دوران مذکورہ ویب سائٹ کو دھوکا دہی کے لیے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کیا، جبکہ ان کی جانب سے دیگر ایسی سرگرمیاں بھی سامنے آئیں جو کمپنی کی جانب سے متوقع طرز عمل سے مختلف تھیں۔
اوپن اے آئی کو جرمن ویب سائٹ سے متعلق اس واقعے کا کئی ہفتے قبل ہی علم ہوگیا تھا، تاہم کمپنی نے اس بارے میں فوری طور پر عوام کو آگاہ نہیں کیا۔ اس عرصے میں کمپنی ایک دوسرے واقعے کے اثرات کا جائزہ بھی لے رہی تھی، جس میں ایک مصنوعی ذہانت کے ایجنٹ نے ’ہگنگ فیس‘ نامی پلیٹ فارم پر کئی روز تک ہیکنگ سے متعلق سرگرمیاں انجام دی تھیں اور کمپنی کو بروقت اس سرگرمی کا علم نہیں ہوسکا تھا۔
رپورٹ کے مطابق اوپن اے آئی نے اس معاملے پر فوری طور پر ان سوالات کا جواب نہیں دیا کہ کمپنی کو جرمن ویب سائٹ سے متعلق واقعے کی اطلاع کب ملی، اسے اس واقعے کے بارے میں کتنی معلومات حاصل تھیں اور معاملے کو عوامی سطح پر سامنے لانے میں تاخیر کی وجہ کیا تھی۔
بعد ازاں اوپن اے آئی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں اس معاملے پر اپنی پالیسی اور طریقہ کار سے متعلق مؤقف واضح کیا۔ کمپنی نے اعتراف کیا کہ مصنوعی ذہانت کے ایسے غیر ارادی اور غیر متوقع رویوں سے متعلق واقعات میں کمپنیوں کو پہلے سے زیادہ شفافیت اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔
کمپنی کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی صلاحیتیں ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکی ہیں، اس لیے ایسے رویوں سے متعلق معلومات عوام کے سامنے لانے کے موجودہ طریقہ کار کو بھی مزید وسیع اور مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔
مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایسے رویوں کو عموماً ’مس الائنمنٹ‘ کہا جاتا ہے۔ اس اصطلاح سے مراد ایسی صورت حال ہے جب مصنوعی ذہانت کا نظام انسانوں کی جانب سے طے کردہ ہدایات، مقاصد یا حدود کے مطابق کام کرنے کے بجائے کوئی ایسا راستہ اختیار کرلے جو اس کے تخلیق کاروں کی توقع کے برعکس ہو۔
یہ مسئلہ خاص طور پر ایسے مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس کے حوالے سے اہمیت اختیار کر رہا ہے جو محض سوالات کے جواب دینے کے بجائے خود مختلف کام انجام دینے، ویب سائٹس استعمال کرنے، معلومات حاصل کرنے اور متعدد مراحل پر مشتمل کام مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اوپن اے آئی نے اس حوالے سے ایک اور اہم مسئلے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی صنعت میں فی الحال اس بارے میں کوئی متفقہ اور واضح معیار موجود نہیں کہ تربیت، جانچ اور عملی تعیناتی کے دوران سامنے آنے والے مصنوعی ذہانت کے غیر متوقع رویوں یا مس الائنمنٹ کے واقعات کی اطلاع کس طریقے سے دی جانی چاہیے۔
کمپنی کے مطابق موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی بڑھتی ہوئی خودمختاری اور پیچیدگی کے باعث ایسے واقعات کی نشاندہی، دستاویز بندی اور عوامی سطح پر اطلاع دینے کے لیے زیادہ واضح اصول وضع کرنا ضروری ہوگیا ہے۔
اوپن اے آئی نے بتایا کہ وہ ان معاملات سے نمٹنے اور مناسب اصول و ضوابط کی تشکیل کے لیے دنیا بھر میں درجنوں حکومتی نگران اداروں کے ساتھ بھی کام کر رہی ہے۔
حالیہ واقعات نے مصنوعی ذہانت کے خودکار نظاموں کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کے ساتھ جڑے ان خدشات کو بھی نمایاں کردیا ہے کہ اگر ایسے نظام طے شدہ مقصد سے ہٹ کر اپنے لیے مختلف راستے اختیار کرنے لگیں تو ان کے رویوں کی نگرانی اور بروقت نشاندہی کس قدر اہم ہوسکتی ہے۔















