قانون تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے خلاف سازش ناقابل قبول ہے،ابو الخیر زبیر

حیدرآباد(نمائندہ جسارت) جمعیت علماء پاکستان و ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے ڈپٹی کمشنر حیدرآباد زین العابدین میمن کی جانب سے ڈی سی آفس حیدرآبادمیں منعقدہ محفلِ میلاد مصطفی ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں صرف میلاد کی محافل دفاترتک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ اپنے گھروں میں بھی درود و سلام کی محافل قائم کرنی چاہییںکیونکہ میلاد مصطفی ﷺ کی محافل محبت، رحمت اور امن کا پیغام دیتی ہیں۔ آج ملک میںبے امنی، دہشت گردی اور لاقانونیت نے عوام کو پریشان کر رکھا ہے، بلوچستان سمیت مختلف علاقوں میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے جبکہ سندھ میں بھی ڈاکو راج اور جرائم کے باعث شہری عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ میلاد مصطفی ﷺ کے پیغامِ محبت و رحمت کو عام کریں اور اللہ تعالیٰ سے ملک میں حقیقی امن و سلامتی کی دعا کریں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ناموسِ رسالت ﷺ اور قانونِ تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ کے خلاف کسی بھی قسم کی سازش ناقابلِ قبول ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کرے جو ملک کے امن، مذہبی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانونِ تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ مسلمانوں کے ایمان اور عقیدے کا معاملہ ہے، اسے کسی صورت معمولی مسئلہ نہ سمجھا جائے۔ قانونِ تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ کی منظوری کے تاریخی پس منظر کا ذکر کرتے ہوئے صاحبزادہ زبیر نے کہا کہ ہمارے قائد علامہ شاہ احمد نورانیؒ نے قومی اسمبلی میں اس قانون کے لیے بھرپور کردار ادا کیا۔اس قانون کی منظوری کے وقت ذوالفقار علی بھٹو نے بھی اس بات کو تسلیم کیا کہ ختمِ نبوت ﷺ اور ناموسِ رسالت ﷺ مسلمانوں کے لیے بنیادی عقیدے کا مسئلہ ہے۔ قانونِ تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ کی حفاظت کرنا ہر حکومت اور ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے۔

مزید خبریں

Scroll to Top