لاہور (صباح نیوز)نائب امیر جماعت اسلامی، مجلس قائمہ سیاسی قومی اْمور کے صدر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ دھرنے اور مذاکرات بیک وقت جاری رہیں گے ، حکومت اور مقتدر طبقوں کو مائنڈ سیٹ بدل کر عوام کو ریلیف دینا ترجیح بنانا ہوگا،جماعت اسلامی نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے مطالبہ کو غیرآئینی نہیں جانتی، آئین کے طے کردہ طریقہ کار پر عمل کیا جائے۔لاہور دھرنا مال روڈ کے شرکاسے خطاب کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج، ہڑتال اور دھرنا عوام کو اقتصادی بحران سے نجات دِلانے اور بگڑی اشرافیہ کی ہولناک مراعات، عیاشیوں اور مفت خوری سے نجات کے لیے ہے۔ دھرنے، احتجاج اور حکومت سے پیٹرولیم لیوی بھتے کے خاتمے کے لیے مذاکرات بیک وقت جاری رہیں گے، اب یہ حکومت پر ہے کہ وہ کتنی سنجیدگی سے پیداواری لاگت کم کرکے معاشی پہیہ کو چلانے کے لیے تیار ہے۔ عالمی منڈی سے تیل کی خریداری، اْتار چڑھاؤ معمول ہے، اصل مسئلہ پیٹرولیم مصنوعات پر فی لیٹر 148 روپے ناجائز بھتا خوری کا ہے۔ جماعت اسلامی کی مذاکراتی ٹیم نے عوام کو ریلیف دِلانے اور قومی خزانے کی بہتری کے لیے سفارشات تیار کرلی ہیں، حکومت اور مقتدر طبقوں کو مائنڈ سیٹ بدل کر عوام کو ریلیف دینا ترجیح بنانا ہوگا۔نائب امیر لیاقت بلوچ نے قاضی عبدالودود کی اہلیہ کے انتقال اور جامعۃ المنظور کے مہتمم مولانا اسداللہ کی وفات پر تعزیت کی اور میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے مطالبے کو غیرآئینی نہیں جانتی، آئین کے طے کردہ طریقہ کار پر عمل کیا جائے۔ حکمران اپنی نااہلی، ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے ایشوز انجینئر کرتے ہیں۔ سندھ اسمبلی نے اپنا آئینی حق استعمال کیا اور قرارداد منظور کرلی لیکن پی پی پی نے اپنے مؤقف کے اظہار کے لیے خود کو قومی دھارے سے توڑ کر تعصبات پر مبنی مؤقف اختیار کرکے خود اپنی سیاست کی قبر کھودی ہے۔ صدر آصف علی زرداری لندن کیوں بیٹھے ہیں؟ ملک کے اندر معاملات کو حل کرنے کے بجائے عالمی مراکز کو استعمال کرنا پاکستان کی سیاست کا سیاہ باب ہے۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بااختیار مقامی حکومتوں کے نظام سے مجرمانہ فرار کا راستہ اختیار کرتی ہیں۔ سندھ حکومت سندھ میں بااختیار مقامی حکومتوں کا نظام نافذ کرنے کے لیے تیار نہیں، مسلم لیگ ن اسلام آباد اور پنجاب میں بلدیاتی اداروں کے انتخاب اور بااختیار نظام کی جانب آنے کو تیار نہیں۔ پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا میں بلدیاتی اداروں سے اختیارات چھین لیے، بااختیار بلدیاتی نظام دینے پر آمادہ نہیں ہیں۔ بلوچستان میں اتحادی حکومت بھی بلوچستان کے عوام کو بااختیار مقامی حکومتوں کا نظام دے کر ریلیف دینے کا ذہن ہی نہیں رکھتی۔ وزرا نئے صوبوں کی بات تو کررہے ہیں، وہ پہلے بااختیار مقامی حکومتوں کا نظام تو لائیں۔ مقامی حکومتیں عوامی نمائندگی اور عوام کو دہلیز پر شہری حقوق دینے کا پائیدار نظام ہوتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی حکومتوں نے ہمیشہ بااختیار مقامی حکومتوں کے نظام پر شب خون مارا ہے۔ جماعت اسلامی بااختیار مقامی حکومتوں کا نظام چاہتی ہے۔















